دونوں سیاسی محاذوں کے خد و خال آج بھی واضح نہیں

کانگریس صدر بننے کے بعد راہل گاندھی کی تقدیر کا ستارہ عروج کی جانب رواں دواں ہے گجرات سے شروع ہوا سفر مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ تک پہنچ چکا ہے۔ کانگریس کے مردہ جسم میں نئی جان پڑچکی ہے۔

عبیداللہ ناصر

آئندہ پارلیمانی انتخابات کے لئے موجودہ دونوں محاذوں کا خد و خال ابھی بھی واضح نہیں ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ کون سی علاقائی پارٹی کس قومی پارٹی کے خانہ میں جائےگی۔ تلنگانہ کےوزیر اعلی نے غیر کانگریس اور غیر بی جےپی محاذ کی تشکیل کے لئے مہم شروع کر دی ہے ۔انہوں نے بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اوڈیشہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے علاوہ اتر پردیش کے دونوں اہم لیڈروں اکھلیش یادو اور مایاوتی سے بھی رابطہ قایم کیا ہے ۔ اکھلیش اور مایاوتی نے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پہلے ہی اتر پردیش میں از خود سیٹوں کا بٹوارہ کر لیا ہے۔

ادھر بہار میں بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی حالت کتنی پتلی ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کی ریاست کی 40 میں سے 22 سیٹیں جتنے والی بی جے پی نے 2 پارلیمانی سیٹ جیتنے والی جنتا دل یو کے سامنے خود سپردگی کر دی ہے اور محض 17 سیٹیں لینے پر راضی ہو گئی ہے جبکہ جنتا دل یو کو بھی 17 سیٹیں دی ہیں- اوپیندرا کشواہا پہلے سے ہی این ڈی اے کو خدا حافظ کہہ چکے ہیں ۔سیاسی موسم میں آنے والے بدلاؤ کو وقت سے پہلے سمجھنے والے رام ولاس پاسوان نے موقع غنیمت دیکھتے ہوئے مول بھاؤ سخت کیا اور اپنے لئے راجیہ سبھا کی سیٹ لینے کے ساتھ ساتھ 6سیٹیں بھی جھٹک لیں ۔اس طرح بہار میں بی جے پی پہلے ہی قریب 15 سیٹوں کا نقصان برداشت کر چکی ہے ۔ بہار میں کانگریس کی قیادت والے یو پی اے کے لئے اتر پردیش جیسے غیر یقینی حالات نہیں ہیں کیونکہ راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو پرساد یادو اور ان کے ہونہار بیٹےتیجسوی یادو نے کانگریس سے علیحدہ ہو کر کسی مورچے کی تشکیل کا اعلان نہیں کیا ہے۔

اتر پردیش کے حالات خاصہ پیچیدہ ہیں اس کی خاص وجہ یہاں کے دونو اہم لیڈروں مایاوتی اور ملایم سنگھ یادو کا وزیر اعظم کی کرسی پر نظر ہونا ہے دونو ں لیڈروں کی کوشش یہ رہتی ہے کہ ان کی پارٹی کم از کم 60 سیٹیں حاصل کر لیں اور کانگریس کی کارکاردگی زیادہ اچھی نہ رہے تاکہ انھیں باہر سے حمایت دے کر وزیر اعظم بنوانے کے لئے مجبور ہو ں۔ یہ ان کا بہت پرانہ خواب ہے جو ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا مگر بہر حال دونو ں لیڈروں کی یہ کوششیں جاری ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مایاوتی کا دلت ووٹ بینک ملائم کا مسلم ووٹ بینک اور بی جے پی کا اعلی ذات خاص کر پنڈت ووٹ بینک جو پہلے کانگریس کے پاس تھا یہ تینوں پارٹیاں نہیں چاہتیں کی اتر پردیش میں کانگریس اتنی مضبوط ہو جائے کہ ان کایہ ووٹ بنک پھر سے اپنی پرانی پارٹی کی طرف واپس چلا جائے اس لئے ملائم اور مایاوتی بی جے پی کو مضبوط ہوتے دیکھ سکتی ہیں کانگریس کو نہیں۔

راہل گاندھی کے کانگریس کا صدر بننے کے بعد سے ان کی تقدیر کا ستارہ عروج کی جانب رواں دواں ہے گجرات سے شروع ہوا سفر مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ تک پہنچ چکا ہے۔ کانگریس کے مردہ جسم میں نئی جان پڑ چکی ہے۔ اب اس کے رہنما کے ہی نہیں بلکہ عام کارکنان تک کے حوصلے بلند ہیں ۔ کانگریس رہنماؤں نےواضح طور پر اشارے دیئے ہیں کہ وہ سمجھوتہ کے لئے دروازہ کھلا رکھنا چاہتی ہے لیکن کانگریسی کارکنان اور سیکولر مزاج سنجیدہ طبقہ چاہتا کہ کانگریس جھک کر سمجھوتہ نہ کرے تاکہ کانگریس کارکنان کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔