کورونا متاثر وزیر صحت کس جماعت میں گئے تھے!... نواب علی اختر

کپڑوں سے پہچانے جانے والوں نے لاک ڈاؤن کے دوران پریشان حال لوگوں کی ہر ممکن مدد کر کے یہ ثابت کردیا کہ نفرت سے سبھی کا نقصان ہوتا ہے، کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

عالمگیر وبا ’کووڈ۔ 19‘ ہندوستان میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑے ہوئے ہے جس کو ہلانے میں حکومت پوری طرح ناکام نظر آرہی ہے۔ حالانکہ وبائی پھیلاؤ حد سے تجاوز کر چکا ہے اور اس کی زد میں آکر تقریباً ہر روز کسی نہ کسی با اثر شخصیت کے کورونا وائرس کی زد میں آکر بستر مرض پر پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مگرمودی حکومت سیاسی بیان بازی سے باہر نکل کر اس وبا پر قابو پانے میں کسی سطح پر کامیاب ہوتی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ حد تو تب ہوجاتی ہے جب حکومت کے لوگ بڑے فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ آبادی کے تناسب میں دیگر ممالک کے مقابلے ہندوستان میں کورونا سے اموات کافی کم ہوئی ہیں۔ حالانکہ حکومتی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ درباری صحافت اور عوام کا ایک مخصوص گروہ حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے بڑی تندہی کے ساتھ کام کر کے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے ہر وہ طریقے اختیار کر رہے ہیں جسے مہذب سماج ہر گز پسند نہیں کرتا ہے۔

حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لئے کس کس چیز کا سہارا لیتی ہے۔ اس کا ثبوت نظام الدین کا تبلیغی مرکز ہے۔ مارچ کے مہینے میں جس طرح حکومت اور درباری صحافت نے جھوٹی اور من گھڑت خبریں پھیلائیں اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں بھی حکومت اور میڈیا کس قدر قابل مذمت رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا اس مصیبت سے لڑنے میں مصروف ہے اور ہندوستانی میڈیا اور حکومت مسلمانوں اور اسلام کو بدنام کرنے میں مصروف نظر آ رہے۔ وشنو دیوی مندر میں 400 لوگ میڈیا اور حکومت کو پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ نظام الدین اور دیگر مساجد میں پناہ گزیں لوگ چھپے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کے تقریبآً 60 لوگ کورونا پوزیٹو پائے جاتے ہیں اس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا لیکن مرکز میں اگر 24 لوگ پوزیٹو پائے جاتے ہیں ان کو پورے ہندوستان کے لئے خطرہ بتایا جاتا ہے اور حکومت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیتی ہے۔

30 مارچ سے شروع ہوا منافرت کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ اس دوران تبلیغی مرکز کے متعلق متضاد خبریں آئیں۔ اس وقت درباری صحافت اور ہندوتو نواز میڈیا نے تبلیغی جماعت معاملے کو ایک سنہرے موقع کے طور پراستعمال کیا اور اس بہانے وہ پورے ملک کے مسلمانوں کو کھلنائک کے طور پر پیش کرنے لگے، لیکن سماج میں نفرت پھیلانے کی یہ سازش اس وقت دم توڑ گئی جب تبلیغیوں کو دہلی میں جمع ہونے کی اجازت اور ویزا فراہمی کا معاملہ سامنے آیا تو ایک بار پھر حکومت نواز گروہ نے مورچہ سنبھالا اور مرکزی حکومت کو معصوم ثابت کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ یاد رہے کہ لاک ڈاؤن کے سبب دہلی اور مرکزی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے اس کی جگ ہنسائی ہو رہی تھی، دہلی سمیت پورے ملک میں غریب سڑکوں پر تھے، سارے لوگ پریشان حال تھے اسی دوران مرکز کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ حکومت اور میڈیا نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ تمام ناکامی کو چھپانے کے لئے اس کا رخ مرکز تبلغی جماعت کی طرف موڑ دیا۔

تبلیغی جماعت معاملے کو ایسا مشہور کیا جانے لگا گویا ہندوستان میں کورونا کے جنم داتا مسلمان ہی ہیں۔ اس وقت نفرت کی فضا اتنی گرم کردی گئی کہ مسلمان سبزی فروش کو سوسائٹی میں گھسنے سے روک دیا گیا، مسلمان پھل فروش سے خریداری کرنا بند کر دی گئی یہاں تک کہ مسلم کرایہ دار کو ستایا جانے لگا تاکہ وہ مکان چھوڑ کر سڑک پر آجائیں۔ ان سب کے باوجود ملک میں کورونا اپنی جڑیں مضبوط کرتا گیا اوراس نے غریب ہو یا امیر، پیسہ والا ہو یا فقیر، ہندو ہو یا مسلمان ہر ایک کی گردن تک پہنچ کر بتادیا کہ وبائی مرض کے لیے مذہب، ذات، نسل یا حیثیت کوئی معنیٰ نہیں رکھتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین ہیں جو کیٔی روز سے اسپتال میں کورونا سے جان بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جین کو تیز بخار اور سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے پر پیر کی رات اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ تب سے وہ بسترعلالت پر ہیں۔ جنوبی دہلی کے ساکیت میں واقع میکس اسپتال میں بھرتی جین کو انفیکشن کے علاج کے لیے پلازما تھیریپی دی گئی ہے اور آئی سی یو میں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں اور ان کی صحت پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔

ایسی حالت میں مسلمانوں کو کورونا کا ’جنم داتا‘ بتانے کی کوشش کرنے والوں سے ایک تلخ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر ستیندر جین کس جماعت میں شامل ہوئے تھے جس کی وجہ سے وہ کورونا کی زد میں آئے؟ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس سوال کا کسی کے پاس جواب نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ تبلیغی جماعت کے بہانے صرف اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ تبھی تو کہا گیا تھا کہ ’کپڑوں سے پہچانو‘۔ لاک ڈاؤن کے دوران پریشان حال لوگوں کی ہر ممکن مدد کرکے انہیں کپڑوں نے ثابت کر دیا کہ نفرت سے سب کا نقصان ہوتا ہے، کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔ سماج کو تقسیم کرنے والوں کی نگاہ جب ہم پر لگی ہوئی ہے تو ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے۔ کوئی موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔ مسلمان کرونا لوجی کو سمجھیں اور سماج کو تقسیم ہونے سے بچائیں۔ کیونکہ یہ لوگ ہمیں سماجی طور پر الگ تھلگ کردینا چاہتے ہیں۔

    Published: 21 Jun 2020, 7:11 PM