تالی، تھالی، گھنٹی اور ٹارچ والی سرکار اور کورونا...سہیل انجم

پردھان منتری مودی جی کے ایک ایک اشارے کو اندھ بھکت نئے نئے مفہوم پہناتے ہیں اور مودی جی کے دل و دماغ میں بھی جو بات نہیں ہوتی اندھ بھکت وہ باتیں بھی نکال کر لے آتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سہیل انجم

دنیا کو کورونا سے لڑنے کے لیے کوئی ہتھیار ملا ہو یا نہ ملا ہو ہندوستان کی حکومت کو ضرور مل گیا ہے۔ یہاں کے وزیر اعظم اختراعی ذہن کے یعنی Innovative ذہن کے مالک ہیں۔ کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو وہ فوراً اس کا حل تلاش کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد جتنے اندھ بھکت ہیں وہ پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹنے لگتے ہیں کہ دیکھا مودی جی نے کیسے چٹکی بجاتے ہی فلاں مسئلے کو حل کر دیا۔ اب کورونا وائرس کو بھگانے کے لیے بھی مودی جی کو فارمولہ مل گیا ہے۔ پہلے تالی، تھالی اور گھنٹی بجوائی اور اب دیا، کینڈل اور ٹارچ جلوا رہے ہیں۔

ایک یو ٹیوب چینل کا نام ہے ’’فیکنگ نیوز‘‘۔ اس کے اصل کیرکٹر کا نام ہے بھگت رام۔ وہ مودی کی شان میں اضافہ کرنے کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر نئی نئی چیزیں لاتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اس نے بڑے پتے کی بات بتائی۔ اس نے کہا کہ پہلے ہم نے خوب تھالی اور تالی اور گھنٹی بجا کر کورونا کو بہرا کر دیا تھا اس کے کان میں سیٹیاں بجنے لگی تھیں۔ اب ہم دیا، کینڈل اور ٹارچ جلا کر اتنی روشنی پیدا کریں گے کہ اس کی آنکھیں چندھیا جائیں گی، وہ اندھا ہو جائے گا، اسے کہیں راستہ نہیں ملے گا اور وہ دُم دبا کر ہندوستان سے رفو چکر ہو جائے گا۔

کتنی سچی اور اچھی عکاسی کی گئی ہے اندھ بھکتوں کی۔ بالکل ایسے ہی سوچتے ہیں اندھ بھکت۔ مودی جی کے بارے میں ان کی جو خوش فہمیاں ہیں وہ کم ہونے کے بجائے اور بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ وہ پردھان منتری کے ایک ایک اشارے کو نئے نئے مفہوم پہناتے ہیں اور مودی جی کے دل و دماغ میں بھی جو بات نہیں ہوتی اندھ بھکت وہ باتیں نکال کر لے آتے ہیں۔

خیر ہندوستان کو کورونا کو بھگانے کا مُول منتر مل گیا ہے۔ اتنے ٹوٹکے کرو کہ اس کی سمجھ میں نہ آئے کہ کیا ہو رہا ہے اور اسے کیا کرنا ہے۔ مجبور ہو کر وہ ہندوستان کی سرزمین کو خیرباد کہہ دے گا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ گردش کر رہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ دوسرے ملکوں میں کورونا سے لڑنے کے لیے کیا کیا انتظامات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر بعض ملکوں میں سٹی بسوں کے ذریعے دواؤں کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

ان بسوں میں آگے کی جانب بالکل پیشانی پر دونوں طرف دائیں اور بائیں پائپ لگے ہوئے ہیں جن سے جب بس چلتی ہے تو کیمیکل کا چھڑکاؤ فوارے کی شکل میں ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح بعض دوسرے ملکوں میں عام گاڑیوں کے ذریعے بھی دواؤں کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔ ترکی میں جگہ جگہ کیمپ لگاے گئے ہیں جس کے اندر فوارے کی شکل میں مسلسل کیمیکل کا چھڑکاؤ ہوتا رہتا ہے۔ آنے جانے والے اس کیمپ میں داخل ہو کر چاروں طرف گھومتے ہیں اور وہ ان دواؤں سے شرابور ہو کر دوسری طرف نکل جاتے ہیں۔

بعض دیگر ملکوں میں دوسری ترکیبوں کو بھی اس کلپ میں دکھایا گیا ہے۔ لیکن ہندوستان کا جب نمبر آتا ہے تو لوگ تھالی پیٹتے ہوئے اور گو کرونا گو گو، کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ ہے ہندوستان اور یہاں کورونا سے لڑنے کے انتظامات۔ اگر ہم اب تک کے انتظامات پر نظر ڈالیں تو اس کا کوئی اندازہ نہیں ہوگا کہ حکومت اس عالمی وبا سے لڑنے میں سنجیدہ ہے۔

موجودہ حکومت کی ایک بہت خاص عادت ہے اور اس عادت میں اس کا ساتھ میڈیا دیتا ہے۔ اس کی عادت یہ ہے کہ ملک پر کوئی بھی بحران کیوں نہ آیا ہو اس کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹا دو۔ اس سے قبل ملک میں ایک ایسے وزیر اعظم گزرے ہیں جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کرتے تھے بلکہ اس کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ وہ مسئلہ سڑ سڑ کر خود ہی ختم ہو جاتا تھا۔

بالکل اسی طرح یہ حکومت مسائل حل نہیں کرتی بلکہ اس کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹا دیتی ہے اور اس طرح وہ مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جاتا ہے۔ کورونا کے بحران سے بھی توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلے تالی، تھالی اور گھنٹی بجوائی گئی اور پھر دیا، کینڈل اور ٹارچ جلوائے گئے۔ لیکن کیا کورونا کا بحران ایسا ہے کہ وہ ان ٹوٹکوں سے ختم ہونے والا ہے۔

اب حکومت کو ایک اور چانس مل گیا ہے اور وہ ہے تبلیغی جماعت۔ اب تو میڈیا نے حکومت کا کام بہت آسان کر دیا ہے۔ تبلیغی جماعت کو ملک میں کورونا پھیلانے کا سب سے بڑا ذمہ دار مان لیا گیا ہے۔ بلکہ اگر بعض چینلوں کی رپورٹنگ دیکھیں تو آپ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں بالکل دیر نہیں کریں گے کہ دنیا پر یہ جو عذاب آیا ہوا ہے اس کی جڑ میں تبلیغی جماعت ہی ہے۔

تبلیغی جماعت کی آڑ میں پورے ملک کے مسلمانوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انھیں طالبانی اور دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں جگہ جگہ چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تبلیغی جماعت کے لوگوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت ہندوستان میں تبلیغیوں سے بڑا کوئی ملک دشمن نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ان پر این ایس اے تک لگایا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تبلیغی جماعت اور اس کے امیر مولانا سعد نے بہت بڑی کوتاہی کی۔ جب پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیل گیا تھا اور ہندوستان میں بھی داخل ہو کر لوگوں کی جانیں لے رہا تھا تو ایسے میں ان کو اتنا بڑا اجتماع کرنے کی کیا ضرورت تھی جس میں بیسیوں ہزار لوگوں کی شرکت ہو۔ جب دہلی حکومت اور مرکزی حکومت نے لاک ڈاون کا اعلان کر دیا تھا اور زیادہ لوگوں کے یکجا ہونے پر پابندی لگا دی تھی تو انھوں نے اجتماع کو منسوخ یا ملتوی کیوں نہیں کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ مولانا سعد تقریریں کرتے رہے کہ مرنے کے لیے مسجد سے اچھی کوئی جگہ نہیں۔ آپ سب لوگ یہیں رہیں موت آنی ہوگی تو یہیں آجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے رہے کہ ہمارا کچھ نہیں ہوگا اللہ تعالی ہمارا محافظ ہے۔

اللہ تعالی تو سب کا محافظ ہے۔ جو اسے مانتے ہیں ان کا بھی جو نہیں مانتے ہیں ان کا بھی۔ مسلمانوں کا بھی اور کافروں کا بھی۔ اللہ پر صرف تبلیغی جماعت والوں کی اجارہ داری نہیں ہے۔ لیکن اللہ کے رسول نے بھی تو کچھ ہدایات دی ہیں۔ ان پر کیوں نہیں عمل کیا جاتا۔ کیا اللہ کے رسول نے وبائی امراض کے پھیلنے کی صورت میں احتیاطی تدابیر نہیں بتلائی ہیں۔ پھر ان تدابیر کو کیوں نظرانداز کیا جاتا ہے۔

بہر حال تبلیغی جماعت کی کوتاہیوں کی وجہ سے حکومت کو اور پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنے اور میڈیا کو اس کے بہانے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور حکومت کو کورونا جیسی مہلک بیماری سے نمٹ پانے میں اپنی ناکامی چھپانے کا ایک موقع مل گیا۔ اگر پولیس بروقت تبلیغی جماعت کے لوگوں کو مرکز جماعت سے نہ نکالنے کی مجرم ہے تو تبلیغی جماعت بھی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو وہاں رکھنے کی مجرم ہے۔

لیکن سب سے بڑی مجرم حکومت ہے جو کورونا سے لڑنے پر اپنی توجہ مبذول کرنے کے بجائے ٹونے ٹوٹکے میں یقین کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کس طرح اسپتالوں کا عملہ ضروری آلات سے محروم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسپتالوں کو ضروری چیزیں مہیا کرے تاکہ کورونا کا مقابلہ مؤثر انداز میں کیا جا سکے۔ اگر حکومت نے منظم انداز میں انتظامات کر دیئے تو پھر ان ٹوٹکوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ ویسے بھی ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔