کھیل

محمد انس کا ایشیائی کھیلوں میں شاندار مظاہرہ، 400 میٹر دوڑ میں سلور

انس نے 45.69 سیکنڈ کا وقت لے کر سلور جیتا۔ قطر کے حسن نے 44.89 سیکنڈ کا وقت لے کر سونے اور بحرین کے علی خامس نے 45.70 سیکنڈ کا وقت لے کر کانسہ جیتا۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

جکارتہ: 18 ایشائی کھیلوں میں ایتھلیٹ محمد انس یحیٰ نے شاندار مظاہرہ کیا اور 400 میٹر دوڑ میں سلور کا تمغہ حاصل کیا ۔ ادھر خاتون ایتھلیٹ دوتی چند نے بھی ایشیائی کھیلوں کے ایتھلیٹکس مقابلہ کی 100 میٹر دوڑ میں تاریخی مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ حاصل کیا ۔ نئی اسٹار ہما داس نے بھی 400 میٹر دوڑ میں سلور جیتے۔ اگرچہ لكشمن گووندن نے مرد 10000 میٹر کی دوڑ میں کانسہ کا تمغہ جیت لیا تھا لیکن کچھ دیر بعد ہی انہیں رکاوٹ پہنچانے کے الزام میں نااہل قرار دیا گیا۔

ایک وقت صنفی تنازعہ میں پھنسی اڑیسہ کی دوتی نے 100 میٹر کے فائنل میں کمال کا مظاہرہ کیا اور اس مقابلے کے سونے، چاندی اور کانسہ کا فیصلہ فوٹو فننش میں ہوا۔

دوتی نے 11.32 سیکنڈ کا اپنا بہترین وقت نکالتے ہوئے چاندی کا تمغہ جیتا۔بحرین کی اوڈيوگ نے 11.30 سیکنڈ میں سونے اور چین کی يوگلی وی نے 11.33 سیکنڈ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔مقابلے ختم ہونے کے بعد فاتحین کے فوٹو فننش کا سہارا لیا گیا جس میں دوتي نام دوسرے مقام پر آتے ہی ہندستانی کھلاڑی نے ترنگا اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔ دوتی کے لئے یہ تمغہ فخر کا لمحہ تھا۔

22 سال دوتی اس طرح ملک کی عظیم کھلاڑی پی ٹی اوشا کے 1986 کے ایشیائی کھیلوں میں 100 میٹر میں چاندی کا تمغہ جیتنے کے بعد یہ کارنامہ کرنے والی پہلی ہندستانی کھلاڑی بن گئی ہیں۔

عالمی جونیئر چمپئن شپ میں 400 میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیت کر تاریخ بنانے والی 18 سال کی ہما نے شاندار مظاہرہ کیا اور 50.79 سیکنڈ کا وقت لے کر سلور جیتا۔بحرین کی سلوا ناسير نے 50.09 سیکنڈ کا نیا ایشیائی کھیل ریکارڈ بناتے ہوئے طلائی جیتا۔ قزقستان کی الینا مكھنا نے 52.53 سیکنڈ میں کانسہ کا تمغہ جیتا۔

ہما کی کامیابی کے بعد انس نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مردوں کی 400 میٹر دوڑ میں چاندی کا تمغہ جیت لیا۔ کیرالہ کے 23 سالہ انس کا ایشیائی کھیلوں میں یہ پہلا تمغہ ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال بھونیشور میں ایشیائی چمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیتا تھا جبکہ اس سال دولت مشترکہ کھیلوں میں وہ چوتھے نمبر پر رہے تھے۔

انس نے 45.69 سیکنڈ کا وقت لے کر سلور جیتا۔ قطر کے حسن نے 44.89 سیکنڈ کا وقت لے کر سونے اور بحرین کے علی خامس نے 45.70 سیکنڈ کا وقت لے کر کانسہ جیتا۔

ان دو سلور تمغوں کے بعد لكشمن نے 29 منٹ 44.91 سیکنڈ کا وقت لیا اور 10000 میٹر کی دوڑ میں کانسہ کا تمغہ جیتا۔لیکن کچھ دیر بعد ہی انہیں نااہل قرار دیا گیا اور ان کے ہاتھ سے کانسہ نکل گیا۔اس مقابلے کا طلائی اور چاندی کا تمغہ بحرین کے ہاتھ لگا جبکہ کانسہ چین کے کھلاڑی کو دیا گیا۔

آسام کے ناگاؤں کی ہما نے اس طرح ہندستان کو ان کھیلوں میں ایتھلیٹکس کا دوسرا، انس نے تیسرا اور دوتی نے چوتھا تمغہ دلا دیا۔تجندرپال سنگھ تور نے کل مرد گولہ پھینک مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

ہما اس سال گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ کھیلوں میں 400 میٹر دوڑ میں چھٹے نمبر پر رہی تھیں لیکن فن لینڈ میں ہوئی جونیئر عالمی چمپئن شپ میں طلائی تمغہ جیت کر یہ کارنامہ کرنے والی پہلی ہندوستانی کھلاڑی بنی تھیں۔

400 میٹر مقابلے میں ہندستان کی نرملا معمولی فرق سے کانسی کا تمغہ جیتنے سے چوک گئیں اور انہیں چوتھا مقام حاصل ہوا۔نرملا نے 52.96 سیکنڈ کا وقت لیا اور وہ کانسے کا تمغہ فاتح مكھنا کے 52.63 سیکنڈ کے وقت سے ذرا پیچھے رہ گئیں۔مرد 400 میٹر مقابلے میں راجیو اروكيا45.84 سیکنڈ کا وقت لے چوتھے نمبر پر رہے۔

اس درمیان لمبی کود مقابلے میں شر ی شنكر چھٹے نمبر پر رہے جبکہ دھر اياسامی اور سنتوش کمار نے سیمی فائنل میں دوسری اور پانچویں پوزیشن پر رہتے ہوئے 400 میٹر رکاوٹ کے فائنل کے لئے کوالیفائی کر لیا۔