سیاسی

کیا آلوک ورما کو رافیل معاملہ میں ایف آئی آر درج کرنے سے روکنے کے لیے راستہ سے ہٹایا گیا!

ابھشیک منو سنگھوی، پرشانت بھوشن اور مجید میمن نے رافیل میں پھنسی مودی حکومت پر بدلہ کے جذبہ سے کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا سوال ہے کہ سی بی آئی ڈائریکٹر کو اتنی جلدبازی میں کیوں ہٹایا گیا؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اوما کانت لکھیڑا

سی بی آئی چیف آلوک ورما کو دو دن قبل سپریم کورٹ کے ذریعہ دی گئی راحت محض 48 گھنٹے تک ہی رہ پائی۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس ختم ہونے کے اگلے دن ہی اعلیٰ اختیار یافتہ سہ رکنی سلیکٹ کمیٹی، جس کے سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں، نے اکثریت کی بنیاد پر آلوک ورما کو سی بی آئی سے ہٹا دیا۔ پینل میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے نمائندہ جسٹس اے کے سیکری اور لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے رکن تھے۔ کھڑگے نے وزیر اعظم رہائش پر جمعرات تقریباً ڈھائی گھنٹے تک چلی میٹنگ کے بعد ورما کو ہٹانے کے قدم پر اپنا اعتراض نامہ دے کر احتجاج ظاہر کیا۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کا اس معاملہ میں کہنا ہے کہ اعلیٰ اختیار یافتہ کمیٹی نے ورما کی بات کو سنے بغیر ہی انھیں عہدہ سے ہٹا کر فطری انصاف کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ دونوں ہی بار انھیں کرسی سے ہٹانے کے معامے میں مودی حکومت کا اصلی خوف یہ تھا کہ کہیں آلوک ورما رافیل گھوٹالہ کی جانچ کو آگے نہ بڑھا دیں۔

ورما کو سی بی آئی چیف جیسے ہائی پروفائل کرسی سے ہٹا کر فائر بریگیڈ محکمہ کا ڈی جی بنا کر بھیج دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے منگل کو آلوک ورما کو گزشتہ 23 اکتوبر 2018 کی نصف شب کو ہٹانے کے قدم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انھیں اپنے عہدہ پر بحال کر دیا تھا۔ ورما کے ذریعہ بدھ اور جمعرات کو سی بی آئی ہیڈ کوارٹر میں 11 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر ٹرانسفر کرنے کی کارروائی کے بعد مودی حخومت کی نیند اڑ چکی تھی۔ سی وی سی کی جس رپورٹ پر سلیکٹ کمیٹی نے مبینہ اکثریت کی رائے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا اس میں سی وی سی کے ان دلائل کو بنیاد بنایا گیا کہ ورما پر عہدہ کے غلط استعمال اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

سب سے دلچسپ معاملہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کی صدارت والی سلیکٹ کمیٹی نے سی وی سی کے ان دس الزامات کو ہی ورما کو ہٹانے کی بنیاد بنایا ہے جو شکایتیں ان کے خلاف سی وی سی میں ایجنسی میں ان کے حریف اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ نے کچھ ماہ قبل ان کے خلاف لگائے تھے۔ ان میں آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو کے خلاف ریلوے ٹنڈر گھوٹالہ میں کارروائی کرنے میں ڈھیل برتنے سمیت ایک معاملہ میں دو کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام لگایا۔ استھانہ کے ان الزامات کو ہی سی وی سی نے ورما کے خلاف استعمال کیا۔ سی وی سی نے ان پر سرکردہ جانچ ایجنسی میں گروہ بندی کرانے کے الزام لگائے۔ سی وی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ورما کے رویہ پر اس طرح کے سنگین الزامات ہونے کے بعد انھیں سی بی آئی سربراہ جیسے اہم اور حساس عہدہ پر ایک دن بھی نہیں بنائے رکھا جا سکتا۔

کانگریس کے سینئر ترجمان اور سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے ورما کو ہٹانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سی وی سی کے ان الزامات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ورما کو جس طریقے سے ہٹایا گیا اس سے صاف لگتا ہے کہ انھیں وزیر اعظم نے بدلے کے جذبہ سے ہٹایا ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ ورما کے بارے میں الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ ورما کو جس طریقے سے ہٹایا گیا اس سے صاف لگتا ہے کہ انھیں وزیر اعظم نے بدلے کے جذبہ سے ہٹایا ہے۔جو بھی کارروائی ہوئی ہے وہ پوری طرح تعصب سے بھرا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بات کا خوف ہو سکتا ہے کہ آلوک ورما رافیل معاہدہ کے الزامات کے تعلق سے جانچ کا حکم دے سکتے ہیں۔ کانگریس کے دوسرے سینئر ترجمان اور سابق مرکزی وزیر آنند شرما نے بھی الزام عائد کیا کہ حکومت رافیل معاہدہ کی جانچ کے اندیشہ سے اتنی خوف زدہ تھی کہ وہ آلوک ورما کو کسی بھی طرح راستے سے ہٹانا چاہتی تھی۔

سینئر وکیل اور این سی پی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ مجید میمن نے کہا کہ محض الزامات کی بنیاد پر سی بی آئی سربراہ جیسے اعلیٰ عہدہ پر بیٹھے شخص کو ہٹانے کا قدم پوری طرح سیاست سے متاثر ہے۔ سی وی سی رپورٹ کو درست ٹھہراتے ہوئے سی بی آئی کے سابق اسپیشل ڈائریکٹر ایل ایل شرما نے کہا کہ ورما کو اپنی بات رکھنے کے لیے مناسب موقع دیا گیا لیکن انھوں نے سی وی سی کو کوئی جواب نہیں دیا۔ شرما کا یہ بھی کہنا ہے کہ آلوک ورما نے سپریم کورٹ کی کلین چٹ کے بعد جب بدھ کو اپنی ذمہ داری سنبھالی تو انھوں نے عہدہ سنبھالتے ہی 11 افسران کا جلدبازی میں ٹرانسفر کر دیا۔ بقول شرما انھیں کچھ دن انتظار کرنا چاہیے تھا۔