
ونود کھنہ / تصویر آئی اے این ایس
ونود کھنہ بالی ووڈ کے ان باکمال اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے فلمی سفر کا آغاز منفی کرداروں سے کیا، لیکن اپنی پُرکشش شخصیت اور مضبوط اداکاری کے بل پر ہیرو بنے اور 1970 اور 1980 کی دہائی میں بالی ووڈ کے بڑے ستاروں میں اپنی جگہ بنائی۔ ان کی زندگی صرف فلموں تک محدود نہیں رہی بلکہ روحانیت، سیاست اور خاندانی زندگی کے کئی اہم موڑ بھی ان کے سفر کا حصہ بنے۔
6 اکتوبر 1946 کو پشاور (اب پاکستان) میں پیدا ہونے والے ونود کھنہ نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد ممبئی سے گریجویشن کیا۔ اسی دوران ایک پارٹی میں ان کی ملاقات معروف اداکار اور فلم ساز سنیل دت سے ہوئی۔ سنیل دت اپنی فلم من کا میت کے لیے نئے چہرے کی تلاش میں تھے۔ انہوں نے ونود کھنہ کو فلم میں معاون اداکار کا کردار پیش کیا، جسے انہوں نے قبول کرلیا۔
فلموں میں کام کرنے کے فیصلے پر ونود کھنہ کو ابتدا میں اپنے والد کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ایک محفوظ پیشہ اختیار کریں۔ تاہم والدہ کی مداخلت پر انہیں دو سال تک فلموں میں قسمت آزمانے کی اجازت مل گئی، اس شرط کے ساتھ کہ اگر وہ کامیاب نہ ہوئے تو انہیں خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹانا ہوگا۔
1968 میں ریلیز ہونے والی من کا میت نے ونود کھنہ کے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہیں آن ملو سجنا، میرا گاؤں میرا دیش اور سچا جھوٹا جیسی فلموں میں منفی کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ ان کرداروں سے ان کی شناخت بننے لگی، لیکن انہیں اصل پہچان اور کامیابی کچھ عرصے بعد حاصل ہوئی۔ ونود کھنہ کے کیریئر کو اہم موڑ گلزار کی فلم میرے اپنے سے ملا۔ 1971 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں مینا کماری نے اہم کردار ادا کیا تھا، جبکہ ونود کھنہ اور شتروگھن سنہا کے درمیان فلمایا گیا ٹکراؤ خاص طور پر پسند کیا گیا۔ یہ فلم گلزار کی بطور ہدایت کار پہلی فلم بھی تھی۔
1973 میں گلزار کی ہی فلم اچانک میں ونود کھنہ نے ایک مختلف انداز کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم ان کے کیریئر کی اہم فلموں میں شمار ہوئی۔ 1974 میں امتحان نے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کیا، جبکہ 1977 میں ریلیز ہونے والی منموہن دیسائی کی امر اکبر انتھونی ان کے کیریئر کی سب سے کامیاب فلموں میں شامل ہوگئی۔ امیتابھ بچن اور رشی کپور کے ساتھ اس ملٹی اسٹارر فلم میں ونود کھنہ نے اپنی اداکاری سے الگ شناخت قائم کی۔
1980 میں فیروز خان کی ہدایت میں بننے والی قربانی نے ونود کھنہ کو شہرت کی نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ فلم میں ان کی مؤثر اداکاری کو سراہا گیا اور انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 1980 کی دہائی کے اوائل تک وہ بالی ووڈ کے صفِ اول کے اداکاروں میں شامل ہوچکے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں امیتابھ بچن کے بڑے حریف کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
لیکن عروج کے اسی دور میں ونود کھنہ نے اچانک فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور روحانی استاد آچاریہ رجنیش، یعنی اوشو، کے آشرم سے وابستہ ہوگئے۔ یہ فیصلہ ان کی زندگی کا ایک غیر معمولی موڑ تھا۔ تاہم چند برس بعد انہوں نے 1987 میں انصاف کے ذریعے دوبارہ فلمی دنیا میں واپسی کی۔ 1988 میں ریلیز ہونے والی دیاوان بھی ان کے کیریئر کی نمایاں فلموں میں شامل رہی۔
فلمی دنیا میں تقریباً چار دہائیوں تک سرگرم رہنے کے بعد ونود کھنہ نے 1990 کی دہائی میں سیاست کا رخ کیا۔ 1997 میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے 1998 میں گرداسپور سے لوک سبھا کا انتخاب جیتا۔ بعد میں وہ مرکزی حکومت میں وزیر بھی رہے۔ سیاست کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے بیٹے اکشے کھنہ کو فلمی دنیا میں متعارف کرانے کے لیے ہمالیہ پتر بنائی، اگرچہ یہ فلم کامیاب نہ ہوسکی۔
ونود کھنہ نے بڑے پردے کے ساتھ ٹیلی ویژن پر بھی کام کیا اور مہارانا پرتاپ اور میرے اپنے جیسے سیریلز میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اپنے تقریباً چار دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر میں انہوں نے تقریباً 150 فلموں میں کام کیا۔ 27 اپریل 2017 کو ونود کھنہ 70 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شخصیت اور فن آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔
ونود کھنہ کی زندگی دراصل ایک ایسے فن کار کی داستان ہے جس نے ولن سے ہیرو، ہیرو سے سپر اسٹار، سپر اسٹار سے روحانی طالب اور پھر سیاست دان تک کا سفر طے کیا۔ ان کی زندگی میں شہرت اور کامیابی کے ساتھ روحانی جستجو، ذاتی اتار چڑھاؤ اور عوامی زندگی کے تجربات بھی شامل رہے۔ یہی منفرد سفر انہیں صرف ایک کامیاب اداکار نہیں بلکہ ایک غیر معمولی اور کئی رنگوں والی شخصیت بناتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔