پھر روندا گیا سائنسی نظریہ

جہالت سب سے زیادہ تب خطرناک ہوتی ہے جب اسے سماج میں پھیلانے کی لگاتار کوشش کی جائے۔

جہالت کسی بھی سماج کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔ اگر جہالت دور دور تک پھیلی ہو تو اور بھی خطرناک ہوتی ہے۔ اس لیے خطرناک ہوتی ہے کہ تب سماج کے فنکاروں، تاریخ دانوں، سائنسدانوں، محققوں اور عالموں کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز بن کر رہ جاتی ہے۔ مگر جہالت سب سے زیادہ تب خطرناک ہوتی ہے جب اسے سماج میں پھیلانے کی لگاتار کوشش کی جائے۔ ایک طرف نیتا کا بیان کہ مہابھارت میں اس کا ثبوت ہے کہ اس دور میں انٹرنیٹ، سیٹلائٹ اور ٹی وی تھا، جہالت کا اندھیرا پھیلانے کی طرف ایک اور قدم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نہیں معلوم کہ وہ نیتا خود اتنے جاہل ہیں یا پھر صرف عوام کو جاہل سمجھتے ہیں اور اس گہرے اندھیرے میں ڈھکیلنا چاہتے ہیں۔ بہر حال، یہ بات بالکل صاف ہے کہ نہ ان کے دل میں شاستروں کی کوئی عزت ہے نہ سائنس کی۔

آج کے دور میں اکثر جہالت کو سیاست کا ایک ہتھیار مان کر سیاسی رہنما، عوام کو جان بوجھ کر اندھیروں کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جہالت کو اکثر وطن پرستی اور دھرم پرستی کے غلاف میں لپیٹ کر پروسا جاتا ہے۔ ان کی اس کوشش کی کامیابی کے لیے مذہبی یا ’دھارمک جاہل‘ جو اکثر لمبے لمبے مذہبی سے نام رکھتے ہیں، یہ عجیب سی ویش بھوشا بناتے ہیں جیسے کچھ جادو ٹونا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، اپنے سارے کالے کرتوت انہی پردوں کے پیچھے چھپاتے ہیں اور عوام کے ذہنوں کو ماؤف کر کے ایک خاص طرح کے سیاسی رہنماؤں کے لیے زمین ہموار کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں پچھلے کچھ سالوں سے سیاسی اور مذہبی جاہلوں کا ننگا ناچ دیکھنے کو مل رہا ہے، لگاتار، بے شرمی کے ساتھ سیاسی لوگ سائنس اور تاریخ دونوں کو اپنے جوتوں تلے روند رہے ہیں۔ یہ بے شرمی پچھلے چار سالوں میں تیزی سے بڑھتی دکھائی دی ہے۔ ملک کے بہترین سائنس دانوں، تاریخ دانوں اور عالموں کے لگاتار احتجاج کے باوجود یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کی سیاست کی جڑیں کافی گہری ہیں۔

جب آزادی کی جنگ اپنے شباب کی طرف بڑھ رہی تھی تو ملک کے بہترین دماغ، جن میں جے سی بوس، سی وی رمن، ایس این بوس، مہالا لومبس، بیربل ساہنی، ایس ایس بھٹناگر، ہومی بھابھا جیسے سائنسداں شامل تھے، ہندوستان میں ایک ایسی فضا بنانے میں لگے تھے جو آنے والے سالوں کو سائنسی کھوج کی طرف راغب کرے۔ مذہب کے جامے میں پھیلی ہوئی جہالت سے نکل کر پرانی سوچ کو خیر باد کہے اور علم کی نئی حدوں کو چھونے کا عزم پیدا کرے۔ سارے بڑے سیاسی رہنما، گاندھی، نہرو، آزاد، پٹیل، اس دور میں بھی، اور آزادی کے بعد بھی ان عالموں کے شانہ بہ شانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔

آج کے دور میں سارے وہ نیتا جو گدی پر بیٹھے ہیں اپنا گیان آر ایس ایس کی شاخوں سے لے کر آئے ہیں اور دیش کے بدنام، ڈھونگی اور بلاتکاری باباؤں کے آگے سر جھکاتے رہے ہیں۔ ان سے کیا امید کر سکتے ہیں۔ گولوالکر نے، جو ان نیتاؤں کے گرو تھے، اپنی کتاب میں، جی ہاں کسی ٹی وی انٹرویو میں نہیں، کتاب میں یہ لکھا ہے کہ نارتھ پول پرانے زمانے میں کہیں اڈیشہ اور بہار کے پاس تھا، دھیرے دھیرے ٹوٹ کر دور چلا گیا، اور اس بات کو انھوں نے آریوں کے ہندوستانی ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ کتاب 1939 میں لکھی گئی تھی۔ انھیں اس بات کی بھی شرم نہیں تھی کہ وہ ’کانٹی نینٹل ڈرفٹ‘ جو کروڑوں سال پہلے ہوئی ہے، کو انسانی سماج کے ارتقا سے، جو کچھ ہزار سال کی کہانی ہے، الٹے پلٹے طریقے سے ملا رہے ہیں۔ شرم اس لیے نہیں آئی کہ یہ دعویٰ ان کی جہالت سے بھری سیاست کی کسوٹی پر پورا ترتا تھا۔

آپ سمجھ سکتے ہیں کہ 90 سال میں یہ سوچ پک کر تیار ہو گئی ہے۔ ان کے چیلے، ذمہ دار نہ سہی، ذمہ دار کرسیوں پر ضرور بیٹھے ہیں۔ اواہی تواہی بکتے رہتے ہیں۔ اور اگر کہہ دو کہ پرادھان منتری کا یہ بیان کہ ’گنیش کا سر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے یہاں پلاسٹک سرجری وِکست تھی‘ جہالت بھرا ہے، تو آر ایس ایس کے بھکت کرسی، دیش کے سمّان کی دہائی دینے لگتے ہیں۔ کیا کرسی کے سمّان کی ساری ذمہ داری ہم پر ہے۔ کیا منسٹروں کو یہ حق ہے کہ وہ اس طرح کے بیان دیں کہ ڈارون کی تھیوری غلط ہے، نیوٹن کے قوانین شاستروں سے چرائی گئی ہیں، گئو موتر سے جہاز کا ایندھن بنایا جاتا تھا، ہمارے دیش میں قدیم وقتوں میں نیوکلیئر بم، میزائل، راکٹ، انٹرنیٹ، ٹی وی اور سیٹلائٹ تھے۔ کیا یہ ملک کی عزت کو داؤ پر لگانا نہیں ہے، کیا دنیا ایسے بیانوں پر ہنسے گی نہیں، کیا ان کو اپنی کرسی کی عزت نہیں کرنی چاہیے۔

نہیں انھیں دیش، سائنس اور شاستروں کی عزت کا کوئی خیال نہیں ہے۔ یہ دیش کی نئی نسلوں کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ یہ آئین ہند کو روند رہے ہیں جو کہتا ہے کہ سائنسی نظریہ پھیلانا ملک کے ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

سب سے زیادہ مقبول