اسپیکر بنتے ہی لوک سبھا ویب سائٹ سے اوم برلا سے جڑی RSS اور مندر کی باتیں غائب

لوک سبھا سکریٹریٹ نے نئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے تعارف میں سے وہ حصہ لوک سبھا کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے جس میں ان کے آر ایس ایس اور ایودھیا تحریک سے جڑے ہونے کی تفصیل دی گئی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

وشو دیپک

راجستھان کے کوٹہ-بوندی انتخابی حلقہ سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اوم برلا کا نام جب لوک سبھا صدر عہدہ کے لیے سامنے آیا تو سبھی حیران رہ گئے تھے۔ حیرت زدہ رہنے والوں میں بی جے پی اور این ڈی اے میں شامل دوسری پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ بھی شامل تھے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والی جانکاری اب سامنے آئی ہے۔ لوک سبھا کی ویب سائٹ کی دیکھ ریکھ کرنے والے لوک سبھا سکریٹریٹ نے نئے اسپیکر اوم برلا کے تعارف میں سے وہ باتیں ہٹا دی ہیں جن میں ان کے آر ایس ایس سے جڑے ہونے اور ایودھیا تحریک میں حصہ لینے کی باتیں کہی گئی تھیں۔

دراصل اس سے پہلے لوک سبھا ویب سائٹ پر ان کے تعارف میں صاف تذکرہ تھا کہ اوم برلا کا تعلق آر ایس ایس سے رہا ہے، لیکن اب ایسی کوئی تفصیل ویب سائٹ پر موجود نہیں ہے۔ اتنا ہی نہیں، نئی تفصیل کو ایڈٹ کیے جانے سے پہلے تک اوم برلا کے تعارف میں بتایا گیا تھا کہ انھوں نے ایودھیا کی رام مندر تحریک میں سرگرم حصہ لیا تھا۔ اب یہ پورا پیراگراف ہی ڈلیٹ کر دیا گیا ہے۔

پرانے پروفائل میں کہا گیا تھا کہ ’’رام مندر تعمیر تحریک میں سرگرم طور پر حصہ لینے کے سبب اوم برلا کو اتر پردیش میں جیل بھی بھیجا گیا تھا۔‘‘ لیکن نئے تعارف میں لوک سبھا اسپیکر کے بارے میں صرف ان کے سماجی کاموں کا ہی تذکرہ ہے۔

غور طلب ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس جس ایودھیا یا رام مندر تحریک کی بات کرتے ہیں وہ ایک سیاسی تحریک تھی جس میں پرتشدد سرگرمیوں کی بات لگاتار سامنے آتی رہی ہیں، جس کے بعد ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ملک کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ فساد ہوئے تھے جس میں ہزاروں لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔

راجستھان کی سیاست پر نظر رکھنے والے ایک سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ’’برلا کو لوک سبھا صدر بنانے کے پیچھے ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی سمت میں ایک قدم مانا جانا چاہیے، لیکن اس بار کچھ انکساری دکھائی جا رہی ہے۔‘‘ لیکن برلا کو ایسے عہدہ پر بٹھانا جس میں پارٹی کی سیاست سے اٹھ کر رویہ اختیار کرنا ہوتا ہے، حیران کرنے والی بات نہیں ہے کیونکہ بی جے پی کی منشا سب کو معلوم ہے۔

حال ہی میں بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں آئے ایک پرانے لیڈر نے کہا کہ ’’ایک رکن پارلیمنٹ اور لیڈر کی شکل میں برلا کی واحد حصولیابی یہی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے نزدیکی ہیں، اور کسی بھی متنازعہ ایشو پر ان کا کوئی رخ نہیں ہوتا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ مودی نے برلا کا اس عہدہ کے لیے سلیکشن کسی خاص وجہ سے کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’سب سے پہلی بات تو یہ کہ وہ آر ایس ایس کے قریبی ہیں اور دوسری بات یہ کہ وہ آسانی سے جھکنے والے شخص ہیں۔ مودی کبھی بھی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتے ہیں جو ان کی خواہشات یا فیصلوں سے ذرا بھی نااتفاقی ظاہر کرتا ہے۔‘‘

دہلی کے ایک سینئر صحافی نے اس ایشو پر کہا کہ ’’بی جے پی ایسے ہی شخص کو لوک سبھا اسپیکر کی کرسی پر بٹھانا چاہتی تھی جو پارلیمنٹ کو ان کی مرضی اور منصوبوں کے مطابق چلائے نہ کہ ضابطوں کے مطابق...۔‘‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ آر ایس ایس سے نزدیکیوں کے علاوہ مودی کے ساتھ ان کا سلوک بھی ان کے حق میں گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ’’2001 کے گجرات زلزلہ کے دوران برلا تقریباً 100 سویم سیوکوں اور ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ گجرات میں راحت کام میں جٹے تھے۔‘‘

غور طلب ہے کہ لوک سبھا اسپیکر عہدہ کے لیے کئی نام زیر بحث تھے، جن میں مینکا گاندھی کا نام بھی شامل تھا۔ بہر حال، یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی کم تجربہ والے رکن پارلیمنٹ کو لوک سبھا اسپیکر بنایا گیا ہے۔ 1996 میں ٹی ڈی پی لیڈر بالایوگی کو بھی لوک سبھا اسپیکر بنایا گیا تھا، وہ بھی صرف دو بار ہی رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد 2002 میں شیو سینا لیڈر منوہر جوشی کو لوک سبھا اسپیکر بنایا گیا تھا، جو کہ پہلی بار رکن پارلیمنٹ بنے تھے۔

Published: 20 Jun 2019, 10:10 AM