فکر و خیالات

ساحل واکوڑے کا واقعہ اور نوجوانوں کی بڑھتی بے چینی...جےدیپ ہاردیکر

آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خودکشی نے تعلیمی اداروں میں ذات پات، ذہنی دباؤ اور نوجوانوں کے بڑھتے بحران پر سوال اٹھائے ہیں۔ بے روزگاری اور ’نیٹ‘ نوجوانوں کی بڑھتی تعداد بھی تشویش ناک ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

آئی آئی ٹی بامبے کے دوسرے سال کے طالب علم ساحل واکوڑے کی حالیہ خودکشی نے اس ممتاز تعلیمی ادارے میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے مبینہ الزامات سے جڑے سوالات کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پولیس ان حالات کی تحقیقات کر رہی ہے جن کے نتیجے میں 18 ستمبر کو ساحل کی موت ہوئی۔ یہ واقعہ امتحان کے دوران مبینہ طور پر غیر مناسب ذرائع کے استعمال سے متعلق ایک معاملے کے بعد سامنے آیا تھا۔

ساحل کا خاندان اسے ذات پات کی بنیاد پر ہراسانی کا معاملہ قرار دے رہا ہے اور اس کا الزام ہے کہ اسی ہراسانی نے اسے خودکشی پر مجبور کیا۔ دوسری طرف آئی آئی ٹی بامبے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالب علم نے کبھی ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کی کوئی شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ ادارے کے بیشتر اساتذہ بھی متعلقہ پروفیسر کے دفاع میں کھڑے نظر آئے ہیں۔

امید کی جانی چاہیے کہ اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں گی۔ لیکن ساحل کی خودکشی ایک اور مایوس کن حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے۔ 2020-21 سے 2024-25 کے درمیان صرف آئی آئی ٹی اداروں میں، جن کی تعداد اب 23 ہے، 45 طلبہ نے خودکشی کی۔ ان میں 2022-23 میں چھ، 2023-24 میں 16 اور 2024-25 میں 13 واقعات شامل ہیں۔ ان 45 طلبہ میں سے 28 کا تعلق درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات سے تھا۔

پورے ملک میں نوجوانوں کے درمیان خودکشی کے واقعات غیر معمولی حد تک زیادہ ہیں۔ 2016 میں طبی جریدے ’دی لانسیٹ‘ میں شائع ہونے والے ’گلوبل برڈن آف ڈیزیز‘ مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ 15 سے 39 برس کی عمر کے لوگوں میں موت کی سب سے بڑی وجہ خودکشی تھی۔ آٹھ برس بعد صورت حال مزید سنگین ہو چکی ہے۔

قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے تازہ اعداد و شمار بھی اس مسئلے کی شدت کا اندازہ پیش کرتے ہیں۔ ہندوستان میں 2024 کے دوران 14488 طلبہ نے خودکشی کی، جب کہ 2014 میں یہ تعداد 8068 تھی۔ یعنی ایک دہائی میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا۔ 2024 میں ملک میں ریکارڈ کی گئی مجموعی 170746 خودکشیوں میں طلبہ کی تعداد 8.5 فیصد تھی، جبکہ 2014 میں یہ تناسب 6.1 فیصد تھا۔

2014 سے 2024 کے دوران یہ رجحان تقریباً مسلسل بڑھتا رہا، سوائے 2022 کے جب گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2024 میں طلبہ کی خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات مہاراشٹر میں 1909 درج ہوئے۔ اس کے بعد اتر پردیش میں 1585، مدھیہ پردیش میں 1447 اور تمل ناڈو میں 1287 واقعات سامنے آئے۔ ان چار ریاستوں میں ہی ملک کی مجموعی طلبہ خودکشیوں کے 43 فیصد واقعات درج ہوئے۔

تاہم، اموات کے یہ اعداد و شمار تصویر کا صرف ایک حصہ بیان کرتے ہیں۔ 2024 میں ’انڈین جرنل آف سائیکولوجیکل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نو ہندوستانی ریاستوں کے 15 شہروں کی 30 یونیورسٹیوں کے 8542 کالج طلبہ کا سروے کیا گیا۔ ان طلبہ کی اوسط عمر 20 برس تھی۔ نتائج انتہائی تشویش ناک تھے۔

تقریباً ہر پانچویں طالب علم، یعنی 18.8 فیصد نے بتایا کہ اس کے ذہن میں کبھی نہ کبھی خودکشی کا خیال آیا تھا۔ ہر آٹھویں طالب علم، یعنی 12.4 فیصد نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران اسے خودکشی کے خیالات آئے، جبکہ 6.7 فیصد نے زندگی میں کبھی نہ کبھی خودکشی کی کوشش کرنے کی بات کہی۔ دوسرے لفظوں میں، خودکشی کے سرکاری اعداد و شمار نوجوانوں کی اس بڑی تعداد کو ظاہر نہیں کرتے جو خود کو شدید نقصان پہنچانے کے خیالات سے نبرد آزما ہیں۔

اسی تحقیقی پروگرام سے وابستہ ایک تجزیے میں خودکشی کے خیالات اور کوششوں کے مختلف اسباب کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں خاندانی تعلقات، ذہنی دباؤ، اضطراب، منشیات کا استعمال اور خود کو نقصان پہنچانے کا رجحان جیسے متعدد عوامل شامل تھے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس مسئلے کو محض امتحانات کے دباؤ یا تعلیمی اداروں میں مشاورت کی سہولت کی موجودگی یا عدم موجودگی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

دوسرا ’نیٹ‘

ہندوستان کے پیریاڈک لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) 2025 کے مطابق 15 سے 29 برس کی عمر کے نوجوانوں میں تقریباً 25 فیصد ایسے ہیں جو نہ روزگار میں ہیں، نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی کسی پیشہ ورانہ تربیت سے وابستہ ہیں۔ یعنی ہر چار میں سے ایک نوجوان ہندوستانی اس صورت حال میں ہے۔

یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ ایک بے روزگار نوجوان ملازمت تلاش کر رہا ہوگا۔ لیکن ’نیٹ‘ زمرے میں آنے والا نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے، نہ کام کر رہا ہوتا ہے، نہ کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہوتا ہے اور نہ ہی روزگار تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ اس زمرے میں مختلف نوعیت کے حالات شامل ہیں، اس لیے اسے براہ راست بے روزگاری کا مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہندوستان کے نوجوانوں کے بحران کو سمجھنے کے لیے اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

اس بات کے خاطر خواہ شواہد موجود نہیں ہیں کہ نظام سے بیگانگی براہ راست خودکشی کا سبب بنتی ہے۔ تاہم، یہ سوال اٹھانے کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ کیا مایوس کن خواہشات، معاشی غیر یقینی، سماجی تنہائی اور معاشرے کی مرکزی دھارے سے طویل عرصے تک کٹاؤ، اس وسیع تر صورت حال کا حصہ ہیں؟

ستمبر 2026 کے تازہ پی ایل ایف ایس اعداد و شمار 15 سے 29 برس کے ’نیٹ‘ نوجوانوں کے تناسب میں ریاستی سطح پر نمایاں فرق ظاہر کرتے ہیں۔ جہاں قومی اوسط 25 فیصد، یعنی ہر چار نوجوانوں میں ایک ہے، وہیں بہار میں یہ شرح 32.1 فیصد، مغربی بنگال میں 29.9 فیصد، اتر پردیش میں 29.1 فیصد، تریپورہ میں 28.1 فیصد، پنجاب میں 27.7 فیصد اور ہریانہ میں 27.2 فیصد ہے۔ تمل ناڈو میں یہ شرح 23.1 فیصد، مہاراشٹر میں 21.9 فیصد، کرناٹک میں 20.8 فیصد اور کیرالا میں 21.5 فیصد ہے۔

پی ایل ایف ایس 2025 کے مطابق 15 سے 29 برس کے عمر گروپ میں خواتین کی لیبر فورس شمولیت کی شرح مردوں کے 60.2 فیصد کے مقابلے میں صرف 26.8 فیصد تھی۔ اسی عمر گروپ میں روزگار سے وابستہ آبادی کا تناسب خواتین میں 24.4 فیصد اور مردوں میں 58 فیصد تھا۔

’نیٹ‘ نوجوانوں میں بھی خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ اس عمر گروپ کی تقریباً 40 فیصد نوجوان خواتین ’نیٹ‘ زمرے میں آتی ہیں، جبکہ نوجوان مردوں میں یہ شرح تقریباً 10 فیصد ہے۔ تعلیم اور روزگار کے دائرے سے اس طرح باہر ہونے میں صنفی عدم مساوات نوجوان ہندوستانی بالغوں کی صورت حال کا ایک اور تشویش ناک پہلو ہے۔

تاہم، ’نیٹ‘ نوجوانوں کی تعداد سے ظاہر ہونے والی یہ بیگانگی اور خودکشی کے اعداد و شمار کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نظر نہیں آتا۔ مہاراشٹر میں ’نیٹ‘ کی شرح قومی اوسط سے کم ہے، لیکن 2024 میں یہاں خودکشیوں کی سب سے زیادہ تعداد، 22174، ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح کیرالا میں بھی ’نیٹ‘ کی شرح قومی اوسط سے کم ہے، لیکن خودکشی کی شرح کافی زیادہ ہے۔

آخرکار سوال یہ ہے کہ تعلیم، روزگار اور تربیت کے دائرے سے باہر موجود ان نوجوانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

آئی آئی ٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہونے والی خودکشیاں توجہ حاصل کرتی ہیں، لیکن ’نیٹ‘ زمرے میں شامل نوجوانوں کے بڑے حصے میں موجود شدید ذہنی دباؤ کم رپورٹ ہوتا ہے اور نتیجتاً اس کا درست اندازہ بھی نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ عام کالجوں اور نجی کوچنگ مراکز میں تعلیم حاصل کرنے والے وہ نوجوان بھی ہیں جو روزگار کی منڈی میں اپنے لیے جگہ بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

ان میں سے بہت سے نوجوان ریلوے، بینکوں، پولیس اور نیم فوجی دستوں میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، کیونکہ یہ ملازمتیں انہیں معاشی تحفظ کی امید دیتی ہیں۔ لیکن ان ملازمتوں سے وابستہ غیر یقینی اور اس کے ساتھ آنے والا ذہنی دباؤ اب برداشت کی آخری حد تک پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔

ساحل واکوڑے کا واقعہ ہمیں صرف ایک طالب علم کی موت پر رک کر سوچنے کا موقع نہیں دیتا۔ یہ اس وسیع تر بحران کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جس میں ہندوستان کا نوجوان طبقہ تعلیم، روزگار، سماجی شناخت اور مستقبل کی امید کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ اگر اس بحران کو صرف کیمپس میں کونسلنگ یا امتحانی دباؤ کے مسئلے کے طور پر دیکھا گیا تو شاید ہم اصل مسئلے کا بڑا حصہ نظر انداز کر دیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔