مودی جی رام مندر پر آرڈیننس نہ لانا آپ کی مجبوری ہے آئین پسندی نہیں۔

رام مندر کو لے کر بار بار آستھا (عقیدہ) کا ذکر کیا جاتا ہے جبکہ سپریم کورٹ صاف کر چکا ہے کہ اس کے سامنے یہ مقدمہ کسی عقیدے کا نہیں بلکہ صرف اور صرف زمینی تنازعہ کا ہے

عبیداللہ ناصر

گزشتہ دنوں وزیر اعظم نریندرا مودی نے انٹرویو میں کہا کہ حکومت فی الحال رام مندر کے سلسلہ میں آرڈیننس نہیں لائے گی ، عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد دیکھا جائےگا ، اسی کے ساتھ انہوں نے سیاسی داؤ بھی چل دیا کہ کانگریس اپنے وکیلوں کے ذریعہ اس مقدمہ کو طول نہ دے۔مودی جی جانتے ہیں کہ کانگریس سے وابستہ جو وکلاء یہ مقدمہ لڑ رہے ہیں وہ سب اپنے موکل کی مرضی اور اس کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں جس کا ان کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ، لیکن ہمہ وقت سیاسی بازی پھینکنے میں مصروف سیاستداں ان اصولی باتوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔

رام مندر تعمیر کے سلسلہ میں آرڈیننس نہ لانے کی بات مودی جی نے کوئی آئینی اصولوں اور آدرشوں کی پابندی کے لئے نہیں کہی ہے بلکہ ان کی مجبوری بھی ہے ، سب سے پہلی بات ہمارا آئین اس کی اجازت نہیں دیتا کہ حکومت کسی خاص فرقہ کی حمایت کرتی دکھائی دے، دوسرے عدالت میں زیر سماعت معاملات پر آرڈیننس لانے کا نہ کوئی آئینی جواز ہے اور نہ ہی قانون، اول تو صدر جمہوریہ جو آئین کے پاسبان ہیں وہ ایسے کسی آرڈیننس پر دستخط کرنے سے انکار کر دیں گے اور اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ صدر جمہوریہ کابینہ سے دوسری بار بھیجی گئی کسی قرار داد پر دستخط کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں تو بھی وہ اسے غیرمعینہ مدت تک کے لئے زیر غور رکھ سکتے ہیں یا آئینی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد اسے سپریم کورٹ کے حوالے بھی کر سکتے ہیں، اگر وہ دستخط کر بھی دیتے ہیں تو سپریم کورٹ اسے پہلی ہی پیشی میں خارج کر دے گا ، کیونکہ یہ آئین کی صریحا ًخلاف ورزی ہوگی، دوسری جو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ بی جے پی کی کوئی بھی حلیف پارٹی اس معاملہ میں اس کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی، یہاں تک کہ اس کی سب سے قابل اعتماد حلیف پارٹی اکالی دل بھی اس معاملہ میں اس کے ساتھ نہیں کھڑی ہوگی، گزشتہ دنوں ایک ٹی وی مباحثہ میں اکالی دل کے راجیہ سبھا رکن گجرال نے جس طرح اقلیتوں ، خاص کر مسلمانوں کی موجودہ حکومت کے ہاتھوں پریشانیوں کا ذکر کیا تھا اور مودی و یوگی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا تھا اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی مسلم دشمنی اب اس کے حلیفوں کو بھی برداشت نہیں ہو رہی ہے۔

رام مندر کو لے کر بار بار آستھا (عقیدہ) کا ذکر کیا جاتا ہے جبکہ سپریم کورٹ صاف کر چکا ہے کہ اس کے سامنے یہ مقدمہ کسی عقیدے کا نہیں بلکہ صرف اور صرف زمینی تنازعہ کا ہے ، ظاہر ہے وہ اسی کے حساب سے فیصلہ بھی کریگا۔ ایک اور راستہ جو سنگھ پریوار حکومت کو دکھا رہا ہے وہ ہے پارلیمنٹ سے قانون بنانے کا ، وہاں بھی یہی سب مسائل کھڑے ہوں گے جو آرڈیننس لانے کے سلسلہ میں اوپر درج کے گئے ہیں اس لئے حکومت کسی کی بھی ہو اس کے سامنے عدالتی فیصلہ ماننے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

دوسری جانب مسلمانوں کو بھی ایک بات سمجھنی ہوگی کہ بابری مسجد کے حق میں فیصلہ ہو جانے کے باوجود وہاں مسجد کی تعمیر مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے، کوئی بھی حکومت وہاں چاہ کر بھی مسجد نہیں بنوا سکےگی کیونکہ رام مندر کے سلسلہ میں صرف آر ایس ایس نواز ہندو ہی نہیں بلکہ آر ایس ایس کی نفرت سے پُر سیاست کے سخت مخالف اور مسلمانوں کے بہی خواہ ہندوؤں کی بھی یہی عام سوچ ہے کہ مسلمانوں کو وسیع القلبی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زمین کے اس ٹکڑے سے دستبردار ہو جانا چاہیے بھلے ہی یہ وسیع القلبی و دور اندیشی مسجد کے حق میں فیصلہ ہو جانے کے بعد دیکھائیں۔