فکر و خیالات

موجودہ نظامِ حکومت کے قول اور فعل میں تضاد، گھر کے باہر ’وسودھیو کٹمبکم‘ اور گھر کے اندر ’بلڈوزر‘... آکار پٹیل

خلیجی ممالک اور شمالی کوریا کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا انہیں غیر جمہوری کہتی ہے، کیونکہ انہوں نے کبھی جمہوری ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/MEAIndia">@MEAIndia</a></p></div>

تصویر سوشل میڈیا ’ایکس‘ @MEAIndia

 

میرا استدلال یہ ہے کہ ہندوتوا کے زیر اثر ہندوستان ابھی پوری طرح ایک فرقہ وارانہ ملک نہیں بن پایا ہے۔ میں اس موضوع پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں، لیکن میرا بنیادی استدلال یہ ہے کہ 2008 سے پہلے نیپال اسمرتیوں میں بیان کردہ مذہبی اصولوں کو قانون بنا کر ’ہندو راشٹر‘ کے حقیقی اور مکمل تصور کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہا تھا۔ یہی صورت حال ہندوستان پر بھی نافذ ہوتی ہے۔ یہ ایک ساختیاتی مسئلہ ہے، جس کا حل ممکن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی مثالی ریاست کے بارے میں گرو گولوالکر کے خیالات اور ان کے تصورات بی جے پی کے انتخابی منشوروں کا حصہ نہیں بنتے۔

اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ریاست یعنی نظام حکمرانی کا ڈھانچہ اپنے اندر سیکولر اور غیر فرقہ وارانہ بنے رہنے کا ایک فطری رجحان برقرار رکھتا ہے۔ ہم اسے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب حکومت بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ کرتی ہے تو اس کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔ جب ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ دنیا کو نصیحتیں دینے اور اس سے عزت و اعزاز حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک دورے کرتے ہیں تو وہاں ان کی زبان اور بیانات ویسے نہیں ہوتے، جیسے وہ ہندوستان کے اندر دیتے ہیں۔ وہ ’وسودھیو کٹمبکم‘ اور ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ دنیا کو یہ نہیں بتاتے کہ ہندوستان کے اندر ان کی پالیسی میں بلڈوزر، گائے کے گوشت کے نام پر موب لنچنگ، سی اے اے-این آر سی اور ’لو جہاد‘ شامل ہیں۔ وہ اقوام متحدہ اور دیگر پلیٹ فارموں پر نہرو وادی لبادہ اوڑھ کر جاتے ہیں۔

’ہرمیٹ کریب‘ (ایک قسم کا کیکڑا) نام کا ایک جاندار ہوتا ہے۔ اس کا اپنا کوئی خول نہیں ہوتا، وہ کسی مردہ جاندار کا خول لے کر اسے اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دنیا کے سامنے جانے پر بی جے پی بھی نہرو وادی سیکولرزم کے ساتھ بالکل ایسا ہی کرتی ہے۔ دنیا کے سامنے وہ جس آفاقیت کی باتیں کرتے ہیں اور جس جامع نقطہ نظر کو اپنانے کا دکھاوا کرتے ہیں، وہ ملک کے اندر ان کے طرز عمل سے بالکل میل نہیں کھاتا۔ اس کی تصدیق ان تمام قوانین سے ہوتی ہے، جو انہوں نے 2015 سے اب تک مختلف برسوں میں بنائے ہیں۔ مثال کے طور پر 2015 میں گائے کے گوشت پر پابندی کو مجرمانہ شکل دینا، 2018 میں بین مذہبی شادی کو جرم کے زمرے میں لانا، 2019 میں مسلم طلاق کو جرم قرار دینا اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) سے مسلمانوں کو باہر رکھنا وغیرہ وغیرہ۔

اس سے ایک ایسی متضاد صورت حال پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ہم پر منافقت کا الزام لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، اس سے ہم پر دنیا کا ایسا دباؤ بھی پڑ سکتا ہے، جو شاید اس وقت نہ پڑتا، اگر ہم ان اقدار کا دکھاوا نہ کرتے جن پر ہم حقیقت میں یقین نہیں رکھتے۔ اگست 2019 میں ہندوستان نے کشمیریوں کے لیے انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے 4 ماہ بعد 6 دسمبر کو امریکہ میں ایک قرارداد پیش کی گئی۔

امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) مطالبہ کر رہی تھی کہ ہندوستان یہ پابندی ہٹائے۔ اس قرارداد کو پیش کرنے والی خاتون رکن کانگریس ہندوستانی نژاد تھیں۔ اسی ماہ جے شنکر واشنگٹن میں تھے اور انہیں ’ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی‘ کے ارکان سے ملاقات کرنی تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ قرارداد پیش کرنے والی رکن (ڈیموکریٹ پرمیلا جے پال) بھی اس میٹنگ میں موجود رہیں گی تو جے شنکر نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ یہ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کی بات ہے۔ اس وقت یہ بل پیش تو کیا گیا تھا، لیکن اس پر کوئی ووٹنگ نہیں ہوئی۔ جب ٹرمپ انتخاب ہار گئے اور جنوری 2021 میں جو بائیڈن نے حلف لیا تو ہندوستان نے یہ پابندی ہٹا دی۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ ہماری حکومت کو لگا کہ وہ ڈیموکریٹس کے دباؤ کا سامنا نہیں کر پائے گی۔

یورپ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ 28 جنوری 2020 کو وہاں کی پارلیمنٹ میں 5 مختلف گروپوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ایک قرارداد پیش کی، جس میں اس کی سخت مذمت کی گئی تھی۔ یہاں کے اخبارات میں خبر شائع ہوئی تھی کہ اس قرارداد کو منظور کرانے کے لیے کافی ووٹ موجود تھے۔ 17 فروری کو جے شنکر بروسلز گئے تاکہ کوئی سمجھوتہ کیا جا سکے۔ ہمیں اس کی پوری معلومات نہیں ہیں، کیونکہ یہ حکومت شفاف نہیں ہے، لیکن ہوا یہ کہ وہاں اس قرارداد پر ووٹنگ نہیں ہوئی۔ اور اگرچہ یہ قانون یہاں پہلے ہی منظور ہو چکا تھا، اس کے باوجود ہندوستان نے اگلے چار سال تک اسے نافذ نہیں کیا۔

قول اور فعل کے درمیان فرق سے پیدا ہونے والا مسئلہ کہیں اور بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال ’گلوبل الائنس آف نیشنل ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوشنز‘ نے ہمارے قومی انسانی حقوق کمیشن کا درجہ ’اے‘ سے گھٹا کر ’بی‘ کر دیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کی بنیادی وجوہات یہ تھیں کہ کمیشن آزاد نہیں تھا، پولیس کے مظالم کی تحقیقات پولیس ہی کی قیادت میں ہو رہی تھیں، اس میں تنوع کی کمی تھی اور ریاست یعنی حکومت کی جانب سے کی جانے والی منظم خلاف ورزیوں پر یہ کمیشن خاموش تھا۔

یہ تمام باتیں بالکل درست ہیں۔ ہم نے درجہ گھٹائے جانے کے خلاف اپیل کی ہے اور اس کی سماعت اگلے چند دنوں میں ہونی ہے۔ لیکن اپیل کرنے سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائیں، تاکہ ہم پر یہ دکھاوا کرنے کا الزام نہ لگے کہ ہم کچھ اور ہیں، جبکہ دنیا کو کچھ اور دکھانا چاہتے ہیں۔ اور اس پورے معاملے میں جب دنیا اس تضاد کو دیکھتی ہے اور اس کی طرف توجہ دلاتی ہے تو حکومت خود کو درست کرنے کے بجائے چڑ جاتی ہے اور بے چینی کے ساتھ ردعمل ظاہر کرنے لگتی ہے۔

اس کی چند مثالیں ہیں۔ فریڈم ہاؤس کی اس رپورٹ پر حکومت کا ردعمل، جس میں ہندوستان کو صرف ’جزوی طور پر آزاد‘ (پارٹلی فری) کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ 2021 میں حکومت نے اس نتیجے کو ’گمراہ کن، غلط اور بے بنیاد‘ قرار دیا تھا۔ اسی طرح، جب اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے 2020 میں ہندوستان کو ’ناقص جمہوریت‘ قرار دیا تو حکومت نے اسے ’گمراہ کن اور مفروضوں پر مبنی‘ بتایا۔ وہیں، عالمی بھوک اشاریہ (گلوبل ہنگر انڈیکس) میں ہندوستان کی درجہ بندی گرنے پر بھی حکومت کے ردعمل اسی رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2021 میں اسے ’غیر سائنسی‘، 2022 میں ’ہندوستان کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش‘ اور 2023 میں ’خراب جائزہ لینے کا طریقہ‘ قرار دیا گیا۔ اقلیتوں کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے حملے عموماً عالمی اشاریوں میں ہندوستان کی درجہ بندی گرنے کی ایک بڑی وجہ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، کبھی کبھی حکومت اس بات پر حیرت ظاہر کرتی نظر آتی ہے کہ جمہوریت کی ماں کہلانے والے ہندوستان کو جمہوریت کے معاملے میں اتنے خراب نمبر کیوں ملتے ہیں۔

مسئلہ بالکل واضح ہے، آزادی کو فرد کے حقوق اور شہری آزادیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جو حکومت یہ مان کر چلتی ہے کہ جمہوریت کا مطلب صرف آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں اس محاذ پر بھی ہماری صورت حال کمزور ہوئی ہے، وہ اپنی خامیوں کی طرف توجہ دلائے جانے پر ہمیشہ دفاعی رویہ ہی اختیار کرے گی۔ ایک حد تک یہ بات درست ہے۔ خلیجی ممالک اور شمالی کوریا کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دنیا انہیں غیر جمہوری کہتی ہے، کیونکہ انہوں نے کبھی جمہوری ہونے کا دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ مسئلہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو خود کو ’سرکردہ‘ (یا مثالی) ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں۔ وہ دنیا کو یہ بتا کر خود کو مشکل میں ڈال لیتے ہیں کہ وہ کچھ ایسے ہیں، جو حقیقت میں ہیں ہی نہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔