
بی آر چوپڑا / آئی اے این ایس
ہندوستانی فلمی دنیا میں کئی ایسے نام ہیں جنہوں نے اپنی محنت، تخلیقی صلاحیت اور منفرد انداز سے فلمی تاریخ پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ انہی نامور شخصیات میں ایک اہم نام بلدیوراج چوپڑا کا ہے، جنہیں فلمی دنیا میں بی آر چوپڑا کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ وہ ایک ممتاز فلم ساز، ہدایت کار اور کہانیوں کو مؤثر انداز میں پردۂ سیمیں پر پیش کرنے والے فن کار تھے۔
بی آر چوپڑا نے اپنی فلموں کے ذریعے نہ صرف لوگوں کو تفریح فراہم کی بلکہ سماجی مسائل، خاندانی رشتوں، عورتوں کے حقوق، ازدواجی زندگی، انصاف اور انسانی اقدار جیسے موضوعات کو بھی اجاگر کیا۔ ان کی فلمیں اپنے دور کے سماجی حالات کی عکاسی کرتی تھیں اور آج بھی ہندوستانی سنیما کی اہم تخلیقات میں شمار ہوتی ہیں۔
ان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں فلموں کے علاوہ مشہور ٹیلی ویژن سیریل ''مہابھارت'' بھی شامل ہے، جس نے ہندوستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ہندستانی فلم انڈسٹری میں بی آر چوپڑا کو ایک ایسے فلمساز کے طور پر یاد کیا جائے گا جنہوں نے خاندانی، سماجی اور صاف ستھری فلمیں بناکر تقریباً پانچ دہائیوں تک فلم شائقین کے دلوں میں اپنی پہچان بنائے رکھی۔
پنجاب کے لدھیانہ شہر میں 22 اپریل 1914 کو پیدا ہوئے بی آر چوپڑا عرف بلدیو رائے چوپڑا بچپن سے ہی فلموں میں کام کرکے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنا چاہتے تھے۔ انہوں نے لاہور کے گورنمنٹ کالج سے انگریزی ادب میں گریجویشن کیا۔ بی آر چوپڑا نے اپنا کیرئیرفلمی صحافی کے طور پر شروع کیا۔ فلم میگزین 'سنے ہیرالڈ' میں وہ فلموں کا تجزیہ لکھا کرتے تھے۔ 1949 میں انہوں نے فلم 'کروٹ' سے فلمسازی کے میدان میں قدم رکھا لیکن یہ فلم بری طرح فلاپ رہی۔ انہوں نے 1951 میں، اشوک کمار کی اداکاری سے سجی فلم 'افسانہ' کی ہدایت کاری کی۔ اس فلم نےباکس آفس پر سلورجوبلی منائی؎اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے۔
بی آر چوپڑا نے 1955 میں بی آر فلمز کے بینر تلے سب سے پہلے فلم 'نیا دور' بنائی جس کے ذریعے انہوں نے دور جدید اور دیہی ثقافت کے درمیان ٹکراؤ کو سلور اسکرین پر پیش کیا جسے ناظرین نے کافی سراہا ۔ اس فلم نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ان کے بینر تلے بنی فلموں پر اگر ایک نظر ڈالی جائےتوان کی زیادہ تر فلمیں سماج کو پیغام دینے والی ہوتی تھیں جس میں وہ ہمیشہ ناظرین کو کچھ نیا دینا چاہتے تھے۔اسی کے پیش نظر انہوں نے 1960 میں ایک فلم قانون بنائی جو فلم انڈسٹری میں ایک نیا تجربہ تھا ۔ اس فلم میں ایک بھی نغمہ نہیں تھا۔
اپنے بھائی اور مشہور پروڈیوسر ، ڈائریکٹر یش چوپڑا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے میں بی آر چوپڑا کا اہم تعاون رہا ہے۔' دھول کا پھول، وقت اور اتفاق 'جیسی فلموں کی کامیابی کے بعد ہی یش چوپڑا فلم انڈسٹری میں ڈائریکٹر کے طور پرمشہور ہوئے تھے۔ معروف گلوکارہ آشا بھونسلے کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچانے والے بی آر چوپڑا نے اہم کردار نبھایا ہے ۔ پچاس کی دہائی میں جب آشا بھونسلے کو صرف بی اور سی گریڈ کی فلموں میں گلوکاری کا موقع ملتا تھا اس وقت انہوں نے آشا کی صلاحیت کو پہچانا اور اپنی فلم 'نیادور' میں گانے کا موقع دیا جو ان کے فلمی کیریئر کی پہلی سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے محمد رفیع اور آشا بھونسلے کی آواز میں 'مانگ کے ساتھ تمہارا، اڑے جب جب زلفیں تیری' جسے نغمات شائقین کے درمیان کافی مقبول ہوئے۔
بی آر چوپڑا کی فلموں کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سماجی مسائل کو کہانی کا حصہ بنا کر پیش کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح اور لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا وسیلہ بھی ہے۔ ان کی فلموں میں عورتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی،بیوہ عورتوں کی دوبارہ شادی کا مسئلہ، مذہبی اور سماجی تعصب، ازدواجی زندگی اور خاندانی رشتے، انصاف اور عدالتی نظام، جدید مشینوں اور انسانی محنت کے درمیان کشمکش، غربت، بے روزگاری اور سماجی نابرابری موضوعات کو خاص اہمیت حاصل رہی۔
ان کی فلموں میں مضبوط کہانی کے ساتھ بہترین موسیقی اور یادگار مکالموں کو بھی اہمیت دی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات کئی دہائیوں تک ناظرین کی پسندیدہ رہیں۔ فلم 'نیا دور'کی کامیابی کے بعد آشا بھونسلے کو اپنا صحیح مقام حاصل ہوا اس کے بعد انہوں نے اپنی بہت سے فلموں میں انہیں گانے کا موقع دیا۔ان میں ' وقت ، گمراہ، ہمراز، آدمی اور انسان اور دھند' اہم فلمیں ہیں ۔آشا بھونسلے کے علاوہ مشہور گلوکار مہندر کپور کو بھی فلم انڈسٹری میں قائم کرنے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔
اسی کی دہائی میں خرابی صحت کی وجہ سے بی آر چوپڑا نے فلمیں بنانا کم کردیا۔ 1985 میں انہوں چھوٹے پردہ کی جانب رخ کیا اور دوردرشن کی تاریخ میں اب تک سب سے کامیاب سیریل 'مہابھارت' بنایا ۔ تقریبا 96 فیصد ناظرین تک پہنچنے کے ساتھ اس سیریل نے اپنا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج کرایا ہے۔
بی آر چوپڑا کو 1998 میں ہندی سنیما کے سرفہرست دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 1960 میں انہیں فلم 'قانون' کے لئے سرفہرست ڈائرکٹر کا فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل ہوا تھا۔ انہوں نے فلم پروڈکشن کے علاوہ 'باغبان اور بابل' جیسی فلموں کی کہانی بھی لکھی۔اپنی فلموں کے ذریعے ناظرین کے درمیان خصوصی شناخت بنانے والے بی آر چوپڑا 5 نومبر 2008 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔