جائیداد کی تقسیم اور ارب پتی خاندانوں کے جھگڑے

وجے پت سنگھانیا ایک ایسے سابق ارب پتی ہیں، جن کو اُن کے بیٹے نے ہی کنگال کر کے رکھ دیا ہے۔ سنگھانیا کے کنگال ہونے کی وجہ اپنا کاروبار اپنے ہی بیٹے کو منتقل کرنا بنی۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

بھارت کے کئی ارب پتی خاندانوں میں جائیداد کی تقسیم پر جھگڑے پائے جاتے ہیں۔ ان میں ایک کپڑے کی صنعت سے وابستہ سنگھانیا خاندان بھی ہے۔ یہ خاندان مشہور برانڈ ریمنڈ کا مالک ہے۔ ریمنڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا بھر میں پینٹ کوٹ سوٹنگ کا بہترین کپڑا تیار کرتا ہے۔ اس کی بنیاد وجے پت سنگھانیا نے رکھی تھی۔

بوڑھے ہوتے ہوئے وجے پت سنگھانیا نے اپنی جائیداد اپنے بیٹے گوتم سنگھانیا کو تحفتاً منتقل کر دی تھی۔ سنگھانیا خاندان کو سن 2007 میں کاروبار میں شریک دیگر افراد کی جانب سے عدالتی رسہ کشی کا بھی سامنا رہا تھا۔ سن 2015 میں جائیداد کی گوتم سنگھانیا کو منتقلی نے بوڑھے وجے پت سنگھانیا کو پہلے بیٹے کا محتاج کیا اور پھر وہ کسی حد تک قلاش بھی ہو گئے۔ اس دوران باپ بیٹے میں ہر قسم کے روابط منقطع ہو کر رہ گئے تھے۔

گوتم سنگھانیا نے کاروبار کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اپنے والد کو سارے بزنس میں سے بتدریج باہر کر دیا۔ اُن کا ریمنڈ بورڈ کے تاحیات چئیرمن کا منصب بھی چھین لیا گیا۔ اب وجے پت سنگھانیا سن 2007 کے اُس عدالتی فیصلے کی روشنی میں اپنی جائیداد میں سے وہ حصہ واپس لینے کی کوشش میں ہیں، جو انہوں نے اپنے بیٹے کو تحفہ کی تھی۔ سن 2007 کے فیصلے کے تحت والدین اپنا دیا گیا تحفہ واپس لے سکتے ہیں، اگر اُن کی مناسب دیکھ بھال نہ کی گئی ہو۔

بھارت میں ارب پتی خاندانوں میں جائیداد اور مال و اسباب کی منصفانہ تقسیم کے تنازعے کوئی نئے نہیں ہیں۔ سب سے امیر بھارتی شخصیت مکیش امبانی بھی اپنے بھائی انیل امبانی کے ساتھ والد دھیروبائی امبانی کے مرنے کے بعد جائیداد کی تقسیم پر عدالت پہنچ گئے تھے۔ یہ عدالتی کارروائی برسوں چلتی رہی۔ اس کی وجہ دھیروبائی امبانی کا وصیت کے بغیر مر جانا بتایا گیا تھا۔

بھارت ہی میں شراب اور پراپرٹی کے کاروبار میں شریک چڈا خاندان بھی متاثر ہوا۔ اس ارب پتی خاندان کے دو بھائیوں گوردیپ سنگھ عرف پونٹی چڈا اور ہردیپ سنگھ چڈا نے کاروباری تنازعے اور جائیداد کی تقسیم کے معاملے پر سن 2012 میں بات چیت کے دوران جھگڑا شروع ہونے پر ایک دوسرے کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

بھارت کے ایک اور ارب پتی خاندان کے دو بھائی مالویندر موہن سنگھ اور شویندر موہن سنگھ بھی اپنے والد کی ادویات سازی کے کاروبار کی تقسیم پر عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے ہیں۔ یہ خاندان بھارت کے بیس ارب پتی خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔