
Getty Images
اسپین کے علاقے سبتہ یا سیوٹا میں ہزاروں افراد نے گزشتہ ہفتے مراکش سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس غیر معمولی صورتحال کے پیچھے سیاسی کشیدگی اور انسانی اسمگلروں کی پھیلائی ہوئی افواہیں بتائی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔ سرحدی حفاظتی انتظامات کی ناکامی نے اسپین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی تنازعات پیدا ہو گئے ہیں۔ بہت سے تارکین وطن بھوک اور نامناسب حالات کی وجہ سے واپس لوٹ رہے ہیں، جبکہ دیگر اب بھی بہتر مستقبل کی امید میں وہاں موجود ہیں۔ ذیل میں اس واقعے کے انسانی اور جغرافیائی اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مراکش اور اسپین کی سرحد پر واقع ایک چھوٹا سا ہسپانوی علاقہ 'سبتہ'اچانک ایک ایسی اسٹریٹجک اور انسانی افراتفری کا مرکز بن گیا جس نے عالمی سیاست کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ تصور کریں کہ ایک محدود جغرافیائی حیثیت رکھنے والے ساحلی قصبے میں چند ہی دنوں کے اندر 50,000 افراد کا سیلاب امڈ آئے۔ یہ محض ایک سرحد عبور کی کوشش نہیں تھی، بلکہ ایک انتہائی خطرناک مہم جوئی تھی جس میں مہاجرین کو ’فنیدیق‘ جیسے شہروں سے تین میل (5 کلومیٹر) تک کھلے سمندر میں تیر کر سبتہ پہنچنا پڑا۔ اس جان لیوا کوشش کے نتیجے میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں، جس نے اس چھوٹے سے علاقے کو عالمی شہ سرخیوں اور ایک سنگین انسانی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس واقعے کے پیچھے چھپی تہیں محض ہجرت نہیں بلکہ سفارتی جنگ اور انسانی جانوں کے تزویراتی (اسٹریٹجک) استحصال کی کہانی سناتی ہیں۔
صرف چند دنوں میں 50 ہزار افراد کا سرحد عبور کرنا ایک ایسا عدد ہے جو سبتہ کی کل عام آبادی کے دو تہائی سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں اچانک آمد نے نہ صرف علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کیا بلکہ ایک ایسا دباؤ پیدا کیا جسے سنبھالنا مقامی انتظامیہ کے لیے ناممکن تھا۔ تاہم، اس بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں آمد کا سلسلہ غیر معمولی تھا، وہیں واپسی کی رفتار بھی حیران کن تھی۔ 31 جولائی کی شام تک، اسپین نے 37.5 ہزار سے زائد افراد کو واپس مراکش بھیج دیا تھا، جو اس "ریوالونگ ڈور"پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسانی ہمدردی کے بجائے سرحدی سالمیت کی بحالی کو ترجیح دی گئی۔ جب عام طور پر ماہانہ صرف چند سو لوگ سرحد عبور کرتے ہوں، تو اچانک ہزاروں کا مجمع سرحدوں پر پہنچ جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ کوئی اتفاقی ہجرت نہیں بلکہ ایک منظم لہر تھی۔
اس بحران کی جڑیں مراکش، اسپین اور الجزائر کے درمیان جاری پیچیدہ سفارتی مثلث میں پیوست ہیں۔ یہ صورتحال مراکش اور الجزائر کے درمیان "مغربی صحارا"کے دیرینہ علاقائی تنازع کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے۔ ماضی میں جب اسپین نے 'پولیساریو فرنٹ'کے رہنما کے علاج کے لیے اپنی سرزمین فراہم کی تھی، تو مراکش نے ردِعمل کے طور پر سرحدیں ڈھیلی کر دی تھیں۔ حالیہ بحران کا محرک اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا 20 جولائی کو الجزائر کا دورہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد چار سال کے تعطل کے بعد تعلقات کو بحال کرنا تھا۔ مراکش، جو مغربی صحارا پر اپنی خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے، الجزائر کے ساتھ اسپین کے اس بڑھتے ہوئے تعاون کو ناگواری کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اطالوی محقق میٹیو ولا کے مطابق، مراکش نے سرحدوں پر کنٹرول کم کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ علاقائی استحکام کی چابی اس کے پاس ہے، تاکہ وہ یورپ سے اپنی شرائط منوا سکے۔
اس انسانی سیلاب کو "مہمان " بنانے میں جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا پر پھیلی افواہوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ انسانی اسمگلروں نے 'فنیدیق' اور 'بلیونیش'جیسے مراکشی شہروں میں یہ غلط خبر پھیلائی کہ اسپین کی سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے تحت اب سمندر کے راستے آنے والے غیر قانونی مہاجرین کو فوری واپس نہیں بھیجا جا سکے گا۔ ایسی ویڈیوز وائرل کی گئیں جنہوں نے یہ جھوٹی امید پیدا کی کہ سرحدیں اب سب کے لیے کھلی ہیں۔ اس منظم غلط بیانی نے ہزاروں نوجوانوں کو، جن میں سے اکثر ناخواندہ یا معاشی طور پر پسماندہ تھے، اس خطرناک سفر پر اکسا دیا جہاں حقیقت ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلی۔ یہ جدید دور کی ایک ایسی تلخ مثال ہے جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال انسانی جانوں کو تزویراتی مفادات کے لیے ایندھن بنانے کے لیے کیا گیا۔
سبتہ کی سرحد عبور کر لینا ہی منزل نہیں تھی بلکہ اصل مشکلات کا آغاز وہاں سے ہوا۔ مہاجرین کو 'ایل پرنسیپے'جیسے مراکشی اکثریتی علاقوں میں بھی مقامی آبادی کی مبینہ مخالفت اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا۔ 'براہیم' نامی ایک بیکری ورکر کی کہانی اس المیے کی عکاسی کرتی ہے جس نے تین دن صرف پانی پر گزارے اور خوراک کی آسمان چھوتی قیمتوں اور بند دکانوں کے باعث اپنی مرضی سے واپس جانے کو ترجیح دی۔ بند سپر مارکیٹوں نے ان کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ تاہم، اس مایوسی کے باوجود، کچھ لوگ جیسے 43 سالہ سوڈانی شہری محمد احمد، جو چار گھنٹے تیر کر پہنچا، اب بھی وہیں رہنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ جہاں اکثر کے لیے یہ سفر سیاسی دھوکہ دہی کا نتیجہ تھا، وہیں کچھ کے لیے یہ زندگی اور موت کا آخری راستہ تھا۔
اس واقعے نے یورپی ممالک کے درمیان مہاجرین کی پالیسی پر موجود گہرے اختلافات کو ایک بار پھر سطح پر لا دیا ہے۔ اٹلی کی دائیں بازو کی حکومت نے اس بحران کا ذمہ دار اسپین کی اس پالیسی کو قرار دیا جس کے تحت لاکھوں غیر قانونی مہاجرین کو قانونی حیثیت دی جانی ہے۔ اس اختلاف نے اس حد تک شدت اختیار کی کہ اٹلی نے اسپین کو 'شینگن زون'سے نکالنے کا مطالبہ کر دیا، حالانکہ تکنیکی طور پر سبتہ اور ملیلہ پر "شینگن قوانین " کا اطلاق اس طرح نہیں ہوتا۔ فرانس کی جانب سے سرحدی کنٹرول سخت کیے جانے نے یہ ثابت کر دیا کہ ایک مقامی بارڈر کراسنگ کا مسئلہ کیسے پورے یورپی اتحاد کی بنیادوں کو ہلا سکتا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مہاجرین کا مسئلہ اب محض انسانی ہمدردی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ یورپی بلاک کے اندرونی سیاسی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
سبتہ کا انسانی بحران محض سرحد پار کرنے کی ایک ناکام کوشش نہیں تھی، بلکہ یہ بین الاقوامی سیاست میں انسانوں کو ایک 'تزویراتی ہتھیار' کے طور پر استعمال کرنے کی ایک خوفناک مثال ہے۔ جہاں ایک طرف ریاستیں اپنے سفارتی مفادات کے لیے سرحدوں کو مہروں کی طرح استعمال کرتی ہیں، وہاں دوسری طرف بھوک، تھکن اور غلط معلومات نے ہزاروں زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔ اب عالمی برادری کے لیے یہ سوال ناگزیر ہے: کیا ہم صرف سرحدوں کو مضبوط کر کے اور خاردار تاریں لگا کر انسانی ہجرت کے اس گہرے اور پیچیدہ مسئلے کو حل کر سکتے ہیں، یا جب تک انسانوں کو سیاسی مہروں کے طور پر استعمال کرنے کا یہ سلسلہ نہیں تھمے گا، تب تک ایسے بحران جنم لیتے رہیں گے؟ انسانی جانوں کی قیمت پر کھیلی جانے والی یہ سیاست عالمی ضمیر پر ایک مستقل سوالیہ نشان ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔