آسام: جمعیۃ علماء ہند کو ملی بڑی کامیابی، اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کے نوٹیفکیشن کے خلاف پٹیشن منظور

جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء نے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ "این آر سی کو لے کر اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری کر کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔"

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پریس ریلیز

نئی دہلی: آسام کے نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر ہتیش دیوشرماکے ذریعہ این آرسی کولے کر جاری کئے گئے ایک متنازعہ نوٹیفکیشن کے خلاف جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی کی طرف سے پیر کے روز داخل کی گئی پٹیشن سپریم کورٹ نے منظورکرلی۔ پٹیشن وکیل آن ریکارڈ فضیل ایوبی کے توسط سے داخل کی گئی ہے، جس میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری کر کے درحقیقت اسٹیٹ کوآرڈینیٹرنے عدالت کی طرف سے وقت وقت پردی گئی ہدایات اور فیصلوں کی صریحاً خلاف ورزی کی ہے اس لئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔

پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ این آرسی کا پوراعمل سپریم کورٹ کی نگرانی میں مکمل ہوا ہے، چنانچہ ایسا کر کے ہتیش دیو شرما سپریم کورٹ کی اب تک کی تمام حصولیابیوں پر پانی پھیر دینا چاہتے ہیں، جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء نے یہ دلیل دی کہ 23جولائی 2019کو اپنے ایک اہم فیصلے میں عدالت این آرسی میں شامل ناموں کی ری ویریفکیشن کی عرضی مسترد کر چکی ہے، اسی طرح 7 اگست 2019 کو عدالت نے اس وقت کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر پرتیک ہزیلا اور رجسٹرار آف انڈیا کے ایک اخباری انٹرویو دینے پر سخت برہمی کااظہارکیا تھا اور انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ آئندہ عدالت کی اجازت کے بغیر پریس سے کوئی بات نہیں کرینگے، فاضل ججوں نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ آپ لوگ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہی این آرسی کا کام دیکھ رہے ہیں، اس لئے آپ لوگ جو کچھ کہیں گے اسے عدالت کی منشاء یا رائے سمجھاجائے گا چنانچہ ایسا کرکے آپ لوگ توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، اس پر ان دونوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ وہ ایسی غلطی نہیں کریں گے۔

جمعیۃ علماء ہندکے وکلاء نے ان دونوں فیصلوں کو بنیادبناکر یہ سوال اٹھا یا ہے کہ جب عدالت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ اب کوئی ری ویریفکیشن نہیں ہوگا تو اسٹیٹ کوآرڈینیٹرنے کس اجازت سے ری ویریفکیشن کا کام کیا؟ واضح ہوکہ یہ نوٹیفکیشن این آرسی سے ان لوگوں کو نکال باہر کرنے کے لئے جاری کیا گیا ہے جو مشتبہ ہیں یا ڈی ووٹرہیں یا پھر فارن ٹریبونل نے جن کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، نوٹیفیکشن میں تمام ڈسٹرکٹ میں رجسٹرار آف سٹیزن رجسٹریشن سے واضح طورپر کہا گیا ہے کہ وہ نہ صرف ایسے لوگوں بلکہ ان کے اہل خانہ (اجداد)کے نام بھی این آرسی سے ہٹادے، وکلاء نے سوال کیا کہ کیا اسٹیٹ کوآرڈینیٹرنے عدالت کو اعتمادمیں لے کر ری ویریفکیشن کروایا ہے؟ اگر نہیں توکیا ایسا کر کے انہوں نے عدالت کی صریحاً توہین نہیں کی؟

یہی نہیں 13اگست 2019اپنے ایک فیصلے میں عدالت نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ وہ بچہ جو 2004 سے قبل پیداہوا ہے اگر اس کے والدین میں سے کسی ایک کانام این آرسی میں شامل ہوگا تو اسے ہندوستانی سمجھا جائے گا، مذکورہ پٹیشن اس فیصلے کے بھی سراسرخلاف ہے کیونکہ اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ مشتبہ ہیں،ڈی ووٹر ہیں یا پھر فارن ٹریبونل میں جن کے معاملہ التوامیں ہیں وہ سب غیر ملکی ہیں، اس لئے نہ صرف ان کا بلکہ ان کے اہل خانہ کا نام بھی این آرسی سے ہٹادیا جائے، وکلاء نے دلیل دی کہ اس بنیاد پر اسٹیٹ کوآرڈینیٹرکے خلاف توہین عدالت کا معاملہ بنتاہے، عدالت نے اس پربحث کے لئے ابھی کوئی تاریخ مقررنہیں کی ہے، تاہم جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء بحث کیلئے مواد اورشواہد جمع کررہے ہیں۔

جمعیۃعلماء ہندکے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وکلاء نے پوری تیاری کے ساتھ عرضی داخل کی ہے جس میں اہم نکتوں کی طرف عدالت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پہلی ہی نظرمیں لگتاہے کہ نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹرنے اس معاملہ میں نہ صرف اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے بلکہ اپنے اس قدم سے معززعدالت کی توہین بھی کی ہے، اپنی جگہ یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخرانہوں نے کس کے اشارے یا حکم پر ایسا کیا؟ مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ این آرسی کے پورے عمل کی سپریم کورٹ خودنگرانی کررہی ہے، یہاں تک کہ رجسٹرارآف انڈیا اور اس وقت کے اسٹیٹ کوآرڈینیٹرنے جب ایک انگریزی کے اخبارسے گفتگوکی تھی تو اس پر عدالت نے ان کی سخت سرزنش کی تھی اور کہا تھا کہ وہ آئندہ عدالت کے علم لائے بغیر کوئی کام نہیں کریں گے، عدالت دوبارہ این آرسی کرانے یا ری ویریفکیشن کی ضرورت کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اب جب کہ این آرسی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اس سے باہر رہ گئے تقریبا 19 لاکھ لوگوں کا مسئلہ باقی رہ گیا ہے، اسٹیٹ کوآرڈینیٹر نے اپنے طور پر ری ویریفکیشن کرواکر اس طرح کا حکم نامہ کیوں جاری کیا؟ آخر کوئی نہ کوئی بات ضرورہے جو اس مقصد کے پیچھے پوشیدہ ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کی بنیادپر آسام شہریت معاملے کو لیکر ابتداہی سے قانونی جدوجہد کر رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ یہ مسئلہ ایک ایسا انسانی مسئلہ ہے جس میں ایک چھوٹی سی غلطی سے پورے پورے خاندانوں کی زندگیاں تباہ برباد ہو سکتی ہیں، اور اس صورت میں ہمارے ملک میں ایک بڑاانسانی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جب گوہاٹی ہائی کورٹ نے پنچایت سرٹیفکیٹ کو شہریت کا ثبوت ماننے سے انکارکردیا تھا توآسام میں تقریبا 48 لاکھ شادی شدہ خواتین کی زندگیوں پر سوالیہ نشان لگ گیا تھا، اس فیصلے سے تقریبا 25لاکھ مسلم اور 23لاکھ ہندوخواتین کی شہریت چھن جانے کا خطرہ پیداہوگیا تھا، ایسے وقت میں یہ جمعیۃعلماء ہند تھی جو اس اہم مسئلے کو سپریم کورٹ لیکر گئی تھی، سپریم کورٹ نے جمعیۃعلماء ہند کے موقف کو تسلیم کرکے پنچایت سرٹیفیکت کو شہریت کا ثبوت مان لیا انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد میں نے اپنے ایک ردعمل میں کہاتھا کہ میری پوری جماعتی زندگی میں اس سے پہلے مجھے اتنی خوشی کبھی نہیں محسوس ہوئی جتنی کی آج ہورہی ہے، کسی کا نام لئے بغیر انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ اس مسئلہ کو ابتداہی سے مذہب کی عینک سے دیکھتے آئے ہیں لیکن ہم اس مسئلے کو انسانیت کی نظرسے دیکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم عدالتوں میں شہریت معاملے کو لیکر آسام کے تمام شہریوں کے مفادکی لڑائی لڑرہے ہیں، انہوں نے آخرمیں کہا کہ اس طرح کے ہر معاملے میں عدالت سے ہمیں انصاف ملاہے چنانچہ اس معاملے میں بھی ہم توقع کرتے ہیں ہے کہ عدالت کاجوبھی فیصلہ آئے گاوہ آسام کے تمام شہریوں کے وسیع ترمفادمیں ہوگا۔

پسندیدہ ترین
next