مودی کی زمین کھسک رہی ہے، عام انتخابات میں پریشانی ہو سکتی ہے

مودی حکومت کی مقبولیت میں بہت تیزی سے کمی آرہی ہے، آج مودی حکومت سے ناراضگی اتنی ہی ہے جتنی جولائی 2013 میں یو پی اے حکومت سے تھی۔

راگھو بہل

اب تک جس کا تصور بھی نہیں کیا جا رہا تھا اب اس کے بارے میں سوچا جانے لگا ہے۔اب یہ قیاس لگائےجا رہے ہین کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں مودی کی زمین پھسلتی نظر آ رہی ہے۔ لوک نیتی ۔سی ایس ڈی ایس ۔اے بی پی کے پندرہ روز قبل ہوئے سروے میں مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کی ہار دھندلی سی تصویر دکھائی دے رہی ہے۔

مودی حکومت اس وقت تقریباً اتنی ہی مقبول ہے جتنی سال 2013 میں یو پی اے حکومت کی تھی اور اس کے 9 ماہ بعد سال 2014 میں اس کی زبردست چناوی شکست ہوئی تھی ۔ سروے میں شامل کئے گئے 15,859 لوگوں میں سے قریب نصف (47%) کا ماننا ہے کہ مودی حکومت اس لائق نہیں ہے کہ اسے ایک مرتبہ پھر حکومت بنانے کا موقع دیا جائے۔

مسلم، عیسائی اور سکھ جیسی اقلیتیں بڑے پیمانے پر حکومت سے ناراض ہیں۔ ہندو اکثریت بھی نصف تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے ۔ گزشتہ12 ماہ کے دوران بی جے پی کی مقبولیت میں 7 فیصدکی بھاری کمی آئی ہے اور گراوٹ کا یہی رجحان جاری رہا تو اگلے کچھ ماہ میں یہ گراوٹ 30فیصد سے بھی نیچے چلی جائے گی۔

ملک بھر میں چار میں سے ایک یعنی 25 فیصد ووٹ کانگریس کی جھولی میں جا سکتے ہیں ، اس طرح یو پی اے کے پرانے اتحاد کو ملک بھر میں 31 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں ۔

واضح رہے کہ اس میں مایاوتی کی بہو جن سماج پارٹی ، اکھلیش کی سماجوادی پارٹی اور ایچ ڈی دیو گوڑا کی جے ڈی ایس جیسی کانگریس کی نئی اتحادی پارٹیاں شامل نہیں ہیں ۔ انہیں جوڑ دیں تو یو پی اے کے ووٹ 11 فیصد اور بڑھ جائیں گے۔

تو کیا اصلی تصویر ایسی ہو سکتی ہے۔ اس کو دیکھتے ہیں۔

سروے کے رجحانات پر اصلی اعداد و شمار کی مہر لگتی نظر آ رہی ہے۔

اب تک کے یہ اعداد و شمار مجھے ہلا چکے تھے۔ میں بار بار خود سے پوچھ رہا تھا ، کیا ایسا کوئی طریقہ ہو سکتا ہے جس سے ان رجحانات کی تصدیق ہو سکتی ہو ۔ تبھی میرے دماغ میں ایک بات آئی کہ اس سال ملک کے کئی حصوں میں ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ۔ اگر میں ان انتخابات میں ہوئی ووٹنگ کے اعداد و شمار کا موازنہ سی ایس ڈی ایس کے سروے کے اعداد و شمار سے کروں تو کیا تصویر سامنے آئے گی۔

قسمت سے دونوں اعداد و شمار کا وقت بھی ایک ہی تھا یعنی جس وقت یہ ضمنی انتخابات ہوئے تقریبا ًاسی وقت سی ایس ڈی ایس کا یہ سروے بھی ہوا۔ اس سال سی ایس ڈی ایس کے سروے میں شامل قریب 16 ہزار لوگوں کو جہاں سائنٹیفکلی رینڈم طریقہ سے سروے کیا گیا تھا وہیں ضمنی انتخابات کے اعداد و شمار اپنے آپ ہی حالات کی وجہ سے رینڈم ہو جاتے ہیں کیونکہ منتخب نمائندوں کے انتقال یا استعفے کی وجہ سے کوئی طے شدہ رجحان نہیں ہوتا ۔

ہمارے اس حقیقی سیمپل کا خاکہ کچھ اس طرح ہے:دسمبر 2017 کے گجرات اسمبلی انتخابات کے بعد 10لوک سبھا سیٹوں اور 21 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہوئے۔ یہ انتخابات 15 ریاستوں میں ہوئے جن میں سوا کروڑ سے زیادہ لوگوں نے 19 سیاسی پارٹیوں کو ووٹ ڈالے۔

ظاہر ہے دونوں اعداد و شمار کا موازنہ کرنا غلط نہیں ہو گا ( پوری طرح ایک جیسے نہ ہونے کے با وجود)بلکہ مجھے لگتا ہے ایسا کرنا کافی دلچسپ ہوگا، کیونکہ اس کے نتائج بیحد چونکانے والے ہیں۔ کچھ دیر کے لئے اس گراف کو ذرا غور سے دیکھئے اور آگے بڑھنے سے قبل ایک مرتبہ اسے دوبارہ پڑھیے۔

سیمپل کی کہانی سے زیادہ چونکانے والے ہیں اصلی اعداد و شمار کا سچ۔

ضمنی انتخابت میں ہوئی ووٹنگ کے اصلی اعدد و شمار اور سی ایس ڈی ایس سروے کے اعداد و شمار اتنے زیادہ میل کھاتے ہیں کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔ صحیح کہا جاتاہے کہ حقیقت کئی مرتبہ تصور سے زیادہ چونکانے والی ہوتی ہے۔

بی جے پی اور اس کی اتحادی پارٹیوں کو سروے میں 37 فیصد اور گجرات اسمبلی انتخابات کے بعد ہوئے ضمنی انتخابات میں 36 فیصدی ووٹ ملے۔

کانگریس اور اتحادی پارٹیوں کو سروے میں 31 فیصد اور حقیقت میں 32 فیصد ووٹ ملے۔

بی ایس پی اور اتحادی پارٹیوں کو سی ایس ڈی ایس کے سروے میں 10 فیصد اور ضمنی انتخابات میں 13.3فیصد ووٹ ملے۔

میں بتانا چاہوں گا کہ اعداد و شمار کی صد فیصد تصدیق سے میرا یقین اور مضبوط ہوا اور میں نےان رجحانات کو ایک مرتبہ پھر پڑھا جنہیں میں پہلے تصور کی اڑان مان کر خارج کر رہا تھا کیونکہ اس وقت تک یہ رجحانات میڈیا کے بنائے موجودہ ماحول کے بالکل خلاف نظر آ رہے تھے۔ حالانکہ یہ رجحانات اب بھی غلط یا بڑھا چڑھا کر بتائے گئے ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ضمنی انتخابات میں ہوئی ووٹنگ کے اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد ان کے حقیقت کے قریب ہونے کے امکانات بیشک بڑھ گئے ہیں۔

ووٹروں کی حمایت کے معاملے میں مودی اب راہل سے تھوڑا ہی آگے رہ گئے ہیں ۔ ان کی 17 فیصد بڑھت اب کم ہو کر صرف 10 فیصد رہ گئی ہے۔

مودی اور راہل، دونوں کو پسند کرنے والوں کی تعداد اب 43 فیصد یعنی برابر ہو گئی ہے ۔ کیونکہ راہل کو نا پسند کرنے والوں کی تعداد کم ہے اس لئے ان کی نیٹ پسند کئے جانے کے امکانات دراصل مودی سے بہتر ہے۔

راہل اپنے قریب 30 فیصد مخالفین کو حامیوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کے ٹھیک الٹ، مودی نے اپنے 35 فیصد پرانے حامیوں کو مخالفین میں تبدیل کر لیا ہے۔

راہل کو سبب سے زیادہ بڑھت ادھیڑ اور بزرگ ووٹروں کے بیچ ملی ہے (یہ وہ لوگ ہیں جن کے باہر نکل کر ووٹ ڈالنے کے امکانات زیادہ رہتے ہیں)۔ مودی کے حامیوں میں سب سے زیادہ گراوٹ مڈل کلاس اور غریب طبقوں کے بیچ آئی ہے۔

چھوٹے شہروں اور قصبوں کے اعداد و شماربھی اسی ٹرینڈ کی تصدیق کر رہے ہیں۔ ان علاقوں میں کانگریس تیزی سے اپنی کھوئی ہوئی زمین دوبارا حاصل کر رہی ہے ۔ بڑے شہروں میں بھی اس کی حمایت میں سدھار کے ابتدائی رجحانات دکھائی دے رہے ہیں۔

چونکانے والی بات یہ ہے کہ 60 فیصد سے زیادہ لوگ مانتے ہیں کہ مودی بدعنوان ہیں۔ 50 فیصد سے زیادہ لوگوں نے نیرو مودی کے گھوٹالے کے بارے میں سن رکھاہے اور ان میں دو تہائی لوگ اس سلسلہ میں کی گئی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔

شمالی ہندوستان کو چھوڑ دیں تو مودی کی حمایت ہر طرف کم ہو رہی ہے اور یہ گراوٹ سب سے زیادہ جنوب، مشرق اور سینٹرل ہندوستان میں آئی ہے۔ جی ایس ٹی کی وجہ سے حکومت کے خلاف ناراضگی جنوری سے اب تک 24 فیصد سے بڑھ کر 40فیصد ہو گئی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب ایک بھی مدا ایسا نہیں بچاہے جس سے عوام مودی حکومت سے خوش ہو۔

کوئی بھی عام انتخابات جیت سکتا ہے۔

حالانکہ مودی انتخابی میدان میں اترنے کے بعد اپنے الفاظ کی جادو گری سے مہم کو نیا رخ دینے اور ووٹروں میں پھر سے نئی امید پید اکرنے کی کوشش کریں گے او بہت ممکن ہے کہ وہ کافی حد تک ماحول بدلنے میں کامیاب بھی ہو جائیں پھر بھی کچھ چیزیں بہت صاف ہیں۔ جیسے صرف مودی بھکت ہی راہل کو آسانی سے خارج کر سکتے ہیں۔ باقی دیگر ووٹروں کے لئے راہل دھیرے دھیرے لیکن یقینی طور پر ایک ایسے متبادل کی شکل میں ابھر کرسامنے آ رہے ہیں جس پر وہ بھروسہ کر سکتے ہیں ۔

مودی کو خود میں زبردست تبدیلی لانی ہوگی اور یہ تبدیلیاں کیا ہو سکتی ہیں ان کا سامنے آ نا ابھی باقی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول