سائنس خطرہ میں… وصی حیدر

اعضاء ٹرانسپلانٹ کی ترکیب اور جراہی، خون کا گروپ، جینس اورانٹی جینس کی سائنسی سمجھ کے بعد ہی ممکن ہو پائی ہے اور اب بھی اس میں بہت ساری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حال ہی میں لگاتار کچھ سیاسی لیڈروں کے ایسے بیانات آئے ہیں ، جنہوں نے ساری دنیامیں ہم کو جگ ہنسائی کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ حکمراں طبقہ کے اس طرح کے بیانات سے ملک بھر کے سائنس داں حیران اورمتفکر ہیں کہ اس طرح کے ماحول میں سائنسی سمجھ کے مقابلہ میں اندھے عقیدوں کو تقویت اور ترجیح ملے گی۔

ان بیانات میں دو طرح کے رجحانات خاص ہیں ۔ ایک قسم وہ ہے جو سائنس کی بنیادی سمجھ کے قطعی خلاف ہے مثلاً پردھان سیوک جی کا بیان کہ ہندو دیوتا گنپتی (گنیش) کےعضاء کا ٹرانسپلانٹ ہوا تھا یہ پہلی مثال ہے اور عالمی گرمی (Global Warming)ایک جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ ہم ان بیانات کو ان کی علمی لیاقت کا ثبوت مان کر نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن چونکہ ان کے ہاتھ میں پورے ملک کی باگ ڈور ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں سائنس کی ترقی کے لئے یہ بہت ہی خطرناک رجحان ہے۔

اعضاء ٹرانسپلانٹ کی ترکیب اور جراہی ، خون کا گروپ، جینس اور انٹی جینس کی سائنسی سمجھ کے بعد ہی ممکن ہو پائی ہے اور اب بھی اس میں بہت ساری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے نہ صرف اس طرح کے بیانات مہمل ہیں بلکہ سائنس دانوں کی برسہا برس کی انتھک کاوشوں کی بے عزتی کرنا ہے۔

عالمی گرمی(Global Warming) ہماری فضا کے اوسط درجہ حرارت کا بڑھنا ہے۔ دسویں طرح کے سائنسی مشاہدات کے بعد ہزاروں سائنس دانوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ 1880سے اب تک درجہ حرارت تقریباً ایک ڈگری سیلسیس بڑھا ہے۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ درجہ حرارت بڑھنے سے موسم میں تبدیلی کے علاوہ بہت اور نقصان دہ نتائج ہیں۔ سمندر کے مقابلے میں زمین اور خاص کر قطب جنوبی اور شمالی کا درجہ حرارت اب 1970 کے بعد سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس درجہ حرارت کے بڑھنے کی خاص وجہ گرین ہاؤس گیسیس ہیں ۔

گرین ہاؤس گیسیس وہ گیسیس ہیں جو گرمی کو جذب اور ریڈیشن کرتی ہیں اور اس طرح گرمی دنیا کے اند ر ہی رہ جاتی ہے۔ اسی کو گرین ہاؤس ایفیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ Oزون، کاربن ڈاکسا ئڈ، نیٹرو ڈایکسائڈ اور میتھین خاص گرین ہاؤس گیسیس ہماری دنیا کی فضا میں ہیں۔ ہمارے نظام شمسی میں مارس، وینس اور ٹائٹن پر کچھ حد تک گرین ہاؤس گیسیس ہیں۔ انسانی حرکتوں اور خاص کر 1750 کے بعد صنعتی انقلاب سے اب تک (2017) فضا میں صرف کاربن ڈائی ایکسائڈ میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس کی خاص وجہ کوئلہ،تیل اور قدرتی گیس کا بڑھتا ہوا بے تحاشہ استعمال ہے۔ اس کے علاوہ جنگلوں کا تیز رفتاری سے کم ہونا، زمین کے استعمال میں تبدیلیاں ، سیلاب سے مٹی کا بہنا اور زراعتی استعمال بھی کچھ حد تک کاربن ڈائی ایکسائڈ کے بڑھنے کے ذمہ دار ہیں ، سائنس دانوں کے اندازے کے حساب سے اگر کاربن ڈائی ایکسائڈ اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2047 تک دنیا کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 2ڈگری سیلسیس بڑھ جائے گااور اس کے بہت خوفناک نتائج ہو ں گے۔

کوئلہ جلا کر بجلی پیدا کرنا اکیلے ہی فضا میں کاربن ڈائی ایکسائڈ بڑھانے کا سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔ آسٹریلیا میں 73 فی صد بجلی کوئلہ جلانے سے ، 13 فی صد گیس سے اور صرف 14 فی صد سورج کی حرارت (سولر پاور) ، ڈیم (ہائڈرو ڈیم) سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے اور ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلہ میں آسٹریلیا تقریباً دو گنا زیادہ اور دنیا بھر کے اوسط کے مقابلے میں چار گنا زیادہ کاربن ڈائی ایکسائڈ کا پلوشن کرہا ہے۔

ہمارا ملک دنیا میں بجلی پیدا کرنے میں پانچویں مقام پر ہے۔ ہندوستان میں تقریباً 203 گیگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا 60 فی صد کوئلہ جلانے سے، 9 فیصد گیس جلانے سے، 12 فی صد سورج کی گرمی (سولر پلانٹ) سے، 2 فی صد نیو کلیر اور 17.5 فی صد پانی کے ڈیم سے حاصل ہوتی ہے۔

عالمی گرمی(Global Warming) کو کم کرنے کے لئے کوئلہ اور گیس کو جلاکر بجلی پیدا کرنے کو کم کر کے ہم اپنی فضا کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

پیڑ پودھے اور جنگلات کا فضا کو صاف رکھنے میں بہت ہی اہم کردار ہے کیونکہ پیڑ کاربن ڈائی ایکسائڈ کو جذب کر کے آکسیجن بناتے ہیں ۔ لیکن انسان جنگلوں کو ختم کر کے کھیتی باڑی اور شہروں کے پھیلاؤ کو بڑھا کر بہت ہی نقصان کر رہا ہے۔جنگلوں کو کاٹ کر لکڑی کو جلانے سے کاربن ڈائی ایکسائڈ بڑھ رہا ہے۔ اس لئے پیڑوں کو لگانا اور جنگلوں کو دوبارہ آباد کرنا بہت ہی ضروری ہے۔

گائے ،بھینس، بھیڑ اور دوسرے جانوروں کے ضرورت سے زیادہ بڑھنے سے فضا میں میتھین جو ایک گرین ہاؤس گیس ہے ،بڑھتی جا رہی ہے۔

دنیابھر کے ہزاروں سائنسدان اسو بات پر متفق ہیں کہ بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسوں کا ذمہ دار اندان کی لالچ ہی ہے۔ قدرتی گرین ہاؤس گیسیں ہماری زمین کا اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سیلسیس رکھتی ہیں جس کی وجہ سے انسان ، جاندار اور پیڑ پیدوں کی موجودگی ممکن ہو پائی ہے۔

گرین ہاؤس گیسیں ایک طرح کے کمبل کا کام کرتی ہیں سورج سے آنے والی گرمی زمین، سمندروں میں جذب ہونے کے بعد دنیا کی فضا میں اس کمبل کی وجہ سے پھنس کر رہ جاتی ہے اور اس کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

عالمی گرمی کا اثر موسم کی تبدیلی اور فضا ئی خرابی کا ذمہ دار ہے۔ سب سے زیادہ نمایاں ہونے والا اثریہ ہے کہ قلب جنوبی قطب جنوبی پر اور اس کے علاوہ پہاڑوں پر گلیشیرس پگھل رہے ہیں ۔ اس کے نتیجہ میں سمندر کی سطح اوپر جا رہی ہے اور دنیا کے بہت سارے ملکوں کے ڈوبنے کا خطرہ اور دریاؤں میں زیادہ پانی سے سیلابوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

درجہ حرارت بڑھنے سے سوکھے اور ریگستانی علاقے بڑھ رہے ہیں۔ واٹر سائکل اور بارش کے طریقہ میں تبدیلی کی وجہ سے سوکھے علاقے اور زیادہ سوکھ رہے ہیں۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ابھی بھی 25 لاکھ لوگوں کو دقتیں ہو رہی ہیں۔ کھیتی کی آمدنی حرف ہندوستان میں تقریباً 25 فیصد کم ہوئی، خاص طور سے ان علاقوں میں جہاں نہری آب پاشی نہیں ہے۔ کسانوں کی بڑھتی ہوئی خود کشیاں انہیں وجوہات سے ہیں ۔

آرکٹک میں پچھلے 10 سالوں میں برف کے پگھلنے کی رفتار 11.5 فیصد ہو گئی ہے اور 1960 کے مقابلہ برف کی مقدار 48 فیصد کم ہو گئی۔ 2010 سے اب تک انٹارکٹکا میں برف کے پگھلنے کی رفتار دوگنی ہو چکی ہے۔ 1880 سے اب کت سمندر کی سطح تقریباً 21 سینٹی میٹی (آٹھ انچ ) بڑھ چکی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

1970 سے شاہرہ کے بعد تمام سائیکلون اور ہریکین کی برپاتی کی قوت میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایک ڈگری درجہ حرارت بڑھنے سے زیادہ خوفناک طوفانوں میں 31 فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

ہماری زندگیوں میں بجلی کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہو رہا ہے جو خاص طور سے کائلہ اور گیس جلاکر حاصل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ رہی ہے۔ فضا میں موجود 40 فیصد سی او ٹو وہ ہے جو کوئلہ جلا کر بجلی حاصل کرنے کی وجہ پیدا ہوتی ہے۔ کاروں میں جلنے والا ایندھن اور طرح طرح کے بجلی سے چلنے والے کام کاج اور گھر کی ضروریات کے ساز و سامان تقریباً 33 فیصد گرین ہاؤس گیسوں کے خراج کے ذمہ دار ہیں۔

CO2کاربن ڈائی آکسائیڈ کے بعد میتھین (CH4)کا فضا میں بڑھنا بھی عالمی گرمی کو بڑھا رہا ہے۔ میتھین بڑھانے کا سب سے بڑا ذمہ دار دنیا میں جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہے جو بڑھی ہوئی آبادی کے لئے گوشت مہیا کرنے میں استعمال ہورہے ہیں۔

نائٹریجن آکسائیڈ (N2O) جو کیمیکل فرٹیلائزرس سے بنتی ہے وہ CO2 کے مقابلہ میں 300 گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔

عالمی گرمی کے بڑھنے کی وجہ سے بہت ساری مخلوقات (species) ختم ہوتی جا رہی ہٰں اور یہ اندازہ ہے کہ 2050 تک تقریباً 10 لاکھ مخلوقات ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گی۔

سمندر کے گرم ہونے سے مچھلیوں اور سمندری جانداروں کا زندہ رہنا محال ہو جائے گا۔ اگلے 10 سالوں میں سمندری سطح بڑھنے کی وجہ سے تقریباً 30 کروڑ لوگوں کو اپنی رہنے کی جگہوں کو چھوڑ کر زیادہ اونچی جگہوں پر جانا پڑے گا اور بہت سارے جزیرے (مثلاً مالدیپ) پانی کے اندر ڈوب جائے گا۔

اوپر بیان کئے گئے اثرات کی وجہ سے خود انسانی زندگی زیادہ دشوار گزار ہو جائے گی ا س لئے ضروری ہے کہ لوگ اور حکومتیں اس آنے والے خطرے کو سمجھ کر ضروری اقدامات لیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ خوبصورت دنیا رہنے کے قابل ہی نہ رہے۔

عالمی گرمی اور اس سے انسانی زندی پر پیدا ہونے والے اثرات کی سائنسی سمجھ نہایت آسان ہے۔ ہم اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں اگر ہم موٹا کمبل اوڑھ لیں تو تھوڑی ہی دیر میں اس کے اندر رہنا محال ہو جائے گا اور ہم اس کمبل کو اتار پھینکیں گے لیکن اگر ہماری پوری دنیا کا یہی حشر ہو جائے تو ہم کہاں جائیں گے۔ اس صورت حال سے بچنے کے لئے بغیر دیر جئے ہوئے فوری اقدامات لینا ضروری ہے۔ ہمارے ’پردھان سیوک ‘ کا اس سائنسی حقیقت کو جھٹلانا ان کی علمی لیاقت میں امریکہ کے موجودہ صدر (ٹرمپ) جیسے لوگوں کے دخل کو نمایاں کرتا ہے۔ اس جہالت کی ایک اور خطرناک وجہ یہ بھی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کو فضا میں جانے سے روکنے کے لئے دنیا کے بڑے سرمایہ داروں کو نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا ہوگا۔ اس سب کو قدرتی خزانہ کو برباد کر کے انسانوں کے بیدردی سے استعمال کی کھلی چھوٹ ملتی رہے۔ اس لئے بھی عالمی گرمی کو جھٹلایا جا رہا ہے۔

اگلے مضمون میں ایک منسٹر صاحب کے بیان اور نیوٹن کے مقولہ کا ذکر ہوگا۔ ان تمام باتوں سے ظاہر ہے کہ موجودہ حکمراں طبقہ سائنس کا بھی دشمن ہے۔

سب سے زیادہ مقبول