
بالی ووڈ کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے ہیں جنہوں نے اپنی اداکاری سے نہ صرف ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ کردار نگاری کے نئے معیار بھی قائم کیے۔ سنجیو کمار بھی ایسے ہی منفرد اداکار تھے، جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے کبھی روایتی ہیرو کی شبیہ کا سہارا نہیں لیا۔ وہ ہر طرح کے کردار میں اس خوبی سے ڈھل جاتے تھے کہ دیکھنے والوں کو محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کردار انہی کے لیے تخلیق کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار ہندی سنیما کے باصلاحیت اور ہمہ جہت اداکاروں میں ہوتا ہے۔
سنجیو کمار کی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ معروف فلم ساز کے آصف کی فلم 'لو اینڈ گاڈ' سے جڑا ہے۔ گرو دت کی اچانک موت کے بعد کے آصف نے اس فلم کی تیاری روک دی تھی اور اپنی نئی فلم 'سستا خون مہنگا پانی' کی شوٹنگ میں مصروف ہوگئے تھے۔ راجستھان کے شہر جودھپور میں فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک نوجوان اداکار اپنی باری کا انتظار کرتا رہا، لیکن تقریباً دس دن گزرنے کے باوجود اسے کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ بالآخر کے آصف نے اسے ممبئی واپس جانے کے لیے کہہ دیا۔ یہ سن کر نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
بعد میں جب کے آصف نے دوبارہ 'لو اینڈ گاڈ' بنانے کا فیصلہ کیا تو انہیں ایک ایسے اداکار کی تلاش تھی جس کی آنکھیں بھی پردے پر بولتی ہوں۔ ان کی نظر اسی نوجوان پر پڑی جسے وہ پہلے واپس بھیج چکے تھے۔ یہ نوجوان آگے چل کر سنجیو کمار کے نام سے فلمی دنیا میں مشہور ہوا۔ 'لو اینڈ گاڈ' کی تکمیل کے دوران بھی کئی مشکلات پیش آئیں اور یہ فلم سنجیو کمار کی وفات کے بعد 1986 میں ریلیز ہوئی۔
سنجیو کمار 9 جولائی 1938 کو گجرات کے شہر سورت میں ایک متوسط طبقے کے گجراتی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ہری ہر جیٹھا لال جری والا تھا۔ بچپن ہی سے انہیں فلموں میں کام کرنے کا شوق تھا۔ اسی خواب کو حقیقت بنانے کے لیے انہوں نے فلمالیہ کے ایکٹنگ اسکول میں داخلہ لیا۔ تاہم فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے انہوں نے تھیٹر میں بھی اپنی اداکاری کی صلاحیتوں کو نکھارا۔
ان کے فلمی سفر کا آغاز 1960 میں فلم 'ہم ہندوستانی' سے ہوا، جس میں انہیں ایک مختصر کردار ملا۔ 1965 میں فلم 'نشان' میں انہوں نے مرکزی اداکار کے طور پر کام کیا۔ ابتدائی برسوں میں انہیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خاصی جدوجہد کرنا پڑی۔ اس دوران انہوں نے 'اسمنگلر'، 'پتی پتنی'، 'حسن اور عشق'، 'بادل'، 'نونہال' اور 'گناہگار' سمیت متعدد فلموں میں کام کیا، لیکن ان میں سے بیشتر فلمیں باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔
1968 میں ریلیز ہونے والی فلم 'شکار' ان کے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں اگرچہ مرکزی توجہ دھرمیندر پر تھی، لیکن سنجیو کمار نے پولیس افسر کا کردار اس خوبی سے ادا کیا کہ ناظرین اور فلمی ناقدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کردار کے لیے انہیں فلم فیئر کا بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔
1970 میں فلم 'کھلونا' کی کامیابی نے انہیں ایک نمایاں اداکار کے طور پر شناخت دلائی۔ اسی سال فلم 'دستک' میں ان کی اداکاری کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور اس کے لیے انہیں بہترین اداکار کا قومی فلم ایوارڈ دیا گیا۔ 1972 میں گلزار کی فلم 'کوشش' میں انہوں نے ایک گونگے بہرے شخص کا کردار ادا کیا۔ اس کردار میں مکالموں کی گنجائش نہیں تھی، اس لیے انہیں اپنے جذبات صرف چہرے کے تاثرات، آنکھوں اور جسمانی حرکات کے ذریعے ظاہر کرنے تھے۔ سنجیو کمار نے یہ مشکل کام اس مہارت سے انجام دیا کہ یہ کردار ان کے کیریئر کی یادگار اداکاری میں شامل ہوگیا۔ اس فلم کے لیے انہیں دوسری مرتبہ بہترین اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔
سنجیو کمار کی سب سے بڑی خوبی کرداروں کے انتخاب میں ان کی بے خوفی تھی۔ وہ عمر، ظاہری شخصیت یا روایتی ہیرو کے تصور کو اپنے فن کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیتے تھے۔ فلم 'شعلے' میں ٹھاکر کا کردار اس کی بہترین مثال ہے۔ اس وقت وہ جیہ بھادڑی کے ساتھ 'کوشش' اور 'انامیکا' جیسی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرچکے تھے، لیکن 'شعلے' میں جیہ بھادڑی کے سسر کا کردار ادا کرنے سے بھی نہیں ہچکچائے۔ ان کی اداکاری نے ٹھاکر کو ہندوستانی سنیما کے ناقابل فراموش کرداروں میں شامل کردیا۔
فلم 'نیا دن نئی رات' میں نو مختلف کردار ادا کرکے انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا ایک اور ثبوت دیا۔ اس کے علاوہ 'سیتا اور گیتا'، 'انامیکا'، 'آندھی'، 'موسم'، 'تریشول'، 'پتی پتنی اور وہ' اور 'شطرنج کے کھلاڑی' جیسی فلموں میں بھی انہوں نے اپنی اداکاری کے مختلف رنگ دکھائے۔ سنجیدہ کردار ہوں یا مزاحیہ، جذباتی مناظر ہوں یا پیچیدہ نفسیاتی کیفیات، وہ ہر جگہ اپنی الگ چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہے۔ سنجیو کمار کو دو مرتبہ بہترین اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں فلم 'آندھی' اور 'ارجن پنڈت' کے لیے یہ اعزاز ملا، جبکہ 'شکار' کے لیے وہ بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ پہلے ہی حاصل کرچکے تھے۔
(ان پٹ: یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔