<rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"><channel><title>Qaumi Awaz</title><link>https://www.qaumiawaz.com</link><description>Qaumi Awaz Urdu: Your trusted source for breaking and latest news in the Urdu language. Get real-time updates, deep-dive stories, and live news coverage on politics, business, sports, and more. قومی آواز، اردو نیوز، تازہ ترین خبریں—read it first, read it in Urdu.</description><atom:link href="https://www.qaumiawaz.com/stories.rss?section=national" rel="self" type="application/rss+xml"></atom:link><language>ur</language><lastBuildDate>Thu, 12 Mar 2026 19:33:41 +0530</lastBuildDate><sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod><sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency><item><title>این سی ای آر ٹی کتاب تنازعہ: سپریم کورٹ نے مشیل ڈینینو اور سپرنا دیواکر سمیت 3 مصنفوں پر عائد کی پابندی</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/ncert-book-controversy-supreme-court-imposes-ban-on-3-authors-including-michel-danino-and-suparna-diwakar</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/ncert-book-controversy-supreme-court-imposes-ban-on-3-authors-including-michel-danino-and-suparna-diwakar#comments</comments><guid isPermaLink="false">d595972e-c8ae-4c9a-a421-d3dbbb0eaf13</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 18:40:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T18:40:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ کتاب کے متنازعہ باب سے وابستہ ان تینوں مصنفین سے فوری طور پر تعلق ختم کیا جائے۔]]></description><media:keywords>supreme court,NCERT,NCERT Row</media:keywords><media:content height="340" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2025-08-25/3gwc12q2/fc307d60_5e8d_4c53_b5cb_dca7dd4d1605.jpg" width="605"><media:title type="html"><![CDATA[ تصویر سوشل میڈیا]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2025-08-25/3gwc12q2/fc307d60_5e8d_4c53_b5cb_dca7dd4d1605.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>این سی ای آر ٹی کتاب تنازعہ معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلہ میں 3 مصنفین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سنایا، جس میں میشیل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور آلوک پرسنّا کمار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ کتاب کے متنازعہ باب سے وابستہ ان تینوں مصنفین سے فوری طور پر تعلق ختم کیا جائے۔</p><p>عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا ہے کہ میشیل ڈینینو، سپرنا دیواکر اور آلوک پرسنّا کمار کو کسی بھی ایسی ذمہ داری میں شامل نہ کیا جائے جس کی مالی معاونت سرکاری خزانے سے ہوتی ہو۔ قابل ذکر ہے کہ این سی ای آر ٹی نے آٹھویں جماعت کی کتاب میں عدالت میں بدعنوانی سے متعلق ایک باب شامل کیا تھا۔ جب یہ معاملہ عدالت تک پہنچا تو این سی ای آر ٹی نے کتابیں واپس منگوا لیں اور حال ہی میں اس معاملہ میں عوامی طور پر معافی بھی مانگی تھی۔</p><h3>کون ہیں میشیل ڈینینو؟</h3><p>میشیل ڈینینو فرانس کے رہنے والے ہیں اور ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کے معروف محقق سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کئی برسوں سے ہندوستان میں رہ کر تحقیق اور تصنیف کا کام کر رہے ہیں اور تعلیم و تاریخ کے میدان میں اہم خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ این سی ای آر ٹی کے سوشل سائنس نصاب پینل کے چیئرپرسن بھی رہ چکے ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں پدم شری اعزاز سے بھی نوازا ہے۔</p><h3>کون ہیں سپرنا دیواکر؟</h3><p>سپرنا دیواکر ایک ماہر تعلیم کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ تعلیمی اصلاحات سے متعلق کئی پروگراموں میں سرگرم رہی ہیں اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 کے نفاذ سے متعلق ایک ٹاسک فورس کا بھی حصہ رہ چکی ہیں۔</p><h3>کون ہیں آلوک پرسنّا کمار؟</h3><p>آلوک پرسنّا کمار ایک معروف قانونی محقق ہیں۔ وہ پبلک پالیسی سے وابستہ تھنک ٹینک ’ودھی سینٹر فار لیگل پالیسی‘ کے شریک بانی ہیں اور قانون و پالیسی سے متعلق تحقیقی کام کرتے رہے ہیں۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>اجیت پوار طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے متعلق سرگرداں روہت پوار کی راہل گاندھی سے ملاقات</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/rohit-pawar-meets-rahul-gandhi-over-ajit-pawar-plane-crash-investigation</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/rohit-pawar-meets-rahul-gandhi-over-ajit-pawar-plane-crash-investigation#comments</comments><guid isPermaLink="false">bdc905d9-5c50-4b85-958c-8c0b513cf09c</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 18:20:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T18:20:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ راہل گاندھی سے ملاقات کرنے بعد روہت پوار نے کہا کہ ’’طیارہ حادثے سے متعلق معاملے میں نہ ہی اب تک کوئی ایف آئی آر لکھی گئی اور نہ ہی سی بی آئی تحقیقات کی کوئی اطلاع مل پائی ہے۔‘‘]]></description><media:keywords>Rahul Gandhi,plane crash,Ajit Pawar,Rohit Pawar</media:keywords><media:content height="509" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/apxgfnk5/rahul-gandhi-and-rohit-pawar.jfif" width="904"><media:title type="html"><![CDATA[ &lt;div class=&quot;paragraphs&quot;&gt;&lt;p&gt;راہل گاندھی اور روہت پوار، تصوری بشکریہ&amp;nbsp;@RRPSpeaks&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/apxgfnk5/rahul-gandhi-and-rohit-pawar.jfif?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی طیارہ حادثے میں موت کے بعد واقعے کے متعلق مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے بھتیجے روہت پوار طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔ اب تحقیقات کے مطالبے کے سلسلے میں انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ اس حادثے کے متعلق اب تک نہ کوئی ایف آئی آر لکھی گئی اور نہ ہی سی بی آئی تحقیقات کی کوئی اطلاع مل سکی ہے۔</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/ajit-pawar-plane-crash-rohit-pawar-reaches-baramati-police-station-with-a-huge-crowd-for-investigation-dharna-begins">اجیت پوار طیارہ حادثہ: جانچ کے لیے بھاری بھیڑ کے ساتھ بارامتی پولیس اسٹیشن پہنچے روہت پوار، دھرنا شروع</a></aside><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="mr" dir="ltr">लोकसभेतील प्रभावी विरोधी पक्षनेते माननीय राहुल जी गांधी यांची दिल्लीत भेट घेऊन अजितदादांच्या संशयास्पद विमान अपघातासंदर्भात त्यांच्याशी अर्ध्या तासाहून अधिक विस्तृत चर्चा केली. <br><br>तसंच या अपघाताबाबत वेगवेगळ्या स्त्रोतांकडून आम्ही अत्यंत मेहनतीने जमा केलेली संपूर्ण माहिती त्यांना… <a href="https://t.co/iWQarTj32W">pic.twitter.com/iWQarTj32W</a></p>&mdash; Rohit Pawar (@RRPSpeaks) <a href="https://twitter.com/RRPSpeaks/status/2031989621803065513?ref_src=twsrc%5Etfw">March 12, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>واضح رہے کہ 28 جنوری کو ہونے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے مطالبے کے سلسلے میں این سی پی (ایس پی) کے لیڈر روہت پوار نے جمعرات (12 مارچ) کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ راہل گاندھی سے ملاقات کرنے بعد روہت پوار نے ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ’’طیارہ حادثے سے متعلق معاملے میں نہ ہی اب تک کوئی ایف آئی آر لکھی گئی اور نہ ہی سی بی آئی تحقیقات کی کوئی اطلاع مل پائی ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راہل گاندھی کے علاوہ سونیا گاندھی اور ملکارجن کھڑگے نے بھی اس معاملے پر مکمل تعاون اور ہر ممکن قدم اٹھانے کا یقین دلایا ہے۔</p><p>این سی پی (ایس پی) رکن پارلیمنٹ روہت پوار نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ’’میں اپنے چچا (اجیت پوار) کی موت کی تحقیقات کرا کر رہوں گا۔ جہاں تک سنیترا پوار (اجیت پوار کی اہلیہ) کی بات ہے تو وہ ابھی اقتدار میں ہیں، حکمراں جماعت کے لیے یہ سب آسان ہوتا ہے۔ لیکن کیوں نہیں ہو رہا ہے یہ میں نہیں کہہ سکتا۔ سب کی اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، انہیں بھی حکومت پر دباؤ بنانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میری ذمہ داری اور حق ہے کہ میں ان کے لیے انصاف کی لڑائی لڑوں۔ میں نے اپنی پارٹی کے لیڈران کی حمایت، دعا اور طاقت کے ساتھ یہ لڑائی جاری رکھی ہے۔ مہاراشٹر کے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے ہردلعزیز اجیت دادا کو انصاف ملے۔‘‘</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/nephew-rohit-pawar-suspects-deep-conspiracy-in-ajit-pawars-death-demands-investigation-from-expert-agencies">اجیت پوار کی موت پر بھتیجے روہت پوار کو گہری سازش کا شبہ، ماہر ایجنسیوں سے تحقیقات کا مطالبہ</a></aside><p>قابل ذکر ہے کہ طیارہ حادثے کی سی بی آئی سے تحقیقات کرنے کے متعلق روہت پوار نے ایک بار پھر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ حادثے کی تحقیقات کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔ لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اصل میں معاملہ سی بی آئی تک پہنچا ہے یا نہیں۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>ایل پی جی بحران: پھر ملی بری خبر، دیہی علاقوں میں 25 کی جگہ اب 45 دنوں میں ہوگی گیس سلنڈر کی بکنگ!</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/lpg-crisis-bad-news-again-gas-cylinder-bookings-in-rural-areas-will-now-take-45-days-instead-of-25</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/lpg-crisis-bad-news-again-gas-cylinder-bookings-in-rural-areas-will-now-take-45-days-instead-of-25#comments</comments><guid isPermaLink="false">ecd4192e-aa41-4f08-a79e-5ba4b488c1f2</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 18:00:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T18:00:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ 2 دن قبل ہی مرکزی حکومت نے جمع خوری اور کالابازاری روکنے کے مقصد سے ایل پی جی سلنڈر بکنگ کے اصول میں تبدیلی کی تھی۔ ایل پی جی گیس سلنڈر کی بکنگ کا وقت 21 دنوں سے بڑھا کر 25 دن کیا گیا تھا۔]]></description><media:keywords>lpg,LPG Cylinder,LPG Crisis</media:keywords><media:content height="741" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2025-02-12/m56ketmb/Gas-Cylinder.jpg" width="1317"><media:title type="html"><![CDATA[ &lt;div class=&quot;paragraphs&quot;&gt;&lt;p&gt;گیس سلنڈر، تصویر آئی اے این ایس&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2025-02-12/m56ketmb/Gas-Cylinder.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>امریکہ و اسرائیل نے ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے، اس نے ہندوستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ایندھن کی قلت پیدا کر دی ہے۔ حالانکہ حکومت ہند نے ایندھن کی قلت سے انکار کیا ہے، لیکن ملک کے مختلف علاقوں میں خاص طور سے ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے کے لیے جو ہنگامہ برپا ہے، وہ کچھ الگ ہی حالات بیان کر رہا ہے۔ اب ایک بری خبر یہ سامنے آئی ہے کہ دیہی علاقوں میں ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کا وقت 25 دنوں سے بڑھا کر 45 دن کر دیا گیا ہے۔</p><p>شہری علاقوں میں سلنڈر بکنگ سے متعلق کوئی نئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں گیس کی بکنگ اب 45 دن میں کی جا سکے گی، وہیں شہری علاقوں میں 25 دن کے اندر ہی سلنڈر ملے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ گیس کی کمی سے متعلق افواہوں کے سبب لوگ جلدی جلدی سلنڈر بھروا رہے ہیں، اسی حالات سے نمٹنے کے لیے تازہ فیصلے لیے گئے ہیں۔</p><p>واضح رہے کہ 2 دن قبل مرکزی حکومت نے جمع خوری اور کالا بازاری روکنے کے مقصد سے ایل پی جی سلنڈر بکنگ کے قواعد میں تبدیلی کی تھی۔ ایل پی جی گیس سلنڈر کی بکنگ کا وقت بڑھا کر 21 دنوں کے بجائے 25 دن کر دیا گیا تھا۔ دراصل وسطی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان آبنائے ہرمز بند ہونے سے ایل پی جی گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔</p><p>مرکزی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے یہ فیصلہ اس لیے لیا گیا تھا کیونکہ گھریلو صارفین محض 15 دن کے وقفے کے بعد ہی ایل پی جی سلنڈر بک کرا رہے تھے۔ یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ پہلے 55 دن میں سلنڈر بک کراتے تھے، انہوں نے اب 15 دن میں ہی سلنڈر بک کرنا شروع کر دیا تھا۔ یعنی لوگ افواہوں اور غیر یقینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطاً گیس کی بکنگ جلد کرا رہے تھے، تاکہ آنے والے وقت میں انھیں دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p><p>ملک میں گیس سپلائی متاثر ہونے کی خبروں کے درمیان وزارت پیٹرولیم نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ گھریلو کھانا پکانے والی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمارے پاس وافر ذخیرہ موجود ہے۔ لوگوں کو گھبراہٹ میں آ کر سلنڈر بک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ گھریلو ریفائنری کمپنیوں نے بھی ایل پی جی کی پیداوار 25 فیصد تک بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان آبنائے ہرمز کے راستے سپلائی متاثر ہونے کے بعد نئے ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔</p><p>وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے کل اپنے بیان میں کہا تھا کہ حکومت کی کوشش گھروں تک بلا رکاوٹ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے اور اس کا 90 فیصد درآمد آبنائے ہرمز کے راستے ہی آتا ہے۔ ایسے میں گیس سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں حکومت نے تجارتی اداروں کے مقابلے میں گھریلو استعمال کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے صنعتی و تجارتی شعبوں کو ملنے والی ایل پی جی اور ایل این جی کی سپلائی میں کمی کی ہے، تاکہ 33 کروڑ سے زیادہ گھروں تک کھانا پکانے والی گیس کی باقاعدہ فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>بی جے پی چھوڑتے ہی چندن منڈل کو مشکلات کا سامنا، این آئی اے نے ’وجئے کرشن قتل معاملہ‘ میں بھیجا نوٹس</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/chandan-mandal-faces-difficulties-after-leaving-bjp-nia-sends-notice-in-vijay-krishna-murder-case</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/chandan-mandal-faces-difficulties-after-leaving-bjp-nia-sends-notice-in-vijay-krishna-murder-case#comments</comments><guid isPermaLink="false">2212ed28-e113-45a8-9dbc-76e86db6a7e8</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 17:40:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T17:40:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ چندن منڈل کا کہنا ہے کہ وجئے کرشن بھوئیاں کا جب قتل ہوا تھا تب وہ بی جے پی میں تھے۔ وہ حال ہی میں کولکاتا کے ترنمول بھون پہنچ کر رسمی طور سے ترنمول میں شامل ہوئے ہیں، اسی لیے رنجش نکالی جا رہی ہے۔]]></description><media:keywords>bjp,west bengal,NIA,TMC,National Investigation Agency</media:keywords><media:content height="558" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/9piqomn6/Chandan-Mandal.PNG" width="903"><media:title type="html"><![CDATA[ &lt;div class=&quot;paragraphs&quot;&gt;&lt;p&gt;بی جے پی لیڈر چندن منڈل کی ترنمول کانگریس میں شامل ہوتے ہوئے تصویر، سوشل میڈیا&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/9piqomn6/Chandan-Mandal.PNG?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی جاری سرگرمیوں کے درمیان بی جے پی سے ترنمول کانگریس میں شامل ہونے والے چندن منڈل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشرقی میدنی پور کے مَینا علاقہ میں بی جے پی لیڈر وجے کرشن بھوئیاں کے قتل کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے، کیونکہ اس تعلق سے این آئی اے (قومی تفتیشی ایجنسی) نے چندن منڈل کو نوٹس بھیج دیا ہے۔ چندن منڈل کو اسی ہفتہ کولکاتا واقع این آئی اے کے دفتر میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ نوٹس ملنے کے بعد منڈل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی اور اسے بی جے پی کی رنجش پر مبنی کارروائی قرار دیا۔</p><p>چندن منڈل کا کہنا ہے کہ وجے کرشن بھوئیاں کے قتل کے وقت وہ بی جے پی میں تھے۔ وہ حال ہی میں کولکاتا کے ترنمول بھون جا کر باضابطہ طور پر ترنمول میں شامل ہوئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ پارٹی بدلنے کے بعد سیاسی مقصد سے انہیں ہراساں کرنے کے لیے یہ نوٹس بھیجا گیا ہے۔ حالانکہ بی جے پی نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ مَینا کے بی جے پی رکن اسمبلی اشوک ڈنڈا کا کہنا ہے کہ این آئی اے کس کو نوٹس دے گی، یہ مکمل طور پر تفتیشی ایجنسی کا معاملہ ہے اور اس کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p><p>غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اکثر بی جے پی کو ’واشنگ مشین‘ بتاتی رہی ہیں، جہاں بڑا سے بڑا بدعنوان اور مجرم بھی سزا سے بچ کر سکون کی زندگی گزارتا ہے۔ مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے اپوزیشن پارٹیوں کے کئی لیڈران بی جے پی میں شمولیت کے بعد مقدمات سے یا تو بری ہو گئے، یا پھر ان پر سختی کم ہو گئی۔ اس کی مثالیں اکثر اپوزیشن پارٹیاں دیتی رہتی ہیں۔ چندن منڈل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیے جانے کا الزام لگ رہا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ چندن جب تک بی جے پی میں تھا، وہ بے قصور تھے، اور دوسری پارٹی میں جاتے ہی ان کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔</p><p>بہرحال، یکم مئی 2023 کو مَینا کے باکچا گھوڑا محل علاقہ میں بی جے پی کے بوتھ صدر وجے کرشن بھوئیاں کو مبینہ طور پر اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں مقتول کی بیوی نے مَینا تھانے میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں ترنمول کانگریس کے 34 رہنماؤں اور کارکنوں پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ بعد میں کلکتہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر اس معاملے کی تفتیش این آئی اے کے سپرد کر دی گئی۔ این آئی اے اب تک اس معاملے میں مَینا کے ترنمول کانگریس کے کچھ لیڈران کو گرفتار کر چکی ہے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>وزیر اعظم گھبرائے ہوئے ہیں، اسی لیے ایوان میں نہیں آ رہے: راہل گاندھی</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/rahul-gandhi-alleges-pm-is-scared-avoiding-parliament-over-gas-crisis</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/rahul-gandhi-alleges-pm-is-scared-avoiding-parliament-over-gas-crisis#comments</comments><guid isPermaLink="false">d863205d-96ac-446a-ab35-bc1d97219577</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 17:11:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T17:11:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ لوک سبھا میں سلنڈر بحران کے مسئلے پر اپوزیشن کے احتجاج کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود گھبرائے ہوئے ہیں اور اسی لیے ایوان میں نہیں آ رہے]]></description><media:keywords>Rahul Gandhi,PM MODI,PARLIAMENT,Loksabha,LPG Crisis</media:keywords><media:content height="785" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/ugi97nzy/rahul-gandhi.jpg" width="1400"><media:title type="html"><![CDATA[ &lt;div class=&quot;paragraphs&quot;&gt;&lt;p&gt;آئی اے این ایس&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/ugi97nzy/rahul-gandhi.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>نئی دہلی: لوک سبھا میں جمعرات کو ملک میں سلنڈر بحران کے مسئلے پر اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور حکومت کو نشانہ بنایا۔ ایوان کے اندر اور باہر اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے پر واضح جواب دے۔</p><p>لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم پر طنز کیا اور کہا کہ حکومت عوام کو تسلی دے رہی ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود وزیر اعظم گھبراہٹ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مگر اصل میں وہ خود گھبرائے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے ایوان میں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔</p><p>راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ایپسٹین سے متعلق معاملے کو لے کر بھی وزیر اعظم پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وزیر اعظم واقعی پراعتماد ہوتے تو ایوان میں آ کر اس مسئلے پر جواب دیتے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز بھی وزیر اعظم کی نشست خالی نظر آئی، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ ایوان میں آ کر سوالات کا سامنا کرنے سے بچ رہے ہیں۔</p><p>ادھر ایوان کے باہر آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اجول رمن سنگھ نے بھی وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں موجودگی کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سن 2014 سے 2024 تک کے پارلیمانی ریکارڈ کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وزیر اعظم کتنی بار ایوان میں موجود رہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم ایوان میں اسی طرح دکھائی دیتے ہیں جیسے عید کا چاند نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم اکثر اجلاس کے پہلے دن صرف چند منٹ اور آخری دن بھی مختصر وقت کے لیے ایوان میں آتے ہیں۔</p><p>کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے بی ماتھر نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خود کو کامیاب قرار دیتی ہے، لیکن زمینی حقیقت اس سے مختلف نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے بحران کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے عام لوگ پریشان ہیں، کئی ہوٹلوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور گھریلو بازار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔</p><p>ایک اور رکن پارلیمنٹ دھرم ویر گاندھی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ہندوستان کو اپنی ترجیحات واضح رکھنی چاہئیں اور عالمی برادری کے سامنے اپنا مؤقف مضبوطی سے پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے گٹ نرپیکش پالیسی سے دوری اختیار کر لی ہے، جس سے خارجہ امور میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر ان اہم مسائل پر تفصیل سے جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کو اصل صورتحال معلوم ہو سکے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>’مجھے لگا پٹاخہ ہے، بعد میں پتہ چلا گولی چلی‘، حملے کے بعد فاروق عبداللہ نے سیکورٹی پر اٹھائے سوال</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/i-thought-it-was-a-firecracker-later-i-found-out-it-was-a-bullet-farooq-abdullah-raises-questions-on-security-after-the-attack</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/i-thought-it-was-a-firecracker-later-i-found-out-it-was-a-bullet-farooq-abdullah-raises-questions-on-security-after-the-attack#comments</comments><guid isPermaLink="false">eee7bde3-1a04-4316-ae9b-f4790e149b0b</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 16:11:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T16:11:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’میں حملہ کرنے والے شخص کو نہیں جانتا ہوں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا مقصد کیا تھا اور کیا دشمنی تھی۔‘‘]]></description><media:keywords>Amit Shah,Jammu and Kashmir,Farooq Abdullah,National Conference</media:keywords><media:content height="720" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2021-10/072836fe-83ae-482b-ba88-06f4d4c7a4ee/Farooq_Abdullah_U.jpg" width="1200"><media:title type="html"><![CDATA[ فاروق عبداللہ، تصویر یو این آئی]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2021-10/072836fe-83ae-482b-ba88-06f4d4c7a4ee/Farooq_Abdullah_U.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر بدھ کی دیر رات ایک شخص نے حملہ کر دیا تھا۔ حالانکہ سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں وقت رہتے بچا لیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پوچھ تاچھ کے دوران ملزم نے بتایا کہ وہ گزشتہ 20 سالوں سے حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس واقعہ کے بعد فاروق عبداللہ کا پہلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں حملہ کرنے والے شخص کو نہیں جانتا ہوں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کا مقصد کیا تھا اور کیا دشمنی تھی۔‘‘</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/kharge-raises-assassination-attempt-on-farooq-abdullah-in-rajya-sabha-demands-restoration-of-statehood-and-better-security">فاروق عبداللہ پر جان لیوا حملہ: راجیہ سبھا میں ملکارجن کھڑگے نے اٹھایا معاملہ، جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ</a></aside><figure><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr"><a href="https://twitter.com/hashtag/WATCH?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#WATCH</a> | Jammu | Over assassination attempt on him, Farooq Abdullah says,&quot; I was walking out of the venue, when I heard the sound of a firecracker. Immediately, I was rushed into a car. Later, I was told that there was a man with a pistol who had fired two shots. Neither do I… <a href="https://t.co/pWCwDkUfZi">pic.twitter.com/pWCwDkUfZi</a></p>&mdash; ANI (@ANI) <a href="https://twitter.com/ANI/status/2031984333175849089?ref_src=twsrc%5Etfw">March 12, 2026</a></blockquote>
<script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script>

</figure><p>فاروق عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں حملے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ جب وہ تقریب کے مقام سے باہر نکل رہے تھے تبھی انہیں پٹاخے جیسی آواز سنائی دی۔ اس کے بعد انہیں سیکورٹی اہلکاروں نے جلدی سے کار میں بٹھا دیا۔ انہیں لگا کہ وہ گولی نہیں پٹاخہ تھا، جو شادیوں میں عام طور پر چلائے جاتے ہیں۔ حالانکہ بعد میں ان کے سیکورٹی اہلکار نے کار میں بتایا کہ وہ گولی کی آواز تھی۔ فاروق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ میں حملہ کرنے والے اس شخص کو نہیں جانتا ہوں۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے حملہ کرنے کے پیچھے کا مقصد کیا تھا یا کوئی پرانی دشمنی تھی؟</p><p>سابق وزیر اعلیٰ نے سیکورٹی انتظامات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس شادی میں تمام اہم شخصیات موجود تھیں لیکن وہاں پولیس کا انتظام نہیں تھا۔ پولیس کو خیال رکھنا چاہیے تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ مجھے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا بھی فون آیا تھا۔ انہوں نے خیریت دریافت کی اور کہا کہ ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔</p><p>نیشنل کانفرنس کے&nbsp; صدر نے کہا کہ نفرت کا جال پھیلا ہوا ہے، وطن میں نفرتوں نے جڑ پکڑ لی ہے۔ دوستی اور محبت کی بات کرنے والوں کے لیے جگہ نہیں ہے، جبکہ ہر مذہب پیار اور محبت سکھاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دہشت گردی بہت بڑھ چکی ہے اور اسے مکمل طور سے کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے۔</p><aside><a href="https://www.qaumiawaz.com/national/political-leaders-condemn-firing-attempt-on-farooq-abdullah-demand-probe-into-security-lapse">فاروق عبداللہ پر جان لیوا حملہ: متعدد قائدین کا سخت ردعمل، سکیورٹی چوک کی جانچ کا مطالبہ</a></aside><p>فاروق عبداللہ کے مطابق جمہوریت میں خیالات کا اختلاف ہونا فطری ہے، لیکن سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اپنی بات رکھنے کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب حکومت کے پاس کافی اختیارات نہیں ہیں اور ایسے حالات میں نظام طویل عرصہ تک نہیں چل سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کو پھر سے ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>ساورکر پر تبصرہ معاملہ میں راہل گاندھی کے خلاف داخل مقدمہ شکایت دہندہ نے لیا واپس، عدالت نے کیس کیا بند</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/complainant-withdraws-case-filed-against-rahul-gandhi-in-savarkar-comment-case-court-closes-case</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/complainant-withdraws-case-filed-against-rahul-gandhi-in-savarkar-comment-case-court-closes-case#comments</comments><guid isPermaLink="false">d3c11a3f-47c6-4506-bb9a-11f9a6690bd7</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 15:40:00 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T15:40:00.000+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ شکایت کی بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ 499 (ہتک عزتی) اور دفعہ 504 (قصداً بے عزتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ناسک کورٹ نے ستمبر 2024 میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔]]></description><media:keywords>Rahul Gandhi,VD Savarkar,Nasik Court</media:keywords><media:content height="576" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-02-24/vuub3c7z/Rahul-Gandhi.jfif" width="1024"><media:title type="html"><![CDATA[ &lt;div class=&quot;paragraphs&quot;&gt;&lt;p&gt; راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&amp;nbsp;@INCIndia&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-02-24/vuub3c7z/Rahul-Gandhi.jfif?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے خلاف ساورکر کے بارے میں 2022 میں دیے گئے بیان پر درج ہتکِ عزت کے مقدمہ کو ناسک کی ایک فوجداری عدالت نے بند کر دیا ہے۔ یہ بیان ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران دیا گیا تھا۔ مقدمہ ناسک میں موجود ’نربھیا فاؤنڈیشن‘ کے صدر دیویندر بھوٹاڈا نے درج کرایا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے 15 اور 16 جون 2022 کو ہنگولی اور اکولے میں منعقد ریلیوں کے دوران جو تبصرے کیے، وہ ہتک آمیز اور توہین آمیز تھے۔</p><p>اس شکایت کی بنیاد پر تعزیرات ہند کی دفعہ 499 (ہتکِ عزتی) اور دفعہ 504 (قصداً بے عزتی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ناسک کورٹ نے ستمبر 2024 میں راہل گاندھی کو سمن جاری کیا تھا۔ بعد میں راہل گاندھی کو ضمانت مل گئی اور انہیں سماعت میں ورچوئل طور پر شامل ہونے کی اجازت بھی دی گئی۔ راہل گاندھی نے عدالت کے سامنے اپنی بات رکھتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا تھا۔</p><p>عدالت نے ستمبر 2024 میں ضابطۂ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 202 کے تحت جانچ کا حکم بھی دیا تھا۔ پولیس کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد شکایت کنندہ نے مقدمہ واپس لینے کی درخواست کی۔ اس کے بعد ٹرائل جج نے مقدمے کی سماعت ختم کرتے ہوئے ہتکِ عزتی کی کارروائی بند کر دی۔ اس فیصلہ کے ساتھ ہی اس معاملے میں راہل گاندھی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔</p><p>قابل ذکر ہے کہ معاملہ نومبر 2022 کا ہے، جب راہل گاندھی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے دوران ہنگولی اور اکولا اضلاع میں موجود تھے۔ 17 نومبر 2022 کو اکولا میں منعقد ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے وی ڈی ساورکر سے متعلق دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ ساورکر نے خوف کے باعث انگریزوں کو معافی نامہ لکھا تھا اور وہ پنشن بھی لیتے تھے۔ راہل گاندھی کے اس بیان کی بنیاد پر ناسک کے سماجی کارکن دیویندر بھوٹاڈا نے ان کے خلاف ہتکِ عزتی کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ بھوٹاڈا کا الزام تھا کہ راہل گاندھی کے بیان سے ساورکر کی شبیہ کو نقصان پہنچا اور کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔</p>]]></content:encoded></item><item><title>دانڈی مارچ کی سالگرہ: وزیر اعظم مودی اور ملکارجن کھڑگے نے گاندھی جی اور آزادی کے مجاہدین کو یاد کیا</title><link>https://www.qaumiawaz.com/national/pm-narendra-modi-and-mallikarjun-kharge-remember-mahatma-gandhi-on-dandi-march-anniversary</link><comments>https://www.qaumiawaz.com/national/pm-narendra-modi-and-mallikarjun-kharge-remember-mahatma-gandhi-on-dandi-march-anniversary#comments</comments><guid isPermaLink="false">836675df-a078-4fcf-a6cc-3d1011fa1743</guid><pubDate>Thu, 12 Mar 2026 10:38:37 +0530</pubDate><atom:updated>2026-03-12T10:38:37.446+05:30</atom:updated><atom:author><atom:name>قومی آواز بیورو</atom:name><atom:uri>/api/author/300899</atom:uri></atom:author><description><![CDATA[ دانڈی مارچ کی برسی پر وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مہاتما گاندھی اور آزادی کے مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ کانگریس نے اس موقع پر تاریخی تصاویر اور ویڈیو بھی شیئر کی]]></description><media:keywords>Congress President,PM MODI,anniversary,mallikarjun kharge,Dandi March</media:keywords><media:content height="785" url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/q0tam1nh/dandi-march-anniversary.jpg" width="1400"><media:title type="html"><![CDATA[ &lt;div class=&quot;paragraphs&quot;&gt;&lt;p&gt;دانڈی مارچ کی سالگرہ /گرافکس قومی آواز&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;]]></media:title><media:description type="html"></media:description></media:content><media:thumbnail url="https://media.assettype.com/qaumiawaz/2026-03-12/q0tam1nh/dandi-march-anniversary.jpg?w=280" width="280"></media:thumbnail><category>قومی خبریں</category><content:encoded><![CDATA[ <p>نئی دہلی: 1930 میں شروع ہونے والے تاریخی دانڈی مارچ کی سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مہاتما گاندھی اور آزادی کی جدوجہد میں شامل مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے اپنے پیغامات جاری کیے اور اس تاریخی تحریک کی اہمیت کو یاد کیا۔</p><p>وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ 1930 میں آج ہی کے دن دانڈی مارچ کا آغاز ہوا تھا اور اس میں شامل تمام شخصیات کو وہ احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔</p><p>انہوں نے اس موقع پر ایک سنسکرت سبھاشتم بھی شیئر کیا۔ اس سنسکرت عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ ہمیشہ سچائی کی ہی جیت ہوتی ہے اور باطل کا انجام شکست ہے، اس لیے انسان کو سچائی کے راستے پر چلنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر عظیم انسانوں نے اعلیٰ مقاصد حاصل کیے۔</p><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اس موقع پر ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ 1930 میں مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والا تاریخی دانڈی مارچ آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ انہوں نے کہا کہ نمک ستیہ گرہ کے ذریعے سول نافرمانی کی ملک گیر تحریک نے ہندوستانی قومی کانگریس کے مکمل سوراج کے عہد کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔</p><p>کھڑگے نے اپنے پیغام میں کہا کہ باپو کے بتائے ہوئے اصول آج بھی اتنے ہی اہم اور حوصلہ افزا ہیں جتنے اس وقت تھے۔ انہوں نے اس موقع پر آزادی کے تمام مجاہدین کے غیر معمولی کردار اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شامل تھی جس میں دانڈی مارچ سے متعلق تاریخی تصاویر اور مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو میں مہاتما گاندھی کو مردوں، عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد کے ساتھ لاٹھی کے سہارے مارچ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔</p><p>دریں اثنا، کانگریس پارٹی نے اپنی پوسٹ میں اس تاریخی تحریک کو آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دانڈی مارچ نے برطانوی حکومت کے نمک قانون کے خلاف عوامی مزاحمت کو مضبوط کیا اور آزادی کی تحریک کو نئی توانائی فراہم کی۔</p><p>خیال رہے کہ دانڈی نمک ستیہ گرہ کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ایک اہم باب مانا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے 1930 میں سابرمتی آشرم سے اس تاریخی مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ مارچ برطانوی حکومت کے نمک قانون کے خلاف احتجاج کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ گاندھی جی اور ان کے ساتھیوں نے طویل سفر طے کرتے ہوئے گجرات کے ساحلی علاقے دانڈی تک مارچ کیا اور وہاں پہنچ کر نمک قانون کی علامتی خلاف ورزی کی۔ اس اقدام نے پورے ملک میں سول نافرمانی کی تحریک کو نئی طاقت دی اور آزادی کی جدوجہد کو عوامی سطح پر مزید وسیع کر دیا۔</p>]]></content:encoded></item></channel></rss>