عین الیکشن کے موقع پر مہاراشٹر میں اِنتقام و خوف کی سیاست

مہاراشٹر کے حزبِ مخالف لیڈران اس وقت انتقامی سیاست کے زد پر ہیں۔ الیکشن کے موقع پر ای ڈی کی جانب سے درج مقدمات کی بنیاد پر جس طرح شردپوارکو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس نے ریاستی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

اعظم شہاب

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا ہوا کہ انتقامی سیاست کا طوفان اٹھ گیا ہے۔ حکمراں بی جے پی نے تو پہلے کانگریس واین سی پی کے مراٹھا لیڈروں کو توڑ کر اپنی پارٹی میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع کیا، پھر بھی جب گھبراہٹ کم نہیں ہوئی اور کچھ لیڈروں پر اس کا داؤ نہیں چل سکا تو ای ڈی کو کام پر لگا دیا گیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ شیکھر کوآپریٹیو بینک میں مبینہ 25 ہزار کروڑ روپئے کی بدعنوانی میں ای ڈی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں نام شامل ہونے کی بناء پر این سی پی کے اہم لیڈران ٹارگیٹ پر ہیں۔ گوکہ حکومت اس معاملے میں پانی پی پی کر ای ڈی کے آزاد ہونے اور ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے احکام کی پابندی کی دہائی دے رہی ہے، لیکن یہ سب ہی جانتے ہیں کہ اس آزادی و پابندی کا کیا مطلب ہے۔ گویا ریاستی اسمبلی انتخابات پر انتقامی سیاست کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور اپوزیشن حکومت پر ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کا الزام عائد کر رہی ہے توحکومت اس کے ہنگامے میں اپنی کوتاہیوں اور ناکامیوں کو چھپا رہی ہے۔

عین الیکشن کے موقع پر مہاراشٹر میں اِنتقام و خوف کی سیاست

بی جے پی کی حکمرانی والی اس ریاست میں انتقامی سیاست کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے مخالفین کو خاموش کردیتی ہے بلکہ جن لیڈران کو وہ اپنے لئے کارآمد سمجھتی ہے، انہیں اپنے پالے میں بھی کرلیتی ہے۔ پانچ سال قبل جب بی جے پی حکومت قائم ہوئی تھی اور مراٹھا ممبران کی اکثریت والی اسمبلی میں وزارتِ اعلیٰ کے تین دعویدار تھے۔ ایک خود وزیراعلیٰ دیوندرفڑنویس تھے، جنہیں آر ایس ایس کی حمایت حاصل تھی جبکہ دو لیڈران ایکناتھ کھڑسے اور آنجہانی گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی پنکجہ منڈے تھیں۔ لیکن چونکہ ناگپور دیوندر فڑنویس کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتا تھا، اس لئے ان دونوں میں ایک کو نہ صرف خاموش کردیا گیا بلکہ انہیں دی گئی وزارت سے بھی انہیں محروم کردیا گیا۔

عین الیکشن کے موقع پر مہاراشٹر میں اِنتقام و خوف کی سیاست

ایکناتھ کھڑے پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے بات چیت کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔آج وہ اس الزام سے بری ہونے کے باوجود ریاست کے ایک دور افتادہ مقام جلگاؤں میں بیٹھے ہوئے اپنے زخم سہلا رہے ہیں۔ وزارت اعلیٰ کی دعویداری کرنے کا خمیازہ پنکجہ منڈے کو بھی بھگتنا پڑا، انہیں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں الجھایا گیا ، جس کے بعد عدالت سے انہیں بھی کلین چیٹ مل گی۔ اس کے بعد پھران کی کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ وزیراعلیٰ کے خلاف جاسکیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پنکجہ منڈے وزیراعلیٰ کی سب سے بڑی حمایتی ہیں۔

پارلیمانی الیکشن کے ایام میں راج ٹھاکرے نے بی جے پی کی کھل کر مخالفت کی۔ ریاست بھر میں ایک درجن سے زائد اجلاس میں انہوں نے مودی و امت شاہ کے خلاف جم کر بیان بازی کی۔ ان کے اجلاس میں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر بی جے پی کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکنی لازمی تھی۔ انہوں نے اپنے جلسوں میں مودی وامت شاہ کے جھوٹ اور مرکزی وریاستی حکومتوں کی ناکامیوں کو ویڈیوز کے ذریعے پیش کیا، جس نے عوام کو بہت متاثر کیا۔ اس دوران ان کا یہ جملہ ’لاورے تو ویڈیو‘ (لگا رے وہ ویڈیو) سوشل و ریاستی میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا تھا۔ لیکن معلوم نہیں کیوں ان کے اجلاس میں جمع ہونے والی بھیڑ کا ووٹ بی جے پی کے ہی کھاتے میں چلا گیا۔ لوگ باگ تو اسے ای وی ایم کی بی جے پی نوازی قرار دیتے ہیں۔

خیر! راج ٹھاکرے کی اس بی جے پی مخالفت کا انجام یہ ہوا کہ عین اسمبلی الیکشن کے موقع پر ای ڈی نے انہیں طلب کرلیا۔ تقریباً 6 گھنٹے کی تفتیش کے بعد معلوم نہیں کیا ہوا کہ وہ اس طرح خاموش ہوئے کہ میڈیا کو یہ سرخی لگانی پڑی کہ ’راج ٹھاکرے کہاں غائب ہوگئے؟‘ اس بارے میں میری کچھ خبری رپورٹروں سے جو بات ہوئی، اس نے حکومت کی صریح انتقامی سیاست کو اجاگر کردیا۔ ان رپورٹروں کا آف دی ریکارڈ یہ کہنا ہے کہ بی جے پی قیادت نے اس شرط پر راج ٹھاکرے کو چھوڑا ہے کہ وہ ریاست میں کانگریس واین سی پی کے ساتھ کوئی انتخابی مفاہمت نہ کرتے ہوئے علیحدہ الیکشن لڑیں گے۔ وگرنہ ای ڈی کے ذریعے یہ کہہ کر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس سے 80 لاکھ روپئے برآمد ہوئے ہیں۔

عین الیکشن کے موقع پر مہاراشٹر میں اِنتقام و خوف کی سیاست

این سی پی سے ریاستی حکومت کو بہت خطرہ ہے۔ بی جے پی کو ڈر ہے کہ اس بار مراٹھا اور او بی سی کانگریس و این سی پی کی جانب جاسکتے ہیں۔ جس کے لئے پہلے مرحلے کے طور پر این سی پی کو ہی ریاست سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کے لئے این سی پی کے کئی قدآور لیڈران کو بی جے پی میں شامل کرنے کی مہم شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ ستارا ضلع کے ممبرپارلیمنٹ اور این سی پی کے قدآور لیڈر اودے نراجے بھونسلے کو این سی پی سے توڑ کر بی جے پی میں شامل کرلیا گیا۔ لیکن ستارا سے ہی بی جے پی کے ایک دیگر قدآور لیڈر دیپک پوار این سی پی میں شامل ہوگئے۔ لیکن پارٹی سربراہ شردپوار نے عین اس وقت جب ان کی پارٹی کے لوگ جوق درجوق بی جے پی میں شامل ہو رہے تھے، یہ کہہ کر سنسنی پھیلا دی تھی کہ ریاستی حکومت ای ڈی اور سی بی آئی کا خوف دلا کر ہمارے لوگوں کو توڑ رہی ہے، لیکن ہمیں اس صورت حال سے نکلنے کا طریقہ معلوم ہے۔ شردپوار کے اس بیان کے بعد پوری ریاستی بی جے پی کئی دنوں تک یہ ثابت کرنے میں مصروف رہی کہ پارٹی کسی پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہی ہے۔

لیکن جب یہ دباو این سی پی کے سربراہ شردپوار اور ان کے بھتیجے وپارٹی کے فائر برانڈ لیڈر اجیت پوار کے خلاف آزمایا گیا تو بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ پہلے میڈیا میں یہ خبر آئی کہ شیکھر کوآپریٹیو بینک بدعنوانی کے معاملے میں اجیت پوار ودیگر کے خلاف جو ایف آئی آر درج ہوئی ہے، اس میں شردپوار کا بھی نام ہے۔ اس کے بعد شردپوار نے ایک پریس کانفرنس کر کے یہ اعلان کردیا کہ وہ کسی بینک کے کبھی ڈائریکٹر نہیں رہے اور یہ کہ وہ خود ای ڈی کے دفتر جائیں گے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد حکومت بیک فٹ پرآگئی ہے، جس کے بعد شہر کے پولس کمشنر اور ای ڈی کی جانب سے شردپوار سے درخواست کی گئی کہ وہ ای ڈی کے دفتر نہ جائیں۔ اس کے دوسرے دن اجیت پوار نے اپنے ممبراسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ دے کر ریاست کے مراٹھا عوام کی ہمدردی اپنے نام کرلی، چونکہ میری وجہ سے شردپوار کی بدنامی ہو رہی تھی، اس لئے وہ استعفیٰ دے رہے ہیں۔ اجیت پوار نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کے آنسو بھی نکل آئے جس نے این سی پی کے کارکنان میں نئے سرے سے جوش وخروش اور حکومت کے خلاف غصے میں اضافہ کردیا ہے۔ شردپوار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے ایک جلسے میں یہ کہہ دیا تھا کہ جس طرح امت شاہ جیل گئے، اس طرح وہ کبھی جیل نہیں گئے۔ اس کے بعد ہی ان کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کا معاملہ سامنے آیا۔

عین الیکشن کے موقع پر مہاراشٹر میں اِنتقام و خوف کی سیاست

یہ توخیر انتقامی سیاست کی کچھ مثالیں ہیں۔ لیکن اس معاملے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ریاست میں بی جے پی حکومت قائم ہونے کے بعد جن جن لوگوں پر انتقامی سیاست کی بجلی گری، وہ سبھی کسی نہ کسی مرحلے میں بے قصور ثابت ہوئے ہیں۔ اس کی انتقامی سیاست کے ایک بڑے ریاست کے سابق نائب وزیراعلیٰ چھگن بھجبل بھی ہیں جنہیں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں جیل تک میں رہنا پڑا، لیکن برسوں ضمانت نہ ملنے کے بعد اب وہ ضمانت پر ہیں، اور بے قصور ثابت ہونے کے مرحلے میں ہیں۔ گویا جن جن لوگوں کے خلاف ای ڈی، سی بی آئی، یا اے سی بی میں مقدمات درج ہوئے ہیں وہ کسی نہ کسی مرحلے میں بے قصور ثابت ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بے قصوری کے اس مرحلے میں ان کی سیاسی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ مہاراشٹر میں ای ڈی کے نام پر جوکچھ ہو رہا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمراں جماعت اپنی ناکامیوں سے حد درجہ خوف زدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو بدعنوانی ومنی لانڈرنگ کے خوف سے ڈرا رہی ہے تاکہ اس کی کوئی مخالفت نہ کرے۔

Published: 29 Sep 2019, 8:10 PM