عرب ممالک

مکہ کے قریب ڈرون مار گرائے جانے کا سعودی عرب کا دعویٰ، حوثیوں کی تردید، حملہ کرنے سے انکار

حوثی باغیوں نے مکہ کے علاقے میں ڈرون مار گرائے جانے کے سعودی اتحاد کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی جانب کوئی فوجی کارروائی نہیں کی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ ان کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون مکہ کے علاقے میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔ حوثی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ تنظیم نے جمعہ کو سعودی عرب کی سرزمین کی جانب کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مکہ کے اوپر ڈرون کو روکنے سے متعلق سعودی اتحاد کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حوثی فورسز نے جمعہ کو سعودی عرب کی طرف کوئی فوجی آپریشن نہیں کیا۔

اس سے قبل سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر بیان جاری کرکے دعویٰ کیا تھا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے بھیجے گئے ایک ڈرون کو مکہ کے علاقے میں روک کر تباہ کر دیا گیا۔ تاہم انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے ہیں، جبکہ حوثی باغیوں نے بھی سعودی عرب کی سمت میزائل اور ڈرون داغنے کی کارروائیاں کی ہیں۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات اور وہاں آنے والے زائرین کی سلامتی سعودی عرب کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے ان مقامات کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ضروری اقدامات کرنے کی بات بھی کہی تھی۔

حوثی قیادت اس سے پہلے بھی مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے الزامات مسترد کرتی رہی ہے۔ گزشتہ ستمبر میں حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے اپنے ایک خطاب میں ان الزامات کو من گھڑت اور گمراہ کن معلومات قرار دیا تھا۔ حوثی زیر انتظام ٹیلی ویژن چینل المسیرہ پر نشر ہونے والے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ حوثی فورسز کی جانب سے مکہ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ سعودی عرب یمن کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے اس طرح کے الزامات عائد کر رہا ہے۔ عبدالملک الحوثی نے یہ بھی کہا تھا کہ نسبتاً پُرامن دور کے باوجود سعودی عرب نے سیاسی حل کی جانب پیش رفت نہیں کی، جبکہ حوثی کنٹرول والے علاقوں پر پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ہوائی اڈوں کے آپریشن اور درآمدات پر عائد پابندیاں بھی بدستور حل طلب مسائل ہیں۔

واضح رہے کہ یمن میں دسمبر 2014 سے خانہ جنگی جاری ہے۔ اس وقت حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء اور شمالی یمن کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد یمن کی حکومت کی حمایت میں سعودی قیادت والے اتحاد نے 2015 میں فوجی مداخلت کی تھی۔

سعودی اتحاد اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی حوثیوں پر بیلسٹک میزائل کے ذریعے مکہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کا الزام لگا چکا ہے۔ حوثی قیادت نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا تھا۔ ادارتی نوٹ: خبر میں سعودی اتحاد کے ڈرون روکنے کے دعوے اور حوثیوں کی تردید کو الگ الگ فریقوں سے منسوب رکھا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔