زمین کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے قطب مینار سے چار گنا بڑی آفت!

دہلی واقع قطب مینار کی لمبائی سے چار گنا بڑا ایسٹیروئیڈ زمین کے قریب سے 24 جون کو گزرنے والا ہے۔ اس ایسٹیروئیڈ یعنی ٹوٹے ہوئے تارے کی پہچان 441987 (2010 این وائی 65) کی شکل میں ہوئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وبا، گردابی طوفان کے بعد اب ایک اور آسمانی آفت زمین کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صرف 2 دن بعد زمین کے بغل سے ایک بہت بڑا ایسٹیروئیڈ یعنی ٹوٹا ہوا ستارہ گزرے گا۔ یہ ایسٹیروئیڈ دہلی واقع قطب مینار سے چار گنا اور اسٹیچو آف لبرٹی سے تین گنا بڑا ہے۔ جون میں زمین کے بغل سے گزرنے والا یہ تیسرا ایسٹیروئیڈ ہے۔ اس سے قبل 6 جون 8 جون کو زمین کے بغل سے ایسٹیروئیڈ گزرے تھے۔

دہلی واقع قطب مینار کی لمبائی سے چار گنا بڑا ایک ٹوٹا تارہ زمین کے پاس سے 24 جون کو گزرنے والا ہے۔ اس ٹوٹے تارے کی پہچان 441987 (2010 این وائی 65) کی شکل میں ہوئی ہے، جس کی امکانی لمبائی تقریباً 1017 فیٹ ہے اور اس کا دائرہ تقریباً 310 میٹر ہے۔ ہندوستانی وقت کے مطابق یہ ایسٹیروئیڈ زمین کے نزدیک سے تقریباً 12.15 بجے گزرے گا۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے اندازے کے مطابق یہ زمین سے تقریباً 37 لاکھ کلو میٹر دور سے نکلے گا۔ ناسا کے سائنسداں ان سبھی ایسٹیروئیڈ کو زمین کے لیے خطرہ مانتے ہیں جو زمین سے 75 لاکھ کلو میٹر کی دوری کے اندر نکلتے ہیں۔ ان تیز رفتار گزرنے والے کائناتی اشیاء کو این ای او (نیئر اَرتھ آبجیکٹس) کہتے ہیں۔ ایسے میں خلائی سائنسداں کسی بھی ممکنہ خطرے کو دیکھتے ہوئے اس پر اپنی نظریں بنائے ہوئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 2010 این وائی 65 کے بارے میں سائنسداں کا کہنا ہے کہ یہ 46 ہزار 400 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔

Published: 22 Jun 2020, 10:11 PM