
علامتی تصویر / اے آئی
تاریخ میں بعض ایسے لمحات آتے ہیں جب جنگیں صرف جغرافیائی سرحدوں کو ہی نہیں بدلتی بلکہ بین الاقوامی سیاست کے پورے ڈھانچے کو نئی شکل دے دیتی ہیں۔ ایران کی جنگ بھی ایسا ہی ایک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ مستقل امن معاہدہ ہو یا نہ ہو، اس کا ایک اہم جغرافیائی و سیاسی نتیجہ ابھی سے نمایاں ہونے لگا ہے۔ اس تصادم نے امریکہ کی بالادستی پر مبنی یک قطبی عالمی نظام کے خاتمے کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
یہ دور پہلے ہی چین کے عروج، روس کی دوبارہ ابھرتی ہوئی طاقت اور دیگر علاقائی قوتوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث سکڑنا شروع ہو چکا تھا۔ ایران کی جنگ نے اس جاری تبدیلی کی رفتار کو مزید بڑھا دیا ہے۔
Published: undefined
تاہم، ایک کثیر قطبی دنیا کے آغاز پر خوشی منانا خطرناک حد تک قبل از وقت ہوگا۔ دنیا اگرچہ کثیر قطبی ضرور بنتی جا رہی ہے، لیکن اس کے متبادل کے طور پر ابھی تک کوئی نئی عالمی ترتیب وجود میں نہیں آئی۔ طاقت کا توازن اس رفتار سے تبدیل ہو رہا ہے کہ اس تبدیلی کو سنبھالنے کے لیے ضروری ادارے اور قواعد تشکیل ہی نہیں پا سکے۔ نتیجتاً ایک نہایت غیر مستحکم بین الاقوامی ماحول جنم لے رہا ہے۔
ہر بین الاقوامی نظام کو ایک مضبوط بنیاد درکار ہوتی ہے۔ اسے ایسے اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طاقتور ممالک بھی ہچکچاہٹ محسوس کریں۔ ایسے ادارے بھی ضروری ہوتے ہیں جن کی قانونی اور اخلاقی حیثیت اس وقت بھی برقرار رہے جب وہ ہر فریق کو مطمئن کرنے میں ناکام رہیں۔ اسی طرح ایسے نظام بھی ناگزیر ہیں جو بحرانوں کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بڑی طاقتوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ان کے اپنے مفاد میں بھی عالمی استحکام ناگزیر ہے۔
Published: undefined
اپنے تمام تضادات کے باوجود دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام نے ان بنیادی تقاضوں میں سے کئی کو پورا کیا تھا۔ اقوام متحدہ، بریٹن ووڈز کے ادارے، بین الاقوامی قانون، اسلحے پر کنٹرول کے معاہدے اور کثیر فریقی سفارت کاری نے تنازعات کو سنبھالنے کے لیے مختلف راستے فراہم کیے۔ یہ نظام اکثر جانبدار، غیر مساوی اور امریکی مفادات سے گہرا متاثر ضرور تھا، لیکن اس کے باوجود اس نے ایک حد تک پیش گوئی اور استحکام کا ماحول پیدا کیا۔ یہاں تک کہ جب بڑی طاقتوں نے بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کیا تو بھی وہ اپنے اقدامات کو اسی قانونی دائرے میں درست ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیں، کیونکہ اس وقت قانونی جواز اور عالمی قبولیت کی اہمیت برقرار تھی۔
آج وہ قانونی جواز تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی قانون کو مفادات کے مطابق منتخب انداز میں تعبیر کیا جا رہا ہے۔ فوجی مداخلت، اقتصادی پابندیاں، تجارتی قدغنیں، سائبر حملے اور سیاسی دباؤ جیسے اقدامات کو طے شدہ قانونی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قومی مفاد کے نام پر جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ بڑی طاقتیں اب مشترکہ عالمی قواعد کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنے قلیل مدتی تزویراتی مقاصد کے مطابق انہیں نئے سرے سے ڈھال رہی ہیں۔ ایران کا تنازع اسی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے۔
Published: undefined
فوجی تصادمات نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عسکری برتری اب سیاسی نتائج کی ضمانت نہیں رہی۔ ایران نے ثابت کیا کہ سخت اقتصادی پابندیوں کا شکار ایک علاقائی ملک بھی غیر روایتی عسکری صلاحیتوں، علاقائی نیٹ ورکس اور اہم توانائی راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت کے ذریعے ایک سپر پاور پر تزویراتی قیمت عائد کر سکتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس جنگ نے امریکی اثر و رسوخ کی حدود کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ امریکہ اچانک کمزور ہو گیا ہے۔ آج بھی امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور عسکری قوت ہے، بین الاقوامی مالیاتی نظام پر اس کا غلبہ قائم ہے اور تکنیکی جدت میں بھی وہ انتہائی مسابقتی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈالر اب بھی دنیا کی بنیادی محفوظ زرِ مبادلہ کی کرنسی ہے اور اس وقت کسی بھی ملک کے پاس عسکری، مالی، تکنیکی اور ثقافتی اثر و رسوخ کا وہ مجموعہ موجود نہیں جو واشنگٹن کے پاس ہے۔ لیکن اب یہ طاقت مکمل غلبے اور ہر معاملے پر فیصلہ کن کنٹرول کی علامت نہیں رہی۔ امریکہ اب بھی عالمی واقعات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر ان کے نتائج کا تعین کرنے کی اپنی سابقہ قوت کھوتا جا رہا ہے۔
Published: undefined
چین امریکی بالادستی کے لیے ایک بڑی طویل مدتی چیلنج کی صورت میں ابھرا ہے۔ ماضی میں ابھرنے والی دیگر طاقتوں کے برعکس، بیجنگ نے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست فوجی تصادم سے گریز کیا ہے۔ اس کے بجائے اس نے تجارت، تکنیکی ترقی، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، سفارت کاری اور اقتصادی شراکت داری کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ اس کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، جنوبی اور مغربی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بڑھتی ہوئی موجودگی، نیز ایس سی او اور برکس جیسے تزویراتی گروپوں میں اس کا بڑھتا ہوا کردار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین تصادم کے بجائے صبر، تسلسل اور تدریجی انداز سے اپنا عالمی اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
اس کے باوجود چین نے کبھی یہ خواہش ظاہر نہیں کی کہ وہ عالمی نظام کے ضامن کے طور پر امریکہ کی جگہ لے۔ وہ مساوی عالمی ذمہ داریاں قبول کیے بغیر زیادہ اثر و رسوخ چاہتا ہے۔ بیجنگ اپنے سرکاری بیانات میں مسلسل کثیر فریقی نظام کی حمایت کرتا ہے، لیکن دنیا کا بنیادی سلامتی فراہم کرنے والا ملک بننے میں اس نے بہت کم دلچسپی دکھائی ہے۔ ایران کے تنازع کے دوران بھی چین نے کشیدگی بڑھنے کی مذمت کی اور سفارت کاری پر زور دیا، مگر براہِ راست فوجی مداخلت سے محتاط انداز میں دور رہا۔ یہ اس کی تزویراتی احتیاط کی عکاسی کرتا ہے۔
Published: undefined
اس کا نتیجہ ایک ایسی دنیا کی صورت میں سامنے آیا ہے جہاں طاقت تو بکھر رہی ہے، مگر ذمہ داری کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں۔ یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ متعدد طاقتیں ابھر رہی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی نئی عالمی ترتیب قائم کرنے کے لیے نہ تو تیار ہے اور نہ ہی اس قابل، جو وسیع پیمانے پر عالمی قبولیت حاصل کر سکے۔
اجتماعی اقدامات کو ممکن بنانے والے عالمی ادارے رسمی طور پر تو موجود ہیں، لیکن مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ویٹو کی سیاست کے باعث مفلوج ہو چکی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم تنازعات کے حل میں مشکلات کا شکار ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کو نمائندگی اور قانونی جواز سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔ یہاں تک کہ موسمیاتی مذاکرات، وباؤں سے نمٹنے کی کوششیں، پناہ گزینوں کا تحفظ اور جوہری سفارت کاری بھی بین الاقوامی تعاون کے بجائے جغرافیائی و سیاسی رقابت کی نذر ہو چکے ہیں۔
Published: undefined
یہ صورتِ حال نہایت تشویش ناک ہے۔ عالمی نظام ایسے وقت میں کمزور پڑ رہا ہے جب انسانیت جدید تاریخ کے کسی بھی دور کے مقابلے میں کہیں بڑے چیلنجز سے دوچار ہے اور جب مشترکہ عالمی اقدام کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلی قومی سرحدوں کی پابند نہیں۔ مصنوعی ذہانت ایسے خطرات پیدا کر رہی ہے جو کسی ایک حکومت کی صلاحیت سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ سائبر حملے پلک جھپکتے میں براعظموں کی سرحدیں عبور کر لیتے ہیں۔ مالیاتی عدم استحکام چند گھنٹوں میں وسیع خطوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جبکہ وبائیں ہمیں بار بار یاد دلاتی ہیں کہ وائرس کو کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تاریخ بھی اس حوالے سے کوئی تسلی نہیں دیتی۔ پہلی عالمی جنگ سے پہلے کے طویل کثیر قطبی دور کو ابتدا میں بڑی طاقتوں کے درمیان ایک مستحکم توازن قرار دیا جاتا تھا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور آسٹریا۔ہنگری سب کا خیال تھا کہ بدلتے ہوئے اتحاد کسی ایک ملک کو یورپ پر غلبہ حاصل کرنے سے روک دیں گے۔ لیکن مؤثر بحرانی نظم و نسق کے فقدان نے ایک آرچ ڈیوک کے قتل کو عالمی جنگ میں تبدیل کر دیا۔ معتبر اداروں کے بغیر کثیر قطبیت کشیدگی کو قابو میں رکھنے میں ناکام ثابت ہوئی۔
Published: undefined
اسی طرح یہ ماننے کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں کہ آج کی کثیر قطبی دنیا، یا طاقت کا یہ بکھراؤ، خود بخود زیادہ استحکام لے آئے گا۔ اس کے برعکس، خطرات پہلے سے کہیں زیادہ بڑے ہو سکتے ہیں۔ ایران کی جنگ ایک ایسی دنیا کے آغاز کی علامت ہے جہاں کوئی ایک طاقت نتائج کا تعین نہیں کر سکتی، مگر متعدد طاقتور ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت کو منظم کرنے کے لیے کوئی مشترکہ عالمی نظام بھی موجود نہیں۔ امریکہ اب وہ بلاشرکتِ غیرے قیادت برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہا جو سرد جنگ کے بعد کی دہائیوں کی پہچان تھی۔ چین اس کی جگہ لینے کے لیے آگے نہیں آیا۔ روس تعمیری کردار کے بجائے زیادہ تر تخریبی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یورپ اندرونی تقسیم اور قیادت کے فقدان کا شکار ہے، جبکہ ہندوستان ’تزویراتی خود مختاری‘ کا نعرہ تو لگاتا ہے، لیکن عالمی جنوب کی مؤثر آواز بننے کا موقع کھو چکا ہے۔
آخرکار ایران کی جنگ کو امریکی صدی کے خاتمے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا جو قیادت سے محروم اور انتشار کا شکار ہوگا۔ یہ کسی نئے عالمی نظام کا ظہور نہیں، بلکہ ایک ایسی دنیا کا ابھرنا ہے جہاں کوئی مؤثر عالمی نظم موجود نہیں۔ اس دنیا میں کثیر فریقی نظام صرف بیانات تک محدود رہ گیا ہے، بین الاقوامی قانون اپنی معنویت کھو چکا ہے، اور عالمی استحکام اب طے شدہ اصولوں کے بجائے صرف طاقت کے توازن اور تزویراتی خطرات کے بدلتے ہوئے اندازوں کے رحم و کرم پر منحصر ہے۔
(مضمون نگار اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعات کے پروفیسر ہیں)
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined