مشرق وسطیٰ، سائبرقوانین کا ناقدین کے خلاف استعمال

دنیا بھر میں سائبر قوانین کا اطلاق کیا جا رہا ہے، تاہم ان قوانین کے اطلاق کے درپردہ ناقد آوازوں کو خاموش کرانے کا ایک عنصر بھی موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ میں یہ حالات اور بھی واضح ہیں۔

مشرق وسطیٰ، سائبرقوانین کا ناقدین کے خلاف استعمال
مشرق وسطیٰ، سائبرقوانین کا ناقدین کے خلاف استعمال
user

Dw

سائبر حملے دنیا بھر میں حکومتوں ، افراد اور اداروں کے لیے ایک انتہائی بڑے خطرے کا روپ دھار چکے ہیں۔ سائبر میدان جنگ نا صرف انتہائی خطرناک ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس میں آئے دن وسعت بھی آتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی سے متعلق ادارے کے مطابق دنیا کے لگ بھگ اسی ممالک اپنے ہاں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے قوانین نافذ کر چکے ہیں۔ تاہم بعض عرب ممالک کی حکومتیں اپنے ناقدین کو خاموش کرانے اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے ان قوانین کا کھل کر استعمال کررہی ہیں۔

اس سلسلے کی تازہ مثال شام کی ہے جہاں صدر بشار الاسد کی حکومت نے اپریل میں سائبرجرائم سے متعلق قوانین کی تجدید کی ہے۔ نو ترمیم شدہ قوانین کے ذریعے حکومت پر تنقید کرنیوالوں کو نا صرف آن لائن بلکہ آف لائن بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔


برطانوی وکیل اور کنگز کالج لندن میں قانون کے شعبے سے وابستہ پروفیسربرن ہارڈ مائر نے کہا ہے، ''شام میں ایسے خیالات کے آن لائن اظہار کو جرم قرار دیا گیا ہے جن سے حکومت کی ہتک کا پہلو نکلتا ہو۔ ریاست کی تضحیک کرنے والے کو بھی اس قانون کے تحت سزا کا حقدار ٹھہرایا گیا ہے۔‘‘ اس قانون میں سائبر جرائم کی بڑی مبہم تشریح کی گئی ہے لیکن اس کے تحت سزاؤں اور جرمانوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی برہمی

مشرق وسطی میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے ادارے گلف سینٹر فار ہیومین رائٹس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، '' اس بات میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ اس قانون کو مکمل طور پر اختلاف را ئے کے خاتمے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ مفروضے کی بنیاد پر کسی بھی قسم کےڈیجیٹل مواد کو حکومت کی تبدیلی یا اسے گرانے کی حوصلہ افزائی کی ایک کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔ جنگ سے تباہ حال شام کی آبادی کے لیے ایسے قوانین کا مطلب ہے کہ حکومتی کریک ڈاؤن اب نا صرف قانونی ہوگا بلکہ اس کو اب ماضی سے کہیں زیادہ وسعت بھی حاصل ہو گی۔‘‘


مصر، قانون کی حکمرانی کی آڑ میں

مصری حکومت بھی اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے شامی حکومت سے ملتے جلتے ہتکھنڈے استعمال کر رہی ہے۔ رواں برس مارچ میں مصری شہر اسکندریہ کی ایک عدالت نے دو گلوکاروں ہامو بیکو اور عمر کمال کو ایک یوٹیوب ویڈیو میں گانے اور ناچنے پر 'خاندانی اقدار پامال کرنے‘ کے مبہم الزام پر سائبر قانون کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں تھیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہومین رائٹس واچ نے اس عدالتی فیصلے کی مزمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا۔

پروفیسر مائر کے مطابق، ''ریاستیں قانون کی حکمرانی کی آڑ میں ریاستی پالیسیوں کے مخالفین پر سائبر قوانین کا اطلاق کر کہ اظہار کی آزادی پر قدغن لگا رہی ہیں۔ 2011 ء کی عرب بہار میں ہم نے دیکھا تھا کہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ٹوئٹر اور فیس بک کو کس طرح احتجاج اور انقلابیوں میں تحریک پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ، ''برہنہ جارحیت کے مقابلے میں مخالفین کو کچلنے کے لیے سائبر قوانین کی آڑ لینے کا طریقہ کار یقنناﹰ ان حکومتوں کے لیے ذیادہ موزوں ہے۔‘‘


صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے 2018 ء میں انسداد سائبر کرائم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قانون کی توثیق کے بعد سے ہی مصری حکومت کے پاس مخالفین کو چپ کرانے کے لیے بے پناہ اختیارات آ گئے تھے۔ بعد میں جنوری 2022 ء میں نافذکیے گئےنام نہاد ''این جی او قانون‘‘ نے حکام کے پاس پہلے سے موجود اختیارات کو مزید وسعت دے دی ہے۔ یہ قانونی انسانی حقوق اور غیر سرکاری تنظیموں کو سرکاری اندراج کا پابند بناتا ہے جس کے ذریعے حکام کو ان اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار اور انہیں فراہم کی جانے والی مالی معاونت کے بارے معلومات تک رسائی مل جاتی ہے۔ اس قانون کے نتیجے میں بہت ساری تنظیموں بشمول عرب نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس نے کام روک دیا۔

سعودی عرب اور عرب امارات میں نئے طریقے

سعودی عرب میں اس شعبے میں قدرے بہتری آئی ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہاں آزادی اظہار کے لیے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ مختلف تنظیموں کے مطابق یہ خلیجی ریاست صحافیوں کو جیلوں میں ڈالنے کے حوالے سے پہلے پانچ ممالک میں سے ایک تھی جب کہ اب یہ آٹھویں نمبر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق متحدہ عرب امارات بھی سائبر قوانین کو ناقد آوازوں کو دبانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔