
سائرہ بانو اور دلیپ کمار / تصویر آئی اے این ایس
بالی وڈ میں سائرہ بانو کا شمار ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے 1960 اور 1970 کی دہائی میں اپنی دلکش شخصیت، خوبصورتی اور جاندار اداکاری سے ناظرین کے دلوں پر گہرا نقش چھوڑا۔ اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کے کردار ادا کرنے کی صلاحیت نے انہیں اپنے دور کی مقبول ترین اداکاراؤں میں شامل کیا۔
سائرہ بانو کی پیدائش 23 اگست 1944 کو ہوئی۔ ان کی والدہ نسیم بانو 1930 اور 1940 کی دہائی کی معروف اداکارہ تھیں اور اپنی بے مثال خوبصورتی کے باعث ’بیوٹی کوئین‘ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ سائرہ کا بچپن اور ابتدائی تعلیم لندن میں گزری۔ 1960 میں وہ ممبئی واپس آئیں اور اسی دوران فلمی دنیا میں ان کے لیے دروازے کھلنے شروع ہوئے۔
فلمساز و ہدایت کار ششر مکھرجی نے سائرہ بانو کی صلاحیت کو پہچانا اور انہیں اپنے بھائی سبودھ مکھرجی سے ملنے کا مشورہ دیا۔ سبودھ مکھرجی اس وقت اپنی فلم ’جنگلی‘ کے لیے ایک نئی ہیروئن کی تلاش میں تھے۔ سائرہ کو فلم میں کام کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے اسے قبول کرلیا۔
1961 میں ریلیز ہونے والی ’جنگلی‘ سائرہ بانو کے فلمی کیریئر کی پہلی فلم تھی، جس میں ان کے مقابل شمی کپور تھے۔ فلم میں سائرہ نے ایک معصوم اور دلکش کشمیری دوشیزہ کا کردار ادا کیا۔ بہترین موسیقی اور یادگار نغموں سے سجی یہ فلم زبردست کامیاب ہوئی اور سائرہ بانو کو راتوں رات فلمی دنیا میں شناخت مل گئی۔ انہیں اس فلم کے لیے فلم فیئر کی بہترین اداکارہ کی نامزدگی بھی حاصل ہوئی۔
اس کامیابی کے بعد سائرہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1963 میں وہ شمی کپور کے ساتھ ’بلف ماسٹر‘ میں نظر آئیں، جبکہ 1964 کی ’آئی ملن کی بیلا‘ نے ان کی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔ اسی دور میں ’آؤ پیار کریں‘، ’اپریل فول‘ اور ’دور کی آواز‘ جیسی فلموں نے بھی ان کے فلمی سفر کو وسعت دی۔
1966 میں سائرہ بانو نے بالی وڈ کے عظیم اداکار دلیپ کمار سے شادی کی۔ عمر میں نمایاں فرق کے باوجود دونوں کی جوڑی فلمی دنیا کی سب سے زیادہ زیر بحث اور مقبول جوڑیوں میں شامل رہی۔ شادی کے بعد بھی سائرہ نے اداکاری جاری رکھی اور کئی یادگار فلموں میں کام کیا۔
1967 سائرہ بانو کے کیریئر کا ایک اہم سال ثابت ہوا۔ ’دیوانہ‘ میں انہیں راج کپور کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جبکہ ’شاگرد‘ میں ان کی اداکاری کو خاص طور پر پسند کیا گیا۔ ’شاگرد‘ کے لیے انہیں فلم فیئر کی بہترین اداکارہ کی نامزدگی بھی ملی۔ اگلے برس 1968 میں ریلیز ہونے والی ’پڑوسن‘ نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ سنیل دت اور محمود کے ساتھ بننے والی یہ مزاحیہ فلم آج بھی ہندی سنیما کی یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔
1970 کی دہائی میں بھی سائرہ بانو نے کئی اہم فلموں میں کام کیا۔ ’پورب اور پچھم‘ میں انہوں نے مغربی ماحول میں پلی بڑھی ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جو ہندوستانی روایات اور ثقافت سے زیادہ واقف نہیں ہوتی۔ اسی سال ’گوپی‘ میں پہلی بار انہیں اپنے شوہر دلیپ کمار کے ساتھ اداکاری کا موقع ملا۔ بعد میں دونوں ’سگینہ‘ اور ’بیراگ‘ سمیت دیگر فلموں میں بھی ساتھ نظر آئے۔
سائرہ بانو کے فلمی سفر کی ایک اہم فلم 1975 کی ’چیتالی‘ تھی، جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ فلم کی ہدایت کاری ہری کیش مکھرجی نے کی تھی۔ اگرچہ فلم باکس آفس پر بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکی، لیکن سائرہ بانو کی اداکاری کو اس فلم میں خاص طور پر سراہا گیا۔
1976 میں ریلیز ہونے والی ’ہیرا پھیری‘ بھی ان کی نمایاں کامیاب فلموں میں شامل تھی، جس میں ان کے ساتھ امیتابھ بچن تھے۔ اسی دور کی ’نہلے پر دہلا‘ بھی ان کی کامیاب فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ بعد کے برسوں میں سائرہ بانو نے فلموں میں اپنی سرگرمیاں کم کردیں۔ ’دنیا‘ (1984) میں وہ اپنے شوہر دلیپ کمار کے ساتھ نظر آئیں، جبکہ ’فیصلہ‘ کی تاخیر سے 1988 میں ریلیز ان کی آخری فلمی پیش کش ثابت ہوئی۔
2006 میں سائرہ بانو نے بھوجپوری فلم ’اب تو بن جا سجنوا ہمار‘ کے ذریعے فلم پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھا۔ فلم میں نغمہ اور روی کشن نے اہم کردار ادا کیے تھے۔
تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنے فلمی سفر میں سائرہ بانو نے متعدد یادگار فلموں میں کام کیا۔ ’وکٹوریہ نمبر 203‘، ’جھک گیا آسمان‘، ’آدمی اور انسان‘، ’ریشم کی ڈوری‘، ’انٹرنیشنل کروک‘، ’سازش‘، ’ضمیر‘، ’کالا آدمی‘ اور ’بلیدان‘ سمیت ان کی کئی فلمیں آج بھی شائقینِ سنیما کو ان کے سنہرے دور کی یاد دلاتی ہیں۔
سائرہ بانو نے اپنے حسن، اداکاری اور مخصوص انداز سے ہندی سنیما میں ایک منفرد مقام بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کا نام بالی وڈ کی یادگار اداکاراؤں میں احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
(ان پٹ: یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔