<rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"><channel><title>Qaumi Awaz</title><link>https://www.qaumiawaz.com</link><description>Qaumi Awaz Urdu: Your trusted source for breaking and latest news in the Urdu language. Get real-time updates, deep-dive stories, and live news coverage on politics, business, sports, and more. قومی آواز، اردو نیوز، تازہ ترین خبریں—read it first, read it in Urdu.</description><atom:link href="https://www.qaumiawaz.com/stories.rss?section=news" rel="self" type="application/rss+xml"></atom:link><language>ur</language><lastBuildDate>Thu, 13 Aug 2026 14:40:40 +0530</lastBuildDate><sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod><sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency><item><title>ایئر انڈیا ٹربولنس: پرواز کے دوران آدھے گھنٹے کے لیے سو گیا تھا پائلٹ!</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/air-india-turbulence-pilot-fell-asleep-for-half-an-hour-during-flight</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/air-india-turbulence-pilot-fell-asleep-for-half-an-hour-during-flight#comments</comments><guid isPermaLink="false">bb318bb1-088b-493b-a24f-e3f8e67ab548</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:40:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T14:40:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئر انڈیا پرواز کا پائلٹ نشے میں دھت ہو کر طیارہ اڑا رہا تھا، وہ پرواز کے دوران آدھے گھنٹے کے لیے سو گیا تھا۔]]></description><media:keywords>Sleep,Air India,Pilot,Drinking Alcohol,Turbulence</media:keywords><media:content height="366" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2025-06-30/otk090fu/air%20india.jpg" width="650"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p>ایئر انڈیا علامتی تصویر</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2025-06-30/otk090fu/air%20india.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>ٹربولنس والی ایئر انڈیا کی پھوکیت-دہلی فلائٹ (اے 320) کے حوالے سے ایک نئی جانکاری سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس پرواز کا جو پائلٹ نشے میں دھت ہو کر طیارہ اڑا رہا تھا، وہ پرواز کے دوران آدھے گھنٹے کے لیے سو گیا تھا۔ پوچھ تاچھ میں اس نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے والوں کو بتایا کہ ذاتی وجوہات اور تناؤ کی وجہ سے اسے سونے میں پریشانی ہو رہی تھی۔ اس وجہ سے وہ اپنے فیملی ڈاکٹر کے مشورے پر نیند کی گولی کھاتا تھا۔ اس نے پرواز کے دوران صرف 35-30 منٹ کی نیند لی تھی۔ پائلٹ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسے کافی عرصے سے نیند نہ آنے کی شکایت ہے۔ فیملی ڈاکٹر کے مشورے پر وہ نیند کی گولی لیتا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پائلٹ نے عملہ کے رکن سے سگریٹ نوشی کرنے کے لیے لائٹر مانگا تھا۔</p><p>اس سے قبل بھی ٹربولنس واقعہ کو لے کر مختلف انکشافات سامنے آ چکے ہیں۔ پہلے یہ خبر آئی کہ پائلٹ کا ڈوپ ٹیسٹ پازیٹو پایا گیا ہے، پھر یہ کہا گیا کہ پائلٹ نشے میں دھت تھا، یعنی گانجہ پی کر طیارہ اڑا رہا تھا۔ اس کے بعد جو خبر آئی اس میں یہ بتایا گیا کہ طیارے میں کئی طرح کی خامیاں تھیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا کہ طیارے کا ہائیڈرولک سسٹم کم از کم 3 بار خراب ہوا تھا۔ اس کے علاوہ آٹو پائلٹ بھی بند ہو گیا تھا۔ اس کے فوراً بعد کو پائلٹ نے خود ہاتھ سے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا۔</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/news/some-important-revelations-during-the-investigation-into-the-air-india-turbulence-case-13-faults-revealed-in-the-post-flight-report-within-80-minutes">ایئر انڈیا ٹربولنس معاملہ کی تحقیقات کے دوران کچھ اہم انکشافات، پوسٹ فلائٹ رپورٹ میں 80 منٹ کے اندر 13 خامیاں ظاہر!</a></aside><p>رپورٹ کے مطابق طیارے کے کئی انڈیکیٹر سوئچ کچھ دیر کے لیے بند ہو گئے تھے۔ اس دوران طیارے کو ہوا میں جھٹکے بھی لگے۔ اس کے بعد طیارہ اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آ گیا۔ گزشتہ 4 اگست کو پیش آنے والے اس واقعے (ٹربولنس) میں 17 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں کئی مسافر اور عملہ کے اراکین شامل تھے۔ اس واقعہ کے بعد کمپنی نے دونوں پائلٹس کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا اور اے اے آئی بی کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، اسپیکر کی چائے پارٹی کا اپوزیشن نے کیا بائیکاٹ</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/both-houses-of-parliament-adjourned-indefinitely-opposition-boycotts-speakers-tea-party</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/both-houses-of-parliament-adjourned-indefinitely-opposition-boycotts-speakers-tea-party#comments</comments><guid isPermaLink="false">4fe0112a-1cc9-40e3-83df-ddad60119542</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:20:32 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T14:20:32.160+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے حسب روایت تقریر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج کیسا رہا، اس لیے حزب اختلاف نے لوک سبھا اسپیکر کی روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔]]></description><media:keywords>TEA,Parliament Session,Attend,Kanimozhi,Speaker Om Birla,Opposition Boycott,All Party Meet</media:keywords><media:content height="844" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2024-07/306dee0b-810b-48d9-9f72-76152c3fc59b/Central%20Vista_IA.jpg" width="1500"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p>نئی پارلیمنٹ/ آئی اے این ایس</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2024-07/306dee0b-810b-48d9-9f72-76152c3fc59b/Central%20Vista_IA.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج یعنی جمعرات کے روز اختتام پذیر ہو گیا۔ دونوں ایوانوں کی &nbsp;کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اس کے بعد لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے چائے پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس کا اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے بائیکاٹ کیا۔ وزیر اعظم مودی، امت شاہ، راجناتھ سنگھ سمیت این ڈی اے کے کئی لیڈران اس چائے پارٹی میں موجود تھے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ڈی ایم کے کی لیڈر کنی موزی اسپیکر کی چائے پارٹی میں شامل ہوئیں۔</p><p>کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے حسب روایت لوک سبھا میں اپنی تقریر نہیں کی، اور نہ ہی یہ بتایا کہ پارلیمنٹ کا کام کاج کیسا رہا، اس لیے حزب اختلاف نے ان کی روایتی چائے پارٹی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس سے قبل چائے پارٹی میں پرینکا گاندھی کو بھیجنے کا پروگرام تھا۔ سونیا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے بھی چائے پارٹی میں شرکت کرنے والے تھے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے یہ میٹنگ رکھی جاتی ہے۔ اس کا مقصد حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان باہمی تلخی کو کم کرنا اور خوشگوار ماحول قائم کرنا ہوتا ہے۔</p><p>اس چائے پارٹی کا جب اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا، تو ڈی ایم کے کی طرف سے کنی موزی کا اس تقریب میں شرکت کئی لوگوں کو حیران کر رہا ہے۔ سیاسی ماہرین کنی موزی کی اس چائے پارٹی میں شرکت کو ایک بڑا سیاسی قدم بتا رہے ہیں۔ کانگریس نے تمل ناڈو میں جب ٹی وی کے سے ہاتھ ملایا، تبھی سے ڈی ایم کے نے کانگریس سے دوری بنانی شروع کر دی ہے۔ اب اس کا فائدہ حکمراں جماعت اٹھانا چاہتی ہے، اسی لیے چائے پارٹی میں کنی موزی کی تصویر پی ایم مودی کے ساتھ سامنے آنے پر کئی طرح کے سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا جنوبی ہندوستان میں نمائندگی کی لڑائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈی ایم کے حد بندی معاملہ پر مودی حکومت کی حمایت کرے گی؟ کنی موزی کا چائے پارٹی میں شامل ہونا یہ اشارہ ضرور کرتا ہے کہ ڈی ایم کے بھلے ہی این ڈی اے کے ساتھ نہیں ہے، لیکن یہ مکمل طور پر حد بندی کے خلاف بھی نہیں ہے۔</p><p>دراصل ڈی ایم کے چاہتی ہے کہ حد بندی منصفانہ طریقے سے عمل میں آئے، تاکہ تمل ناڈو کی آواز پارلیمنٹ میں کمزور نہ ہو۔ ڈی ایم کے کو پتہ ہے کہ صرف پارلیمنٹ کے اندر ہنگامہ کرنے یا کانگریس کے ساتھ بائیکاٹ کرنے سے تمل ناڈو کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوگی۔ اس کے لیے برسراقتدار جماعت اور لوک سبھا اسپیکر کے ساتھ گفتگو کا راستہ کھلا رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جب حد بندی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تو ریاست کے موقف کو مضبوطی کے ساتھ سامنے رکھا جا سکے گا۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>ستمبر میں مانسون کو لے کر موسمیاتی ادارے تشویش میں مبتلا، دہلی اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں کے لیے وارننگ</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/meteorological-agencies-are-concerned-about-the-monsoon-in-september-warning-for-many-states-including-delhi-and-haryana</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/meteorological-agencies-are-concerned-about-the-monsoon-in-september-warning-for-many-states-including-delhi-and-haryana#comments</comments><guid isPermaLink="false">18861262-8d45-4c77-adea-c59d806f8e99</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 14:00:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T14:00:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ ستمبر جنوب مغربی مانسون کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اسی دوران کئی ریاستوں میں خریف فصلوں کو آخری دور کی بارش ملتی ہے۔ اگر اس مہینے میں بارش معمول سے کم رہتی ہے تو کسانوں کی تشویش بڑھ سکتی ہے۔]]></description><media:keywords>India,madhya pradesh,rainfall,Monsoon,Guajrat,September,Maharahstra</media:keywords><media:content height="2177" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2025-09-20/zkz0xksh/22SEPPSB3U.jpg" width="3871"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p> بارش کی فائل تصویر / یو این آئی</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2025-09-20/zkz0xksh/22SEPPSB3U.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>ستمبر میں ملک کے مختلف حصوں میں مانسون کمزور پڑ سکتا ہے۔ یورپ کے موسمی ماڈل ای سی ایم ڈبلیو ایف کے تازہ اندازے میں مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش سمیت کئی ریاستوں میں معمول سے کم بارش ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ یہ اندازہ ستمبر کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو زراعت، آبی ذخائر اور پانی کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف ایک موسمی ماڈل کا اندازہ ہے۔ موسمی صورتحال تبدیل ہونے پر اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔</p><p>ستمبر جنوب مغربی مانسون کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ اسی دوران کئی ریاستوں میں خریف فصلوں کو آخری دور کی بارش ملتی ہے۔ اگر اس مہینے میں بارش معمول سے کم رہتی ہے تو کسانوں کی تشویش بڑھ سکتی ہے۔ ماہرین موسمیات بھی مسلسل نئے اعداد و شمار اور مختلف ماڈلز کی بنیاد پر مانسون کی صورتحال پر نظر رکھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کئی موسمی ایجنسیوں نے بھی مانسون کے دوسرے حصے میں بارش کمزور پڑنے کے امکانات ظاہر کیے تھے۔ محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بھی اگست اور ستمبر میں ملک کے مختلف حصوں میں معمول سے کم بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ایسے میں سبھی کی نظر ستمبر کے موسم پر ہے۔</p><p>’یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس‘ (ای سی ایم ڈبلیو ایف) کو دنیا کے سب سے قابل اعتماد موسمی ماڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل سیٹلائٹ، موسمی مراکز، سمندر اور ہوا سے حاصل ہونے والے لاکھوں اعداد و شمار کا تجزیہ کر کے موسم کی پیش گوئی تیار کرتا ہے۔ اس کے تازہ ماڈل میں مغربی، وسطی اور شمالی ہندوستان کے کئی حصوں کو سب سے کم بارش والے زمرے (لوئسٹ پرسنٹائل کیٹیگری) میں رکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں معمول سے کافی کم بارش ہونے کا امکان ہے۔ ماڈل کے مطابق مہاراشٹر، گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی، پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ، تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں ستمبر کے دوران معمول سے کم بارش ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کھیتوں میں کھڑی خریف فصلوں، آبی ذخائر میں پانی کی سطح اور پینے کے پانی کی دستیابی پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p><p>ہندوستان میں سالانہ بارش کا تقریباً 70 فیصد حصہ جنوب مغربی مانسون سے حاصل ہوتا ہے۔ ستمبر مانسون کا آخری مہینہ ہوتا ہے اور اسی وقت دھان، سویابین، کپاس، مکئی جیسی کئی خریف فصلوں کو اچھی بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس مہینے بارش کم ہوتی ہے تو فصلوں کی پیداوار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کئی ریاستوں میں ڈیم اور آبی ذخائر بھی اسی بارش پر منحصر رہتے ہیں۔ موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی موسمی ماڈل صرف امکانات ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے جیسے ستمبر قریب آئے گا، نئے موسمی نظام اور تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اندازے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے فی الحال اسے ابتدائی اشارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ستمبر کے لیے حتمی اور زیادہ درست تصویر آنے والے دنوں میں آئی ایم ڈی اور دیگر موسمی ایجنسیوں کی نئی پیش گوئیوں سے واضح ہوگی۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>ہلدوانی ’شدھی کرن‘ معاملہ کو پرینکا نے بی جے پی-آر ایس ایس کی گری ہوئی ذہنیت بتایا، پی ایم مودی سے معافی کا مطالبہ</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/priyanka-gandhi-demands-apology-from-pm-narendra-modi-over-haldwani-shuddhikaran-incident</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/priyanka-gandhi-demands-apology-from-pm-narendra-modi-over-haldwani-shuddhikaran-incident#comments</comments><guid isPermaLink="false">f349890b-819f-4133-9fcb-b613a09c454e</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 13:40:33 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T13:40:33.844+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی تقریر کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کرنا بی جے پی-آر ایس ایس کی گری ہوئی ذہنیت کا مظاہرہ ہے۔‘‘]]></description><media:keywords>Priyanka Gandhi,PM MODI,PARLIAMENT,mallikarjun kharge,Haldwani</media:keywords><media:content height="1024" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-04-18/88xbzbj1/priyanka-gandhi.png" width="1820"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p> پرینکا گاندھی (ویڈیو گریب)</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-04-18/88xbzbj1/priyanka-gandhi.png?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ (8 اگست) کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی واقع رام لیلا میدان میں ہوئی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ سے خطاب کیا تھا۔ کھڑگے ریلی کر کے واپس دہلی آ گئے، لیکن اب رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن‘ پوجا کی خبر سرخیوں میں ہے، جس پر کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔&nbsp;پارلیمنٹ احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی تقریر کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کرنا بی جے پی-آر ایس ایس کی گری ہوئی ذہنیت کا مظاہرہ ہے۔ وزیر اعظم مودی کو اس کی مذمت کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کا اجلاس مکمل ہو گیا اور آج وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آئے ہیں، تو یہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کیسے چلے گی؟‘‘</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="hi" dir="ltr">हल्द्वानी में कांग्रेस अध्यक्ष श्री मल्लिकार्जुन खरगे जी के भाषण के स्टेज का शुद्धिकरण करना BJP-RSS की गिरी हुई मानसिकता का प्रदर्शन है। <br><br>PM मोदी को इसका खंडन कर माफी मांगनी चाहिए। <br><br>संसद सत्र पूरा हो गया और आज प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी, गृह मंत्री अमित शाह सदन में आए हैं, तो… <a href="https://t.co/ZZfuFpvD0M">pic.twitter.com/ZZfuFpvD0M</a></p>&mdash; Congress (@INCIndia) <a href="https://x.com/INCIndia/status/2087793203290521772?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/rajya-sabha-kharge-expresses-displeasure-over-purification-incident-in-haldwani-nadda-promises-to-get-it-investigated">راجیہ سبھا: ہلدوانی میں ’شدھی کرن‘ واقعہ پر کھڑگے کا اظہارِ ناراضگی، نڈا نے جانچ کرانے کا کیا وعدہ</a></aside><p>ہلدوانی ’شدھی کرن‘ معاملے پر پارلیمانی احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’ہلدوانی میں جو ہوا وہ ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور یہ ملک کو تقسیم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اگر بی جے پی کے اصولوں پر یقین رکھنے والے لوگ مذہب کے نام پر ’شدھی کرن‘ کرتے ہیں تو یہ ملک کو برباد کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں اس رویے کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ ہلدوانی میں ’شدھی کرن‘ کرنے والے تمام لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، انہیں گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="hi" dir="ltr">हल्द्वानी में जो हुआ, वह देश के लिए सही नहीं है और यह देश को बांटने का काम करता है। <br><br>अगर BJP के उसूलों में विश्वास रखने वाले लोग धर्म के नाम पर शुद्धिकरण करते हैं, तो ये देश को बर्बाद करने वाले लोग हैं। मैं इस रवैये की निंदा करता हूं। <br><br>हल्द्वानी में शुद्धिकरण करने वाले सभी… <a href="https://t.co/0eHElDxkOG">pic.twitter.com/0eHElDxkOG</a></p>&mdash; Congress (@INCIndia) <a href="https://x.com/INCIndia/status/2087801352126914897?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>پارلیمانی احاطے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم پہلے سے کہتے آ رہے ہیں کہ اس ملک میں دلتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ آخر وہاں ’ہَون‘ کی کیا ضرورت تھی؟ ہلدوانی، اتراکھنڈ کے رام لیلا میدان میں ہر پارٹی کے لوگ جلسۂ عام کرتے ہیں لیکن وہاں جو کچھ کیا گیا وہ ہندو مذہب کے خلاف ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی کے لوگ ملک کو تقسیم کرنے اور ذاتوں &nbsp;کے درمیان جھگڑا کرانے کا کام کر رہے ہیں۔‘‘</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="hi" dir="ltr">हम पहले से कहते आ रहे हैं कि इस देश में दलितों के लिए कोई जगह नहीं है। आखिर वहाँ &#39;हवन&#39; की क्या ज़रूरत थी? <br><br>हल्द्वानी, उत्तराखण्ड के रामलीला मैदान में हर पार्टी के लोग जनसभा करते हैं, लेकिन वहाँ जो किया गया, वह हिंदू धर्म के खिलाफ़ है। <br><br>इससे यह भी साफ होता है कि BJP के लोग देश… <a href="https://t.co/UNQtq5vspi">pic.twitter.com/UNQtq5vspi</a></p>&mdash; Mallikarjun Kharge (@kharge) <a href="https://x.com/kharge/status/2087780467303231866?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure>]]></content:encoded></item><item><title>آرٹیمس مشن: چاند پر انسانوں کو بسانے کی تیاریاں تیز، ناسا نے پروگرام میں شمولیت کے لیے اسرو کو کیا مدعو</title><link>https://www.qaumiawaz.com/news/preparations-for-human-settlement-on-the-moon-nasa-invites-isro-to-join</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/news/preparations-for-human-settlement-on-the-moon-nasa-invites-isro-to-join#comments</comments><guid isPermaLink="false">b1dd9504-8fd9-4a1e-b28c-37ceeae8cf50</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 12:40:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T12:40:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ ناسا چاند پر ایسے بیس بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں انسان مستقبل میں طویل عرصے تک مقیم رہ سکیں گے۔ اس کے لیے پہلے روور، روبوٹ اور دیگر آلات چاند پر بھیجے جائیں گے۔]]></description><media:keywords>science,Moon,NASA,mission,ISRO,Mission Moon,Base</media:keywords><media:content height="763" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-05-04/94eqvphe/Nasa_U_25-05.jpg" width="1356"><media:title type="html"><![CDATA[ ناسا، تصویر آئی اے این ایس]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-05-04/94eqvphe/Nasa_U_25-05.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اسرو کو اپنے ’مون بیس‘ پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ یہ پروگرام آرٹیمس مشن کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد چاند پر انسانوں کو طویل عرصے تک بھیجنے اور وہاں کام کرنے کی تیاری کرنا ہے۔ اس سے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان خلا میں تعاون مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ بات ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والی ایک اہم میٹنگ میں سامنے آئی۔ یہ میٹنگ بنگلورو میں اسرو کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی۔ اس میں دونوں ممالک کے عہدیداروں نے خلائی سائنس اور انسانوں کو خلا میں بھیجنے سے متعلق کام پر تبادلۂ خیال کیا۔ اسی دوران ناسا نے اسرو کو مون بیس پروگرام میں شامل ہونے کی بھی دعوت دی۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">NASA has invited <a href="https://x.com/isro?ref_src=twsrc%5Etfw">@ISRO</a> to join its Moon Base program, deepening the U.S.-India deep space partnership! The news came as <a href="https://x.com/StateDept?ref_src=twsrc%5Etfw">@StateDept</a> and <a href="https://x.com/NASA?ref_src=twsrc%5Etfw">@NASA</a> co-chaired the 9th Civil Space Joint Working Group in Bengaluru, advancing the - TRUST initiative. <a href="https://t.co/qLbhitmHCO">https://t.co/qLbhitmHCO</a></p>&mdash; Ambassador Sergio Gor (@USAmbIndia) <a href="https://x.com/USAmbIndia/status/2087121761045541307?ref_src=twsrc%5Etfw">August 11, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>دراصل ناسا چاند پر ایسے بیس بنانے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں انسان مستقبل میں طویل عرصے تک مقیم رہ سکیں گے۔ اس کے لیے پہلے روور، روبوٹ اور دیگر آلات چاند پر بھیجے جائیں گے۔ ان چیزوں کے ذریعہ چاند کی زمین اور وہاں موجود چیزوں کے حوالے سے اطلاعات جمع کی جا سکیں گی۔ آرٹیمس مشن کے تحت ناسا انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں چاند پر طویل مشن میں کام آئے گی۔ چاند کے جنوبی قطب پر جمی برف بھی ان مشنز کے لیے کافی اہم مانی جاتی ہے۔</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/isro-creates-history-launches-heaviest-satellite-blue-bird-block-3-from-bahu-bali-rocket">اسرو نے رقم کردی تاریخ! ’ باہو بلی‘ راکٹ سے سب سے وزنی سیٹلائٹ ’بلیو برڈ بلاک-3‘ لانچ</a></aside><p>ہندوستان پہلے ہی چاند پر پہنچنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ 2023 میں چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب کے قریب کامیاب لینڈنگ کی تھی۔ اس کے ساتھ ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا تھا۔ اس کے روور نے چاند کی سطح پر کئی تحقیقات کی تھیں۔ ہندوستان کے اپنے بھی بڑے خلائی منصوبے ہیں۔ اسپیس وژن 2047 کے تحت ہندوستان کا ہدف 2040 تک انسانوں کو چاند پر بھیجنا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان اپنا ہندوستانی خلائی اسٹیشن بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کا پہلا ماڈیول 2028 تک بھیجنے کا ہدف ہے۔</p><p>قابل ذکر ہے کہ ناسا اور اسرو کی شراکت داری نئی نہیں ہے۔ دونوں ایجنسیوں نے ’نثار‘ سیٹلائٹ مشن پر ساتھ کام کیا تھا۔ اسے جولائی 2025 میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستانی خلائی مسافر گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا 2025 میں ایکسیوم-4 مشن کے ذریعے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن گئے تھے۔ اب مون بیس میں ساتھ کام کرنے سے ہندوستان اور امریکہ کی شراکت داری چاند کی کھوج میں بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>راجیہ سبھا: ہلدوانی میں ’شدھی کرن‘ واقعہ پر کھڑگے کا اظہارِ ناراضگی، نڈا نے جانچ کرانے کا کیا وعدہ</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/rajya-sabha-kharge-expresses-displeasure-over-purification-incident-in-haldwani-nadda-promises-to-get-it-investigated</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/rajya-sabha-kharge-expresses-displeasure-over-purification-incident-in-haldwani-nadda-promises-to-get-it-investigated#comments</comments><guid isPermaLink="false">bda1564a-759a-42ae-92ad-0438f0f9684f</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 12:11:55 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T12:11:55.957+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ ایوانِ بالا میں کھڑگے نے کہا کہ ’’میں اپنے ایس سی ہونے کو ایشو نہیں بناتا، لیکن شدھی کرن واقعہ سے میری بے عزتی کی گئی ہے۔ میری تقریر کے بعد پوجا کر کے اس اسٹیج کی تطہیر کا عمل انجام دیا گیا۔‘‘]]></description><media:keywords>rajya sabha,mallikarjun kharge,purification,JP Nadda,Haldwani</media:keywords><media:content height="941" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-08-13/f51nsgn4/Kharge-Nadda.png" width="1672"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p>ملکارجن کھڑگے اور جے پی نڈا راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-08-13/f51nsgn4/Kharge-Nadda.png?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے 8 اگست کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی واقع رام لیلا میدان میں ہوئی ’وجے شنکھ ناد ریلی‘ کی تھی۔ کھڑگے ریلی کر کے واپس دہلی آ گئے، لیکن اب رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن‘ پوجا کی خبر سرخیوں میں ہے، جس پر کانگریس نے اپنا سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ اس معاملہ پر آج پارلیمنٹ میں بھی ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="hi" dir="ltr">मैंने हल्द्वानी के रामलीला मैदान में एक जनसभा को संबोधित किया।<br><br>उस जनसभा में मैंने किसी जाति या धर्म का नाम नहीं लिया, सिर्फ जनता की समस्याओं पर बात की। <br><br>लेकिन बड़े दुख के साथ कहना पड़ता है कि मेरे भाषण के बाद BJP के लोगों ने वहां हवन किया और उस स्टेज का शुद्धिकरण करने का काम… <a href="https://t.co/GG7dNXMcZv">pic.twitter.com/GG7dNXMcZv</a></p>&mdash; Congress (@INCIndia) <a href="https://x.com/INCIndia/status/2087780762242416685?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>آج راجیہ سبھا کی کارروائی کے دوران ایوان میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’میں اپنے درج فہرست ذات (ایس سی) یا دلت ہونے کو ایشو نہیں بناتا، لیکن ’شدھی کرن‘ واقعہ سے میری توہین کی گئی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بڑی تکلیف کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں نے ہلدوانی میں عوامی خطاب کے دوران رام لیلا میدان میں تقریر کی۔ لاکھوں لوگ وہاں موجود تھے۔ اس وقت میں نے کسی سماج یا کسی مذہب کا نام نہیں لیا، وہاں صرف لوگوں کے مسائل بیان کیے۔ لیکن میری تقریر کے بعد کل اُن لوگوں نے پوجا کر کے اس اسٹیج کی تطہیر کا کام کیا۔‘‘</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="hi" dir="ltr">मैं इस बात को राजनीतिक मुद्दा नहीं बनाना चाहता। मैं वर्षों से इस सदन का सदस्य हूं और निचले सदन में भी रहा।<br><br>मैंने कभी किसी से यह नहीं कहा कि मैं दलित हूं, मेरी रक्षा करो और न ही किसी के सामने गिड़गिड़ाया। मुझ में लड़ने की शक्ति है और मैं लड़ता हूं। <br><br>लेकिन हल्द्वानी में स्टेज का… <a href="https://t.co/gvOanoG81i">pic.twitter.com/gvOanoG81i</a></p>&mdash; Congress (@INCIndia) <a href="https://x.com/INCIndia/status/2087783375725891611?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>کھڑگے کے اس بیان پر مرکزی وزیر جے پی نڈا نے ایوانِ بالا میں کہا کہ ’’حکومت اس عمل کی مذمت کرتی ہے اور اس کی جانچ کرائی جائے گی۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی ایسی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی۔ میں آپ کے جذبات کی حمایت کرتا ہوں۔ ہمارے لیے بھی یہ افسوسناک ہے۔ براہ کرم بار بار یہ مت کہیے کہ ’ہم نے کیا‘۔ بی جے پی اس کی حمایت نہیں کرتی۔‘‘‘ اس پر کھڑگے نے کہا کہ ’’میں نڈا جی کا نام نہیں لے رہا ہوں۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ معاملہ درج کیا جائے اور جن لوگوں نے ایسا کیا ہے، انہیں گرفتار کیا جائے۔ ہمارا یہی مطالبہ ہے۔‘‘</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">Delhi: Rajya Sabha Leader of the House and Union Minister JP Nadda says, &quot;What Kharge ji said is really sad, not just for the Congress party but for all of us. Because he said that BJP people... Let me clarify that the BJP does not subscribe to such activities...&quot; <a href="https://t.co/00a5rFm6mB">pic.twitter.com/00a5rFm6mB</a></p>&mdash; IANS (@ians_india) <a href="https://x.com/ians_india/status/2087781593075388488?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>اس معاملہ میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن نے کہا کہ ’’اگر چھوا چھوت گناہ نہیں ہے تو اس دنیا میں کوئی گناہ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم سب اس (شدھی کرن واقعہ) کی مذمت کرتے ہیں، چاہے ہماری پارٹی کوئی بھی ہو۔ ہم سب پاک ہیں۔ جن لوگوں نے یہ کیا ہے، انہیں پکڑا جانا چاہیے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔‘‘ اس دوران کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ ہلدوانی میں جن لوگوں نے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کیا، ان پر چھوا چھوت ایکٹ کے تحت کیس درج ہو اور انھیں گرفتار کر جیل بھیجا جائے۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="hi" dir="ltr">मेरी मांग है:<br><br>हल्द्वानी में जिन लोगों ने स्टेज का शुद्धिकरण किया, उन पर Untouchability Act के तहत केस दर्ज हो और उन्हें गिरफ्तार कर जेल भेजा जाए।<br><br>: कांग्रेस अध्यक्ष और राज्यसभा में नेता प्रतिपक्ष श्री <a href="https://x.com/kharge?ref_src=twsrc%5Etfw">@kharge</a> <a href="https://t.co/z4oBsRrSh3">pic.twitter.com/z4oBsRrSh3</a></p>&mdash; Congress (@INCIndia) <a href="https://x.com/INCIndia/status/2087784924585873863?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>قابل ذکر ہے کہ ہلدوانی ریلی کے بعد ’شری رام سینا دھرمارتھ سیوا نیاس‘ کی جانب سے رام لیلا میدان میں ’شدھی کرن یگیہ‘ کرایا گیا تھا۔ تنظیم کے اراکین نے کھڑگے کو سناتن اور ہندو تنظیموں کا مخالف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ جس میدان میں رام لیلا کا انعقاد ہوتا ہے، وہاں ایسے شخص کے آنے کے بعد میدان کی تطہیر کیا جانا ضروری تھا۔ اب کانگریس کے درج فہرست ذات مورچہ نے اس پورے واقعہ کو دلت مخالف ذہنیت قرار دیتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ شدھی کرن یگیہ بی جے پی سے وابستہ لوگوں نے کرایا ہے۔ پارٹی لیڈران نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کانگریس کی ریلی کے بعد ہی رام لیلا میدان کے ’شدھی کرن‘ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟</p>]]></content:encoded></item><item><title>لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی، راجیہ سبھا میں ہنگامہ جاری</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/lok-sabha-adjourned-indefinitely-uproar-continues-in-rajya-sabha</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/lok-sabha-adjourned-indefinitely-uproar-continues-in-rajya-sabha#comments</comments><guid isPermaLink="false">f11f3afd-a200-4134-9728-483586698a7a</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 11:40:42 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T11:40:42.283+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ لوک سبھا میں آج مکمل وندے ماترم گایا گیا۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی سمیت تمام اراکین پارلیمنٹ کھڑے ہوئے۔]]></description><media:keywords>lok sabha,rajya sabha,Monsoon Session,Parliament Session,Lok Sabha Adjourned</media:keywords><media:content height="506" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-07-31/iutvhilq/Lok-Sabha.jpg" width="900"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p>لوک سبھا، تصویر سوشل میڈیا</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-07-31/iutvhilq/Lok-Sabha.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا آج آخری دن ہے۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں آج بھی ایک دوسرے کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ پہلے انھوں نے پارلیمنٹ احاطہ میں ایک دوسرے کے خلاف مظاہرہ کیا، اور پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ اس دوران لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="tl" dir="ltr">Lok Sabha adjourned sine die. <a href="https://x.com/hashtag/MonsoonSession2026?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#MonsoonSession2026</a> <a href="https://t.co/QQnEg7VBO4">pic.twitter.com/QQnEg7VBO4</a></p>&mdash; All India Radio News (@airnewsalerts) <a href="https://x.com/airnewsalerts/status/2087775842202173494?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>لوک سبھا میں آج جب کارروائی شروع ہوئی تو ابتدا میں ہی مکمل ’وندے ماترم‘ کی گونج ایوانِ زیریں میں سنائی دی۔ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سمیت تمام اراکین پارلیمنٹ ’وندے ماترم‘ کے لیے کھڑے ہوئے اور ایوان میں پُرسکون انداز کے ساتھ ’وندے ماترم‘ مکمل ہوا۔ ’وندے ماترم‘ کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے لوک سبھا کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">Amit Shah and Modi came for the first time in the Loksabha during this session.<br><br>Rahul Gandhi Ji and Congress demanded discussion but after national song, the house was adjourned. <br><br>Now they will speak to the Godi media that they were ready for the discussion. Youth and GenZ are… <a href="https://t.co/GggHzvhnR9">pic.twitter.com/GggHzvhnR9</a></p>&mdash; Shantanu (@shaandelhite) <a href="https://x.com/shaandelhite/status/2087777494946750714?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>قابل ذکر ہے کہ احتجاج، نیٹ سے متعلق بے ضابطگیوں، دہلی میں مظاہرین طلبا و نوجوانوں پر پولیس کی کارروائی اور رام مندر کے چندہ میں چوری جیسے ایشوز پر لوک سبھا کی کارروائی بار بار متاثر ہوتی رہی۔ پورے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ دیکھنے کو ملا۔ ہنگاموں کی وجہ سے کچھ اہم بل لوک سبھا میں پیش نہیں کیے جا سکے۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">Congress MP Manickam Tagore gives Adjournment Motion Notice in Lok Sabha to discuss the &quot;alleged theft and misappropriation of temple donations and valuables in the country.&quot; <a href="https://t.co/EUVsfxzbxC">pic.twitter.com/EUVsfxzbxC</a></p>&mdash; ANI (@ANI) <a href="https://x.com/ANI/status/2087757350472171831?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>دوسری طرف آج راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ مسلسل نعرے بازی کر رہے ہیں۔ وہ وزیر داخلہ امت شاہ کے ایوان میں آنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے معدنیات معاملہ پر حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کا ہر شعبے پر قبضہ کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ سرمایہ داروں کا ساتھ دے رہی ہے۔</p><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr"><a href="https://x.com/hashtag/WATCH?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#WATCH</a> | Delhi: Rajya Sabha LoP and Congress national president Mallikarjun Kharge leads the protest against the government by Opposition MPs, on the Parliament premises. <a href="https://t.co/FNFwUUJTOk">pic.twitter.com/FNFwUUJTOk</a></p>&mdash; ANI (@ANI) <a href="https://x.com/ANI/status/2087772344567947316?ref_src=twsrc%5Etfw">August 13, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.x.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>اس سے قبل آج پارلیمنٹ احاطہ میں بھی اپوزیشن پارٹیوں کا زبردست احتجاج دیکھنے کو ملا۔ انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ 20 جولائی کو طلبا پر ہوئی کارروائی اور رام مندر کے چندہ میں چوری کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ سے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کر رہے تھے۔ یہ احتجاجی مظاہرہ صبح تقریباً 10.30 بجے ’مکر دروازہ‘ کے سامنے کیا گیا۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>’سی بی ایس ای شعبۂ امتحان‘ میں 44 فیصد عہدے خالی، پارلیمانی کمیٹی نے ممکنہ بے ضابطگیوں کا خطرہ کیا ظاہر</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/44-percent-posts-vacant-in-cbse-examination-department-parliamentary-committee-warns-of-potential-irregularities</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/44-percent-posts-vacant-in-cbse-examination-department-parliamentary-committee-warns-of-potential-irregularities#comments</comments><guid isPermaLink="false">5a1910a0-ea54-46ff-9fb7-e96def257a60</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 11:11:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T11:11:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ اسٹیمیٹس کمیٹی کے مطابق امتحانی شعبہ حساس اور خفیہ کاموں کے لیے ہوتا ہے، جو کہ کنٹریکٹ ملازمین پر منحصر ہے۔ ایسے میں امتحانات کی شفافیت اور سیکورٹی متاثر ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔]]></description><media:keywords>CBSE,PARLIAMENT,Exam,Parliamentary Committee,Department,Vacant Post</media:keywords><media:content height="787" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-06-03/p18nu6cl/CBSE_IA_03-12.jpg" width="1399"><media:title type="html"><![CDATA[ سی بی ایس ای، تصویر آئی اے این ایس]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2026-06-03/p18nu6cl/CBSE_IA_03-12.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>نیٹ سمیت کئی امتحانات میں بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔ اب ’سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن‘ (سی بی ایس ای) کے امتحانی نظام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی اسٹیمیٹس کمیٹی (تخمینہ کمیٹی)<strong> </strong>نے بدھ کے روز پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں سی بی ایس ای کے امتحانی شعبے میں تقریباً 44 فیصد عہدے خالی ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیٹی کے مطابق شعبۂ امتحان حساس اور خفیہ کاموں کے لیے ہوتا ہے، جو کہ کنٹریکٹ ملازمین پر منحصر ہے۔ ایسے میں امتحانات کی شفافیت اور سیکورٹی متاثر ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔</p><p>کمیٹی نے کہا ہے کہ امتحانات کے انعقاد جیسے حساس کام کے لیے کافی تعداد میں مستقل ملازمین کا ہونا ضروری ہے۔ سی بی ایس ای میں بڑی تعداد میں عہدے خالی ہونے کی وجہ سے موجودہ ملازمین پر اضافی ذمہ داری پڑ رہی ہے۔ دوسری جانب کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ امتحانات سے متعلق خفیہ کاموں میں ایسا انتظام پریشانیوں میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس لیے بورڈ میں کافی تعداد میں مستقل افرادی قوت دستیاب کرانے کی ضرورت ہے۔</p><p>سی بی ایس ای کے امتحانی نظام میں سوالیہ پرچے، امتحانات کا انعقاد اور دیگر طریقۂ کار انتہائی حساس تصور کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی کا زور اسی بات پر ہے کہ ایسے کاموں کو سنبھالنے کے لیے کافی تعداد میں مستقل ملازمین ہونے چاہئیں۔ شعبے میں تقریباً 44 فیصد عہدے خالی ہونے کی صورت میں کنٹریکٹ ملازمین کا کردار بڑھنا امتحانی نظام کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ کمیٹی نے اشارہ دیا ہے کہ امتحانات کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے افرادی قوت کی کمی دور کرنا ضروری ہے۔</p><p>اسٹیمیٹس کمیٹی (تخمینہ کمیٹی) نے ملک میں کفایتی اور معیاری تعلیم سے متعلق اپنی رپورٹ میں صرف امتحانی نظام کا مسئلہ نہیں اٹھایا ہے۔ کمیٹی نے قومی تعلیمی پالیسی یعنی ’این ای پی-2020‘ کے نفاذ کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق این ای پی نافذ ہونے کے باوجود 10 ویں سے 12 ویں جماعت میں کئی مقامات پر طلباء کو پرانی کتابوں سے پڑھایا جا رہا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ این ای پی کے مطابق نصاب اور کتابوں میں ضروری تبدیلیاں نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ پر پڑھائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/cbses-big-decision-on-trilingual-policy-board-exams-will-not-have-to-be-given-in-a-third-language">سہ لسانی پالیسی پر سی بی ایس ای کا بڑا فیصلہ، تیسری زبان میں نہیں دینا ہوگا بورڈ امتحان</a></aside><p>رپورٹ میں امتحانی نظام کو محفوظ اور قابل اعتماد بنانے کے لیے مستقل ملازمین کی مناسب تعداد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ امتحانی شعبے میں خالی عہدوں کو پر کرنا اور حساس کاموں کے لیے مستقل افرادی قوت بڑھانا اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی نظام میں این ای پی کے مطابق نصاب اور کتابوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ایسے میں سی بی ایس ای کے سامنے امتحانات کی شفافیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کی کمی دور کرنے اور تعلیمی نظام کو نئی پالیسی کے مطابق ڈھالنے کا چیلنج ہے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>’لال قلعہ پر حملہ القاعدہ نے کرایا تھا‘، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/al-qaeda-orchestrated-the-attack-on-the-red-fort-reveals-un-report</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/al-qaeda-orchestrated-the-attack-on-the-red-fort-reveals-un-report#comments</comments><guid isPermaLink="false">f4bf773b-fa96-46f1-b6a6-6a5b72109090</guid><pubDate>Thu, 13 Aug 2026 10:41:36 +0530</pubDate><atom:updated>2026-08-13T10:41:36.777+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ مئی 2026 میں این آئی اے کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ ایک شاخ کے ایک ملزم نے ’ٹیرر انجینئرنگ‘ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غلط استعمال کیا تھا۔]]></description><media:keywords>UN Report,Al Qaida,Red Fort Blast</media:keywords><media:content height="1066" url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2025-10-25/gw263wha/delhi-pollution02.jpg" width="1600"><media:title type="html"><![CDATA[ <div class="paragraphs"><p>لال قلعہ کی فائل تصویر</p></div>]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://cf-images.assettype.com/qaumiawaz/2025-10-25/gw263wha/delhi-pollution02.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں دہلی کے لال قلعہ پر جو دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، اسے القاعدہ نے کروایا تھا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گردانہ حملہ کے لیے ’القاعدہ اِن دی انڈین سب کانٹیننٹ‘ (اے کیو آئی ایس) کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک بکھرے ہوئے گروپ سے تبدیل ہو کر ایک علاقائی دہشت گرد تنظیم کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے بہت تیزی سے لاجسٹکس اور مالیاتی نیٹورک قائم کیے۔ ساتھ ہی بڑے گروپ کے بجائے مرکزیت سے گریز پر توجہ دی اور چھوٹے اور بکھرے ہوئے سیلز یعنی گروپوں کی شکل میں کام کیا۔ اب اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دہلی کے لال قلعہ پر نومبر 2025 میں ہوئے حملہ کے لیے باضابطہ طور پر اے کیو آئی ایس کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اے کیو آئی ایس بنگلہ دیش میں بھی اپنے سیلز بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔</p><p>قابل ذکر ہے کہ دہلی کے لال قلعہ بم دھماکہ کی تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کر رہی ہے۔ مئی میں این آئی اے کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ القاعدہ سے وابستہ ایک شاخ کے ایک ملزم نے ’ٹیرر انجینئرنگ‘ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غلط استعمال کیا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ ملزمین نے راکٹ امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائس (آئی ای ڈی) تیار کیے تھے اور جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے قاضی گنڈ جنگل میں اس کی ٹیسٹنگ بھی کی گئی تھی۔</p><p>این آئی اے کی جانب سے رواں سال 14 مئی کو بم دھماکہ کے معاملے میں 7,500 صفحات پر مشتمل طویل چارج شیٹ داخل کی گئی۔ گزشتہ سال 10 نومبر کو دہلی میں ہوئے زبردست آئی ای ڈی کار دھماکہ کے سلسلے میں داخل اس چارج شیٹ میں بتایا گیا کہ ملزمین نے آئی ای ڈی بنانے اور استعمال کرنے کے لیے انتہائی باریک بینی سے ’لیبارٹری گریڈ‘ طریقہ اپنایا تھا۔ چارج شیٹ میں نامزد ملزمین میں سے ایک ’انصار غزوات الہند‘ (اے جی یو ایچ) کے عبوری دہشت گرد ماڈیول کا ’اِن ہاؤس انجینئر‘ نکلا اور یہ ماڈیول اے کیو آئی ایس سے وابستہ ہے۔ وزارت داخلہ اے کیو آئی ایس اور اس کی تمام شاخوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ چارج شیٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم یاسر بلال وانی نے اس واقعہ کو انجام دینے کے لیے ’تکنیکی مدد‘ فراہم کرنے کے ارادے سے 25-2024 کے دوران 2 سے 3 بار ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی کیمپس کا دورہ کیا اور کچھ عرصہ وہاں رہا بھی۔</p><p>تحقیقات میں یہ سامنے آنے کے بعد کہ یونیورسٹی میں کام کرنے والے 3 ڈاکٹر بھی مبینہ طور پر دھماکہ میں ملوث تھے، یونیورسٹی کا کردار بھی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا۔ ڈاکٹر عدیل احمد راتھر نے یاسر کی ملاقات ڈاکٹر عمر ان نبی سے کرائی تھی۔ ڈاکٹر عمر ان نبی اس معاملے کا ایک اور اہم ملزم ہے اور اسی نے دھماکہ خیز مواد سے بھری کار چلائی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق اس دھماکہ میں 11 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہو گئے تھے۔</p><p>این آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ عدیل نے یاسر کو آئی ای ڈی بنانے کا سامان، مثلاً این پی کے کھاد کی شکل میں پوٹاشیم نائٹریٹ اور پسی ہوئی چینی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ڈاکٹر عمر پر الزام ہے کہ انہوں نے امپرووائزڈ راکٹ آئی ای ڈی پر تحقیق کی اور اس بارے میں مزید معلومات فراہم کیں۔ ساتھ ہی چارج شیٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یاسر نے یوٹیوب اور چیٹ جی پی ٹی کا بھی استعمال کیا اور اس کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ’راکٹ کیسے بنایا جائے اور اس میں مکسچر کا کتنا تناسب ہونا چاہیے‘۔ اس سے ’ٹیرر انجینئرنگ‘ کے لیے ڈیجیٹل اور اے آئی پلیٹ فارم کے مبینہ غلط استعمال کی معلومات سامنے آئی تھیں۔ یاسر نے ڈاکٹر عمر، ڈاکٹر مزمل شکیل اور دیگر شریک ملزمین کے ساتھ مل کر راکٹ آئی ای ڈی تیار کیے اور قاضی گنڈ جا کر وہاں کے جنگل میں ان کا تجربہ بھی کیا۔</p>]]></content:encoded></item></channel></rss>