شاہ جی یہ خوش فہمی زیادہ دنوں کی مہمان نہیں!

مودی ہوں یا شاہ، جیٹلی ہوں یا دوسرے وزرا سب ایک قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ کہ ہم 2019 میں پھر حکومت میں آرہے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح کی خوش فہمی ہے جیسی کہ 2004 میں واجپئی حکومت کو تھی۔

ایک طرف مرکز میں حکمراں محاذ این ڈی اے کی کشتی ڈانوا ڈول ہو رہی ہے تو دوسری طرف بی جے پی کے صدر امت شاہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ موجودہ اپوزیشن کے سہارے 2019 کا بھی الیکشن جیت لیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ حزب اختلاف بہت کمزور ہے۔ وہ خاص طور پر کانگریس صدر راہل گاندھی کو بہت Underestimate کر رہے ہیں۔ یعنی انھیں بہت ہلکے میں لے رہے ہیں۔ انھوں نے راہل کے لیے ’’ببوا‘‘ لفظ استعمال کیا ہے۔ ابھی تک یہ لوگ ان کو ’’پپو‘‘ کہہ کر تمسخر اڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔

لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ اسی پپو نے وزیر اعظم نریندر مودی جیسے انتہائی گھاگھ اور کائیاں سیاست داں کو پانی پلا دیا اور انھیں مجبور کر دیا کہ وہ ان کی طرف اپنی توجہ مبذول کریں تو پھر وہ انھیں پپو بلانے سے گھبرانے لگے۔ پہلے گجرات پھر کرناٹک اور اس کے ساتھ ہی ضمنی انتخابات میں ان کی حکمت عملی نے پوری حکومت کو راہل گاندھی کو اہمیت دینے پر مجبور کر دیا۔ ہمارا خیال ہے کہ امت شاہ اینڈ کمپنی کو ابھی اور جھٹکے لگیں گے۔ بالخصوص راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات میں انھیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ پھر ان کو احساس ہوگا کہ ’’ببوا‘‘ اب ببوا نہیں رہ گیا ہے۔

ویسے امت شاہ کسی حد تک درست ہیں کہ اپوزیشن کی وجہ سے ہی بی جے پی کو اتنی شاندار کامیابی ملی تھی۔ ورنہ ان لوگوں میں کوئی سرخاب کے پر تھوڑے لگے تھے۔ اگر اپوزیشن میں اتحاد ہوتا یا وہ سوچ سمجھ کر اپنی انتخابی حکمت عملی تیار کرتا تو بی جے پی کے لیے اتنی آسانی سے موسمِ بہار نہیں آجاتا۔ لیکن اب اسی اپوزیشن نے ہوش کے ناخن لے لیے ہیں۔ اس نے اس حقیقت کو محسوس کر لیا ہے کہ اگر مٹھی بند ہے تو پھر کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ بند مٹھی سے اپنے حریف کے چہرے پر زناٹے دار گھونسہ بھی رسید کیا جا سکتا ہے۔ پہلے گورکھپور اور پھولپور میں بی جے پی کے چہرے پر یہ گھونسہ پڑا اور پھر کیرانہ اور نورپور میں پڑا۔ گویا اقتدار کا نشہ ابھی دھیرے دھریے ہرن ہو رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہ خمار پوری طرح اتر جائے اور آسمان پر اڑنے والے پتنگے زمین پر لوٹنے لگیں۔

وزیر اعظم مودی کی مانند امت شاہ بھی بار بار کہتے ہیں کہ آپ بتائیے کہ 70 برسوں میں آپ نے کیا کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 70 برسوں میں جو کچھ نہیں ہوا وہ چار برسوں میں ہو گیا۔ کیا بی جے پی رہنماؤں کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے کہ وہ 1947 اور 2014 کے درمیان حالات دیکھ نہیں پاتے۔ اس دوران ہندوستان نے جتنی ترقی کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ بی جے پی کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کانگریس دور حکومت میں ہونے والی ترقی کا قصیدہ پڑھا تھا اور زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان برسوں میں ملک نے جو ترقی کی ہے اس کو نظرانداز کرنا یا اس کا انکار کرنا اپنی مردانگی کا انکار کرنا ہے۔ لیکن 56 انچ سینے والوں کو نہ تو ملک کی ترقی نظر آتی ہے، نہ ہی اٹل بہاری واجپئی کی تقریر یاد ہے اور نہ ہی واجپئی کے لفظوں میں ملک کی مردانگی سے کوئی دلچسپی ہے۔ ہاں انھیں دلچسپی ہے تو پورے ملک پر بھگوا پرچم لہرانے سے اور اپوزیشن کو ختم کرنے سے ہے۔ ان لوگوں کا یہ دعویٰ کہ گزشتہ چار برسوں میں جو کام ہوا ہے وہ 70 برسوں میں نہیں ہوا، پوری دنیا میں ہندوستان کو بدنام کرنے والا دعویٰ ہے۔ یہ ایسا دعویٰ بھی ہے جس پر کوئی بھی سنجیدہ شخص اظہار خیال نہیں کر سکتا۔

ویسے بی جے پی لیڈروں کا یہ کہنا درست ہے کہ ان چار برسوں میں جو کام ہوا ہے وہ گزشتہ 70 برسوں میں نہیں ہوا ہے۔ واقعی اس سے قبل ملکی معیشت کی حالت کبھی اتنی پتلی نہیں تھی۔ اس سے قبل کسانوں کے حالات اتنے ابتر نہیں تھے۔ چھوٹے کاروباریوں کی کمر ایسے پہلے کبھی نہیں ٹوٹی تھی۔ کسی سرکاری فیصلے سے لاکھوں افراد پہلے کبھی بے روزگار نہیں ہوئے تھے۔ جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانوں کو بھیڑ کے ہاتھوں ہلاک کرنے کی روایت ہندوستان میں نہیں تھی۔ اختلاف رائے کرنے والوں کو موت کی دھمکیاں دینا اور انھیں منصوبہ بند انداز میں ہلاک کرنا ہندوستانیوں کا شیوہ نہیں تھا۔ سیاست میں بحث و مباحثہ کی سطح اتنے نیچے کبھی نہیں آئی تھی۔ پہلے کسی بھی وزیر اعظم نے اپوزیشن کو دھمکیاں نہیں دی تھیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اقتدار کے نشے میں ہندوستان کو اپوزیشن مکت بنانے کا خواب کبھی نہیں دیکھا تھا۔ آئینی اداروں کو غلام بنانے کی روایت پہلی بار شروع ہوئی ہے۔ میڈیا کو اس طرح ہراساں کرنا کہ وہ حکومت کے قدموں میں سجدہ ریز ہو جائے، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ کسی وزیر اعظم نے دوسرے وزرا کو پہلے کبھی غیر اہم نہیں بنایا۔ کسی وزیر اعظم نے یہ روش کبھی نہیں اپنائی کہ جو بھی فیصلے کیے جائیں وہ انتخابی کامیابی کو ذہن میں رکھ کر کیے جائیں۔ اس سے قبل کسی بھی وزیر اعظم پر ہر الیکشن جیتنے کا بھوت اس طرح سوار نہیں ہوتا تھا۔ سیاست میں مخالفین کو اس طرح بے عزت کرنے کی روش کسی نے اختیار نہیں کی تھی۔ واقعی ان چار برسوں میں جو ہوا ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

نریندر مودی ہوں یا امت شاہ، ارون جیٹلی ہوں یا دوسرے وزرا سب ایک قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ خوش فہمی یہ ہے کہ ہم 2019 میں پھر حکومت میں آرہے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح کی خوش فہمی ہے جیسی کہ 2004 میں واجپئی حکومت کو تھی۔ جب بی جے پی کے لوگ فیل گڈ فیکٹر میں مبتلا تھے اور جب انڈیا شائننگ کا دور دورہ تھا۔ اس وقت بھی ایسا ہی پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ این ڈی اے پھر برسراقتدار آرہا ہے۔ لیکن جب انتخابی نتیجہ سامنے آیا تو واجپئی سمیت تمام رہنماؤں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ پھر یوں ہوا کہ کانگریس کی زیر قیادت یو پی اے نے دس برسوں تک حکومت کی۔

آج ایک بار پھر وہی صورت حال ہے۔ البتہ اس بار باگ ڈور واجپئی جیسے مہذب شخص کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اس لیے خطرہ ہے کہ سیاسی مباحثے کی سطح کو اور نیچے گرایا جائے گا اور میڈیا و سوشل میڈیا کے ہتھیاروں سے اپوزیشن کی کردار کشی کی جائے گی۔ اسے عوام میں جھوٹے پروپیگنڈے کی بنیاد پر بدنام کرنے کی کوشش ہوگی۔ گھٹیا قسم کے ویڈیوز جاری کیے جائیں گے اور جانے کیا کیا بد تمیزیاں کی جائیں گی۔ لیکن ہوگا وہی جو ہندوستانی ووٹر چاہے گا اور ایسا لگتا ہے کہ ووٹروں نے اس متکبر حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ لہٰذا شاہ جی کی یہ خوش فہمی زیادہ دنوں کی مہمان نہیں ہے۔ وہ 2019 میں کافور ہو جائے گی۔

سب سے زیادہ مقبول