ہاشم پورہ سانحہ کی 33 ویں برسی: ’قتل عام جمعۃ الوداع کو ہوا تھا اور آج بھی جمعۃ الواع ہے‘

پی اے سی کے جوانوں نے 22 مئی 1987 کو 43 بے گناہوں کو قتل کر دیا تھا، اس دن جمعۃ الوداع تھا، اتفاق کی بات ہے کہ سرکاری ظلم کی علامت بن چکے ہاشم پورہ سانحہ کی برسی بھی عین جمعۃ الوداع کو ہی آئی ہے

تصویر آس محمد
تصویر آس محمد
user

آس محمد کیف

میرٹھ: ہاشم پورہ کی گلیاں ویران ہیں۔ یہاں کے لوگ اس جمعۃ الوداع کو کبھی نہیں بھول سکتے جب انہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا تھا۔ یوں تو کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے آج بھی ہاشم پورہ کی گلیاں سنسان ہیں، مسجدیں نمازیوں سے خالی ہیں لیکن یہاں کے لوگ 33 سال پہلے بھی ایسا منظر دیکھ چکے ہیں اور جب تو کوئی لاک ڈاؤن بھی نافذ نہیں تھا۔ آج بھی تکلیف کا وہی عالم ہے، 33 سال پہلے کی عید بھی اداس تھی اور اب بھی آنے والی عید اداس ہی رہے گی۔ یہ ویران یکا منظر باشندگان ہاشم پورہ کے زخموں کو پھر سے تازہ کر رہا ہے۔

پی اے سی کے جوانوں نے 33 سال پہلے آج ہی کے دن 43 بے گناہوں کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور یہ اتفاق ہی ہے کہ سرکاری ظلم و ستم کی علامت بن چکے ہاشم پورہ سانحہ کی برسی بھی عین جمعۃ الوداع کو ہی آئی ہے، قتل عام کا دن بھی جمعۃ الوداع کا ہی تھا۔ اخبار والوں نے اس محلہ کا نام ہاشم پورہ کر دیا ہے حالانکہ مقامی لوگ آج بھی اس جگہ کو انصاری گلی کے نام سے ہی جانتے ہیں۔

اسلام الدین (43) نے قومی آواز سے کہا، ’’ہاشم پورہ کی عید تو 33 سال سے بےنور ہو چکی ہے۔ 1987 کو 22 مئی کو جمۃ الوداع کے دن قتل عام ہوا تھا۔ 43 بے گناہوں کو گولی مار کر گنگ نہر میں پھینک دیا گیا تھا۔ عید کے دن ہمارے بچوں کے خون آلودہ کپڑے گھر آئے تھے۔ ہاشم پورہ کے ہر ایک گھر میں ماتم تھا۔ میرے سگے بھائی کو قتل کیا گیا تھا۔ سرکار نے ہمیں 20 ہزار کا معاوضہ دیا تھا جس کی رسید ہم نے سنبھال کر رکھی ہے۔ وہ رسید ہماری بے بسی کی علامت ہے۔‘‘

ہاشم پورہ میں 33 سال پہلے عید پر ہر گھر میں  ماتم تھا / آس محمد
ہاشم پورہ میں 33 سال پہلے عید پر ہر گھر میں ماتم تھا / آس محمد

نومبر 2018 میں ہاشم پورہ کے معاملہ پر ایک اہم فیصلہ آیا تھا اور اس قتل عام میں ملوث پی اے سی کئے جوانوں کو عمر قید کی سزا سائی گئی تھی۔ اسلام الدین ہاشم پورہ کی اس کمیٹی میں شامل رہے ہیں جس نے پی اے سی کی گولی سے جان بحق ہونے والے لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے جد و جہد کی۔

یہاں کے ہر گھر میں کاغذ کا پلندہ ہے۔ کچھ دیواروں پر گولیوں کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ اس محلہ کے لوگوں میں تعلیم کے تئیں بھی منفی رویہ نظر آتا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پڑھ لکھ کر کوئی انہیں نوکری نہیں دینے والا اور سبھی کو یہ بھی لگتا ہے کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔ جب بھی کوئی صحافی یہاں جاتا ہے تو اسے منہاج الدین انصاری سے ضرور ملایا جاتا ہے۔ مقامی لوگ ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔

منہاج 1987 میں ہاشم پورہ میں واقع ایک بنکر کارخانہ میں کام کرتے تھے۔ 22 مئی کو جب پی اے سی یہاں سے لوگوں کو ٹرک میں اٹھا کر لے گئی تو منہاج کو بھی گولی مار دی گئی تھی۔ منہاج گنگ نہر کی ایک جھاڑی کو پکڑ کر کنارے پر چھپے رہے۔ ان کی پیٹھ پر گولی کے نشان آج بھی موجود ہیں۔ ان کی گواہی نے ہی پی اے سی کے جوانوں کو سزا دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

منہاج انصاری پیٹھ پر گولی کے نشان آج بھی موجود ہیں / تصویر آس محمد
منہاج انصاری پیٹھ پر گولی کے نشان آج بھی موجود ہیں / تصویر آس محمد

منہاج کہتے ہیں، ’’گولی لگنے کے بعد میں سانس تھام کر پڑا ہو تھا۔ پی اے سی والوں نے پوچھا تھا کہ جو طالب علم ہے وہ ہاتھ کھڑے کر لے۔ لڑکوں کو لگا کہ شاید انہیں چھوڑ دیا جائے گا مگر سب سے پہلے انہی کو گولی ماری گئی۔ اس کے بعد یہاں کے لڑکوں نے تعلیم چھوڑ دی۔‘‘ منہاج الدین بہار کے دربھنگہ کے رہنے والے ہیں اور اب اپنے کنبہ کے ساتھ ہاشم پورہ میں ہی بس گئے ہیں۔ گولی ان کی پیٹھ کے آر پار ہو گئی تھی۔

ہاشم پورہ کی کچھ دیواروں پر آج بھی گولیوں کے نشان موجود ہیں / آس محمد
ہاشم پورہ کی کچھ دیواروں پر آج بھی گولیوں کے نشان موجود ہیں / آس محمد

ہاشم پورہ میرٹھ میں ہاپوڑ اڈے سے پہلے شاہ پیر گیٹ سامنے والی گلی ہے۔ اسے حفیظ میرٹھی روڈ کہا جاتا ہے۔ حفیظ میرٹھی یہاں کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہاشم پورہ میں 2 مہینے سے کام کاج بند ہے۔ یہاں گلیوں میں چھوٹے کارخانے موجود ہیں جہاں کپڑا بننے کا کام ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کھیل کے سامان بھی تیار کرتے ہیں۔

نوشاد علی (34) کہتے ہیں کہ اب لاک ڈاؤن تو سبھی کے لئے اور وباء سے حفاظ کے لئے یہ ضروری بھی ہے، لیکن 33 سال پہلے کا لاک ڈاؤن تو صرف اور صرف ہمارے لئے تھا۔ انہوں نے بتایا ’’میرٹھ میں فساد کے دوران یہاں سے کافی دور کسی ہندو شخص کا قتل ہو گیا تھا تو فوسز نے انتقاماً یہاں کے لوگوں کا قتل عام کیا، میں تو اس وقت صرف ایک سال کا تھا۔ مگر ہر جمعۃ الوداع پر ہمارے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ اتر پردیش کے سب سے گھناؤنے ظلم و ستم والے اس واقعہ میں پی اے سی کے جوانوں نے پہلے سینکڑوں مسلمانوں کو اغوا کیا اور ان میں سے 43 نوجوانوں کو گولی مار کر مراد نگر میں واقع گنگ نہر میں پھینک دیا تھا۔ پانچ دیگر نوجوانوں کو بھی گولی لگی تھی اور انہیں مرا ہوا سمجھ لیا گیا تھا لیکن وہ کرشمائی طور پر بچ گئے، بعد میں مقدمہ کے اہم گواہ بنے۔ بقیہ نوجوانوں کو بری طرح زد و کوب کر کے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے پی اے سی کے 19 اہلکار کو اس معاملہ میں قصوروار قرار دیا، جن میں سے 3 کی پہلے ہی موت ہو چکی تھی، بقیہ 16 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

    Published: 22 May 2020, 10:11 PM
    next