فکر و خیالات

کیا کازیرنگا بچ پائے گا؟...رشمی سہگل

کازیرنگا میں ای ایس زیڈ کم کرنے، ہوٹلوں، کوریڈور اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے درمیان جنگلی حیات اور مقامی قبائلی آبادی کے تحفظ پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین قدرتی مسکن کے نقصان سے خبردار کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

جنگل کی زمین پر قبضے کا موقع ملتے ہی ہمارے سیاست دان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ورنہ سوال یہ ہے کہ آسام حکومت کازیرنگا نیشنل پارک اور ٹائیگر ریزرو کے آس پاس موجود ایکو سینسیٹو زون (ای ایس زیڈ) کا دائرہ 10 کلومیٹر سے گھٹا کر ایک کلومیٹر کرنے کی خواہش کیوں رکھتی ہے؟ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے اس اعلان کے بعد تشویش بڑھ گئی ہے کہ حکومت آگے بڑھنے سے پہلے ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کی جانب سے حتمی نوٹیفکیشن کا انتظار کر رہی ہے۔

بفر زون کم ہونے سے مقامی بنیادی ڈھانچے اور شہری منصوبوں پر عائد پابندیاں کم ہو جائیں گی۔ ان منصوبوں میں بوکاخات میں جدید اسٹیڈیم، تجارتی سیاحتی کمپلیکس اور دیگر شہری سہولیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تین فائیو اسٹار ہوٹل، ایک کنونشن سینٹر اور ایک ایلیویٹڈ کوریڈور سمیت کئی منصوبے زیر غور ہیں۔

کازیرنگا کے انگلے پاتھر میں مجوزہ لگژری ریزورٹ کے لیے زمین پہلے ہی 99 سال کی لیز پر دی جا چکی ہے۔ یہ ریزورٹ جونیپر ہوٹل سے منسلک ہے اور مبینہ طور پر حیات گروپ کی ایک ذیلی کمپنی سے متعلق ہے۔ گروپ 10 ایکڑ زمین پر 106 کمروں پر مشتمل لگژری ہوٹل بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جسے 2030 تک شروع کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔

ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ انگلے پاتھر تقریباً 300 ہاتھیوں کا مسکن ہے۔ یہاں تعمیرات اور انسانی موجودگی میں اضافے سے انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم بڑھ سکتا ہے اور ملک میں جنگلی ہاتھیوں کے لیے بچے ہوئے چند محفوظ ٹھکانوں میں سے ایک متاثر ہو سکتا ہے۔

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران تقریباً ایک ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے کازیرنگا کی اہمیت ایک ایسے اہم جنگلی حیات کے مسکن کے طور پر برقرار رہی ہے جہاں نایاب اور خطرے سے دوچار انواع کو تحفظ ملا۔ یہاں محکمہ جنگلات کے عملے نے خاص طور پر ایک سینگ والے گینڈے کے تحفظ اور اس کی آبادی میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا میں موجود ایک سینگ والے گینڈوں کی تقریباً دو تہائی آبادی کازیرنگا میں پائی جاتی ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی تک مرکزی وزارت سے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 2023 کے ایک فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ ای ایس زیڈ کا تعین علاقے کی جغرافیائی ساخت، مقامی حالات اور جنگلی حیات کے رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک کلومیٹر کا حفاظتی دائرہ بھی لازمی طور پر حتمی نہیں ہے۔

اس کے بعد کئی ریاستوں میں بفر زون کو کم یا ختم کیا گیا۔ ’وِدھی سینٹر فار لیگل پالیسی‘ کے 109 نیشنل پارکس اور وائلڈ لائف سینکچوریز کے ابتدائی تجزیے کے مطابق 60 نیشنل پارکس میں ای ایس زیڈ مکمل طور پر ختم کر دیے گئے۔ اس صورتحال میں جنگلی جانور ان محفوظ علاقوں کی مقررہ حدود تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ کازیرنگا بھی اسی سمت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

ای ایس زیڈ کم کرنے یا ختم کرنے کے حق میں ریاستی حکومتوں کا عمومی مؤقف ہے کہ اس سے بیرونی علاقوں میں رہنے والے دیہی باشندوں کے لیے بنیادی ڈھانچے اور روزمرہ سرگرمیوں میں سہولت پیدا ہوگی۔ تاہم کازیرنگا کے اطراف رہنے والے لوگوں کی صورت حال اس سے مختلف نظر آتی ہے۔

انگلے پاتھر کے 45 قبائلی خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی کھیتی اور چرائی کی زمین زبردستی لے لی گئی۔ کچھ بے دخل افراد کا کہنا ہے کہ وہ 2022 تک اپنی زمین کا ٹیکس ادا کرتے رہے، لیکن اس کے بعد محصولات کے اہلکاروں نے ٹیکس وصول کرنا بند کر دیا۔ بعض خاندانوں کے مطابق انہیں فی خاندان تین لاکھ روپے معاوضے کی پیشکش کی گئی، جسے انہوں نے اب تک قبول نہیں کیا۔

تاہم مقامی لوگوں کی رائے یکساں نہیں ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاحت سے علاقے کو معاشی فائدہ حاصل ہوگا۔ کئی افراد، خاص طور پر سرکاری فلاحی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے والی خواتین، بی جے پی حکومت کے حامی ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ اپنے پاس موجود مستقل ’میادی‘ پٹوں کے کاغذات کے باوجود خوفزدہ ہیں۔ یہ دستاویزات اس دور سے متعلق ہیں جب برطانوی حکام ان کے آباؤ اجداد کو بندھوا مزدوروں کے طور پر یہاں لائے تھے۔ ان کی روزی روٹی ماحول پر منحصر ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ قدرتی وسائل تباہ ہوں۔

ایک معروف ماہر ماحولیات کے مطابق آسام کو کبھی ’سنہری باغات کی سرزمین‘ کہا جاتا تھا۔ یہاں ’باغات‘ سے مراد صرف چائے کے باغات نہیں بلکہ ذیلی حارہ خطے کے جنگلات اور منفرد جنگلی حیات بھی ہیں۔ ان کے بقول ترقی کی دوڑ نے ریاست کے قدرتی وسائل اور جنگلی جانوروں کے مسکن کو شدید متاثر کیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پارک سے باہر آنے جانے والے ہاتھیوں اور شیروں کے نو اہم کوریڈورز کے آس پاس مبینہ طور پر غیر قانونی کان کنی جاری ہے۔ حالیہ میڈیا رپورٹس میں ’پرباری کوریڈور‘ کے ختم ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ یہ ایک اہم وائلڈ لائف کوریڈور ہے جو کازیرنگا کو کاربی آنگلونگ کی پہاڑیوں سے جوڑتا ہے۔

کازیرنگا وائلڈ لائف سوسائٹی کی سربراہ موبینہ اختر کے لیے موجودہ سرکاری منصوبے سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کازیرنگا ایلیویٹڈ کوریڈور پروجیکٹ کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے 18 جنوری 2026 کو کیا تھا۔ اس منصوبے میں ٹائیگر ریزرو کے کور زون سے 20.4 ہیکٹر جنگلاتی زمین اور موجودہ ای ایس زیڈ سے تقریباً 365 ہیکٹر زمین کو دوسری جانب منتقل کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ پارک سے گزرنے والی شاہراہ کو چوڑا کرنے اور جکھلابندھا سے بوکاخات کے آس پاس 21 کلومیٹر طویل گرین فیلڈ بائی پاس بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

موبینہ اختر کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت نے کازیرنگا سے صرف 20 سے 30 کلومیٹر دور جکھلابندھا اور بوکاخات میں ہوٹلوں کے لیے زمین کیوں نہیں دی۔ ان کے مطابق یہ انتہائی حیاتیاتی تنوع والا علاقہ ہے اور یہاں کا دائرہ کم کرتے ہوئے سیاحت کو فروغ دینے سے جنگلی جانوروں کی زندگی متاثر ہونا فطری ہے۔

بارش کے موسم میں ای ایس زیڈ کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سیلاب کے دوران جب برہم پتر دریا پارک کے جنوب میں بہتا ہے تو جنگلی جانور شمال کی جانب بفر زون میں چلے جاتے ہیں۔ کاربی آنگلونگ کا ڈھالامارا علاقہ ان کے لیے پناہ گاہ کا کام کرتا ہے۔ موبینہ اختر کے مطابق اس علاقے کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

کازیرنگا کے ڈی ایف او ارون وگنیش ایلیویٹڈ کوریڈور کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے گاڑیوں کی زد میں آکر جنگلی جانوروں کی ہونے والی اموات کم ہوں گی۔ گواہاٹی یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق صرف 2016-17 میں 6,036 جانور ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم ایک سینئر ریٹائرڈ محکمہ جنگلات کے افسر کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق کازیرنگا بنیادی طور پر گھاس کا میدان ہے اور گھاس کے میدان کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال اسے جلانا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کام مناسب طریقے سے نہیں ہو رہا اور گھاس کا میدان سکڑ رہا ہے، جبکہ تمام توجہ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مرکوز ہے۔

غیر قانونی کان کنی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ماحولیاتی تحفظ اور قانونی حقوق کے لیے کام کرنے والے روہت چودھری نے 2012 میں سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی، جس میں کازیرنگا اور اس کے آس پاس غیر قانونی پتھر کی کان کنی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ اس میں 60 غیر قانونی پتھر کی کانوں کی فہرست بھی شامل تھی۔

2019 میں سپریم کورٹ نے کازیرنگا کی جنوبی سرحد پر کان کنی پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ پارک میں جنگلی جانوروں کے لیے نشان زد نو کوریڈورز کا حصہ بننے والی نجی زمین پر کوئی نئی تعمیر نہیں کی جائے گی۔

2026 میں چودھری نے سپریم کورٹ کی قائم کردہ سینٹرل ایمپاورڈ کمیٹی سے رجوع کیا۔ انہوں نے 2019 کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو وائلڈ لائف کوریڈورز میں غیر قانونی تعمیرات کا دعویٰ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

چودھری کے مطابق بڑے پیمانے پر کان کنی دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس سے بھی جھیلوں کے خشک ہونے اور جنگلات، خصوصاً بانس کے جنگلات، کے تیزی سے ختم ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگلی جانوروں کا قدرتی مسکن ایک بار تباہ ہو گیا تو کازیرنگا کے مستقبل کے لیے کیا امید باقی بچے گی؟

ان منصوبوں کے خلاف آواز اٹھانے والے کارکنوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ سرگرم کارکن پرنب ڈولے کی راسُکا کے تحت گرفتاری کے بعد تشویش پیدا ہوئی۔ 60 سے زائد حقوق کی تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور سول سوسائٹی گروپوں نے اسے ’انتقامی اور من مانی‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ کئی بین الاقوامی انسانی حقوق اور قبائلی حقوق کی تنظیموں نے 18 اگست 2026 کو ایک کھلا خط بھی جاری کیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مقامی قبائلی برادریوں کی رضامندی کے بغیر علاقے میں کوئی ہوٹل پروجیکٹ شروع نہ کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔