اتر پردیش رکن پارلیمنٹ کی منفی رپورٹ تیار، امت شاہ کا تیور سخت

آر ایس ایس کی ایک رپورٹ کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ نے اشارہ دیا ہے کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش سے کم از کم 50 فیصد موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے ٹکٹ کٹ جائیں گے۔

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں کھسکتے مینڈیٹ کا خدشہ ہوتے دیکھ بی جے پی کے ہوش اڑے ہوئے ہیں اور اس سے نمٹنے کی کوششوں کے تحت اتر پردیش سے کم از کم 50 فیصد موجودہ ممبران پارلیمنٹ کے ٹکٹ کٹ جائیں گے۔ ایسا اشارہ پارٹی کی حال میں ہوئی میٹنگوں میں ممبران پارلیمنٹ کی کارکردگی کے تجزیہ کے بعد ملا ہے۔

بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے حال ہی میں اتر پردیش کے مرزا پور، وارانسی اور آگرہ میں آر ایس ایس کارکنان اور پارٹی لیڈروں سے 2019 لوک سبھا انتخابات کے بارے میں صلاح و مشورہ کیا۔ مرزا پور اور آگرہ میں ہوئی میٹنگوں کے دوران امت شاہ نے چند ایک ممبران پارلیمنٹ سے کچھ منٹوں کی ملاقات بھی کی اور انھیں میٹنگ روم کے باہر انتظار کرنے کو کہا۔

مرزا پور میں گورکھپور، کاشی اور اوَدھ علاقہ کے ممبران پارلیمنٹ نے امت شاہ سے ملنے کی کوششیں کیں لیکن انھیں وقت نہیں دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں ان ممبران پارلیمنٹ کو ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں امت شاہ نے صاف کر دیا کہ وہ ان کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایسے نہیں چلے گا۔‘‘ امت شاہ نے واضح طور پر کہا کہ کچھ ممبران پارلیمنٹ کی کارکردگی بے حد خراب ہے۔

آگرہ میں امت شاہ نے کانپور-بندیل کھنڈ، برج اور مغربی اتر پردیش کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ کی۔ بی جے پی کے ایک بڑے لیڈر نے بتایا کہ ’’اگرہ میں شاہ نے دعویٰ کیا کہ پارٹی آئندہ لوک سبھا انتخابات میں 74 سیٹیں جیتے گی اور یہ تبھی ممکن ہے جب 50 سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کی جگہ نئے چہروں کو موقع دیا جائے۔ ان ممبران پارلیمنٹ کی کارکردگی بے حد خراب رہی ہے اور ان کے خلاف ماحول اتنا خراب ہے کہ لوگ ان کا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتے۔‘‘ اس لیڈر نے کہا کہ 74 سیٹوں کا شاہ کا داؤ تبھی حقیقت کی شکل لے گا جب موجودہ ممبران پارلیمنٹ کو بدلا جائے۔

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے اتر پردیش کی 80 میں سے 71 سیٹیں جیتی تھیں جب کہ اس کے ساتھی پارٹیوں کو 2 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ لیکن گزشتہ دنوں 3 لوک سبھا ضمنی انتخابات میں بی جے پی تینوں سیٹوں پر بری طرح ہار گئی اور اتر پردیش میں اس کی تعداد 71 سے گھٹ کر 68 رہ گئی۔

بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے بتایا کہ امت شاہ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی کارکردگی پر کارکنان کا فیڈ بیک لینے کے مشن پر نکلے ہیں لیکن ابھی تک جو کچھ سامنے آیا ہے وہ کافی مایوس کن رہا ہے۔ ایک ذرائع نے بتایا کہ ’’میٹنگوں میں یہ صاف طور پر نکل کر آیا ہے کہ امیدواروں کو بدلنے کی ضرورت ہے، اور یہ بدلاؤ بڑے پیمانے پر ہوں گے۔ گراؤنڈ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کا لوگوں کے ساتھ رابطہ اور ڈائیلاگ نہیں ہو رہا ہے۔‘‘

امت شاہ جن رپورٹ کی بنیاد پر ممبران پارلیمنٹ کی کارکردگی اور کام کا تجزیہ کر رہے ہیں انھیں پارٹی کے ’ایکسپینڈر‘ نے تیار کیا ہے۔ پارٹی کے ’ایکسپینڈر‘ ایسے انجان چہرے ہوتے ہیں جو زمینی سطح پر آر ایس ایس کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کو مودی حکومت کی پالیسیوں تک کی جانکاری نہیں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے ممبران پارلیمنٹ نے گرام چوپال میں حصہ نہیں لیا اور جن کچھ ممبران پارلیمنٹ نے اس میں حصہ لیا انھوں نے پارٹی ہدایات کے برعکس گاؤوں میں رات نہیں گزاری۔ امت شاہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ کئی ممبران پارلیمنٹ نے ووٹر لسٹ ویریفائی کرنے کی مہم میں بھی حصہ نہیں لیا۔ یہ مہم بی جے پی نے گزشتہ مہینے شروع کی تھی۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’پارٹی صدر امت شاہ تجزیاتی رپورٹ ملنے کے بعد کافی ناراض تھے۔ اسی لیے کئی ممبران پارلیمنٹ کو میٹنگ روم کے باہر انتظار کرنے کو کہا گیا۔‘‘

غور طلب ہے کہ بی جے پی نے پارٹی کا مینڈیٹ بڑھانے اور لوگوں کے درمیان شبیہ بہتر کرنے کے لیے کئی پروگرام شروع کیے تھے۔ ان میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو گاؤوں میں رات گزارنے وغیرہ کے لیے بھی کہا گیا تھا۔ ساتھ ہی پارٹی کے ’ایکسپینڈر‘ سے ان پروگراموں میں ممبران پارلیمنٹ کی شراکت داری کی رپورٹ تیار کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ 2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ان ایکسپینڈر نے بی جے پی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی بنیاد پر 2019 لوک سبھا میں کام کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کو دی گئی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول