نتیش نے مودی حکومت کو دکھایا انگوٹھا، ’پردھان منتری فصل بیمہ‘ نافذ کرنے سے انکار

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مودی حکومت کو ایک بار پھر جھٹکا دیا ہے اور مرکزی حکومت کے ’پردھان منتری فصل بیمہ‘ منصوبہ کو نافذ کرنے سے انکار کرتے ہوئے خود اپنا ریاستی بیمہ شروع کر دیا ہے۔

نتیش کمار نے مرکز کی مودی حکومت کو ایک بار پھر جھٹکا دیا ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت کی ’پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا‘ کو بہار میں نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ بیمہ کمپنیوں کے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے جب کہ کسانوں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ بہار حکومت نے اپنا خود کا ایک بیمہ منصوبہ شروع کر دیا ہے جسے ’بہار راجیہ فصل سہایتا یوجنا‘ نام دیا گیا ہے۔

اس منصوبہ کو مودی حکومت پر نتیش کمار کا ایک اور حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بہار حکومت کے اس نئے منصوبہ میں سبھی کسان شامل ہوں گے۔ وہ کسان بھی جن کی اپنی زمین ہے اور وہ بھی جو دوسروں کی زمین لے کر زراعت کرتے ہیں۔ دستیاب جانکاری کے مطابق بہار میں 90 فیصد کسان ایسے ہیں جن کے پاس دو ہیکٹیر یا اس سے کم زمین ہے۔ نئے منصوبہ کے تحت کسانوں کو مالی سہولت دی جائے گی اور کسی بھی قدرتی آفت کی حالت میں ان کی آمدنی کو رکنے نہیں دیا جائے گا۔ ساتھ ہی زراعت اور کسانی کو فائدہ مند بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

ایک اور بڑا فرق اس منصوبہ میں یہ ہے کہ وزیر اعظم فصل بیمہ منصوبہ میں جہاں کسان کو بیمہ کے پریمیم کا ایک حصہ دینا ہوتا ہے، لیکن ’بہار راجیہ فصل سہایتا یوجنا‘ میں کسانوں کو کچھ بھی نہیں دینا ہوگا، یعنی کسانوں کو اس منصوبہ کا فائدہ مفت ملے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ خریف کے موسم سے اس منصوبہ کو نافذ کر دیا جائے گا۔ اس منصوبہ میں کسانوں کو آن لائن رجسٹر کرانا ہوگا اور اس کی کوئی فیس نہیں ہوگی۔ اس کے بعد منصوبہ کا فائدہ کسانوں کے اکاؤنٹ میں سیدھے پہنچے گا۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے وزیر اعظم فصل بیمہ منصوبہ کی جگہ اس منصوبہ کو لانے کے پیچھے جو دلیل دی ہے وہ یہ ہے کہ مرکز اور ریاست اپنے اپنے حصے کا پریمیم بیمہ کمپنیوں کو دے رہے ہیں لیکن اس سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک اس منصوبہ کے تحت مرکز اور ریاست مل کر تقریباً 800 کروڑ روپے بیمہ کمپنیوں کو دے چکے ہیں لیکن کسانوں کو صرف 150 کروڑ روپے کی ہی ادائیگی ہوئی ہے۔

ملی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم فصل بیمہ منصوبہ کے تحت بیمہ حاصل کرنے والے کسانوں کی تعداد خریف اور ربیع کے موسم میں اس سال تقریباً 14 فیصد کم ہوئی ہے۔ ساتھ ہی بیمہ منصوبہ کے تحت صرف 24 فیصد زراعتی سیکٹر ہی احاطہ میں آیا ہے۔ یہ 18-2017 کے اعداد و شمار ہیں اور 17-2016 کے مقابلے اس میں 30 فیصد کی کمی آئی ہے۔

بجٹ سیشن میں ایک سوال کے جواب میں حکومت نے جواب دیا تھا کہ ’’وزیر اعظم فصل بیمہ منصوبہ سے 14-2013 کے 1.62 کروڑ کے مقابلے گزشتہ سال اور 17-2016 میں خریف موسم میں 1.20 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ہوا۔ اور ربیع کے موسم میں بھی کسانوں کو فائدہ ہوا۔ 17-2016 میں 5.73 کروڑ کسانوں نے اپنی فصل کا بیمہ کرایا جب کہ 14-2013 میں 3.33 کروڑ کسانوں نے بیمہ کرایا تھا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ جوکی ہاٹ اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب کے بعد سے جنتا دل یو لگاتار تیل کی بڑھتی قیمتوں اور اسے روکنے میں ناکامی کے لیے مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتی رہی ہے۔ حالانکہ الزام لگاتے وقت جنتا دل یو شاید یہ بھول گئی کہ تیل کی قیمتوں میں ریاستی حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔

مرکزی حکومت کا ایسا منصوبہ جس کی تعریف بی جے پی بڑھ چڑھ کر کر رہی ہے، بہار میں نافذ نہ کرنے کا فیصلہ لینا اور اس کے مقابلے میں اپنا ہی ایک نیا منصوبہ لے آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ بہار میں جنتا دل یو اور بی جے پی کے درمیان سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ ساتھ ہی بہار کی نتیش حکومت کے اس فیصلے سے مودی حکومت کے اس منصوبہ کی اصل منشا پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، یہ فیصلے ایسے وقت میں کرنا جب مرکز کی مودی حکومت اپنے 4 سال کا جشن منا رہی ہے اور 2019 کے انتخابات کی طرف بڑھ رہی ہے، کئی طرح کے سیاسی اشارے دیتا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول