ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا خط شاہین باغ کی شاہینوں کے نام... اعظم شہاب

مجھے بہت خوشی ہے کہ ہمارے دیش کے نوجوانوں اور عورتوں نے سنویدھان اور جمہوریت کی گرتی عمارت کو اپنے کندھوں سے تھام لیا ہے۔ مجھے اب یقین ہے کہ سنویدھان، جمہوریت اور یکجہتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

کیسی ہو میری بچیو! کئی دنوں سے طبیعت بہت چاہ رہی تھی کہ تم لوگوں سے کچھ بات کروں، لیکن ڈاکٹر راجندر پرساد اور سروجنی نائیڈو نے میرے ذمے ایک ایسا کام سونپ دیا تھا کہ وقت ہی نہیں مل پا رہا تھا۔ وہ کام یہ تھا کہ میں تقسیم ہند کے وقت ہوئے شہریوں کے تبادلے کے معاہدے کا جائزہ لوں کہ آیا یہ ہمارے بنائے ہوئے دستور اور ہمارے ملک کی کثیرالجہتی کے مطابق ہے یا نہیں۔ کیونکہ اسی معاہدے کو سی اے اے کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

آج ہی یہ کام مکمل ہوا ہے اور مجھے تم سب کو یہ بتاتے ہوئے ذرابھی تردد نہیں کہ اپنے جائزے میں مجھے اس بات کا معمولی سا شائبہ تک نظر نہیں آیا کہ اس کی بنیاد پرملک کو مذہبی طور پر تقسیم کیا جائے۔ البتہ جو چیز سامنے آئی وہ یہ تھی کہ مذکورہ معاہدہ ایک ہنگامی صورت حال کا نتیجہ تھی جو شہریوں کو بہ رضا ورغبت اپنے پسند کے ملک کے انتخاب کا موقع فراہم کرنے سے متعلق تھا۔ گوکہ اس معاہدے میں مذہب کو بنیاد بنایا گیا تھا کیونکہ تقسیم بھی بدقسمتی سے اسی کا نتیجہ تھی، مگر ایک ہنگامی معاہدے کے پردے میں ملک کے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی کوشش کو کسی طور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، جس کی کوشش بدقسمتی سے حکومتی سطح پر ہو رہی ہے۔

میں کل بھی مذہب کی بنیاد پر تقسیم کے خلاف تھا اور آج بھی ہوں جب کہ اس کا استعمال سیاسی پولرائزیشن کے لیے ہورہا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس معاہدے کی روح کے مطابق شہریوں کی آزادی، ان کی رضامندی اور پسند وناپسند کو فوقیت دی جاتی، لیکن اس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ میں اسے صریح طور پر بدنیتی کہوں گا کہ اس کی بنیاد پر پاکستان، افغانستان یا بنگلہ دیش سے آنے والے صرف ہندوؤں کو ہی شہریت دی جائے اور اگر کوئی مسلمان خود کو وہاں محفوظ نہ سمجھتا ہو اور وہ ہماری پناہ میں آنا چاہے تو ہم محض اس لیے اس کو پناہ دینے سے انکار کردیں کہ وہ مسلمان ہے اور اس کا مذہب ہمارے ملک کے اکثریتی طبقے کے مذہب کے خلاف ہے۔ اگر کسی کو پناہ دینے کا یہی پیمانہ قرار پاجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ انسانیت نام کی کوئی شئی باقی ہی نہیں بچے گی۔

ہمارے ملک کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ ہر پریشان حال کا سہارا بنتا رہا ہے اور اس معاملے میں اس نے کبھی مذہب کو آڑے نہیں آنے دیا ہے۔ ہم نے اپنے یہاں آنے والے ہر پریشان حال کو مہمان کی حیثیت دی ہے۔ یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ سخاوت کی روایت تھی۔ مگر بدقسمتی سے آج جن کے ہاتھوں میں ملک کی زمام کار آچکی ہے، وہ اسے ہماری کمزوری قرار دینے لگے ہیں۔ یہ میرے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے بھی جنہوں نے اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ نبھایا ہے، نہایت تکلیف دہ ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ اسے برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز صورت حال تو یہ ہے کہ وہ لوگ آج اس ملک کی قسمت طے کر رہے ہیں، ملک کی آزادی میں جن کا حصہ نہ صرف صفر کے برابر ہے بلکہ یہ لوگ تحریک آزادی کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔

دو دن پہلے جب دہلی انتخاب کی تشہیری مہم کا وقت ختم ہو رہا تھا، عین اسی وقت میرے کچھ سورگ واسی دوست مجھ سے ملنے آگئے تھے۔ باپو، جواہر لال، سردار پٹیل، بینیگل نرسنگ، سرت چندر بوس، کرپلانی، راج گوپالاچری، مولاناحفظ الرحمان، ڈاکٹر راجندر پرساد، مولانا آزاد غرضکہ پوری منڈلی آدھمکی تھی۔ اتنے سارے لوگ اچانک؟ میں اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ ڈاکٹر راجندر پرساد کہنے لگے بھیم راؤ پریشان مت ہو، ہم سب یہاں کسی انہونی کی وجہ سے نہیں بلکہ تمہاری اس خوشی میں شریک ہونے کے لیے آئے ہیں جس کا اظہار تم نے کل ہریندر مکھرجی سے کیا تھا۔ ہریندرمکھرجی نے ہی ہمیں بتایا کہ دیش میں سنویدھان بچانے کی جو مہم چل رہی ہے، اس سے تم بہت خوش ہو۔ ہم نے سوچا کہ پچھلے پانچ سالوں سے تم اپنے بنائے ہوئے دستور کے بارے میں فکر مندر رہا کرتے تھے، توچلو پورے دیش میں اس کی حفاظت کی جو تحریک شروع ہوگئی ہے، اس کی خوشی میں ہم سب تمہارے ساتھ شام کی چائے پیتے ہیں۔

میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ خوش تو بہت ہوں اور خوشی سے زیادہ پرامید ہوں کہ شاہین باغ کی میری جیالی بیٹیوں نے وہ کام کر دکھایا ہے جس کی توقع بڑی سے بڑی تحریک سے بھی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن ہم اس پر تھوڑی دیر بعد بات کرتے ہیں، پہلے ذرا میں آپ سب کے تواضع کا کچھ انتظام کرادوں۔ اگر آپ لوگ آنے سے قبل اطلاع دے دیئے ہوتے تو اس تکلف کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، خیر میں تھوڑی دیر میں حاضر ہوا۔ یہ کہہ کر میں رما کو آواز دیتے ہوئے گھر میں داخل ہوا، لیکن اس کی آواز باورچی خانے سے آرہی تھی۔ وہ خوب ہنس ہنس کر کسی سے بات کر رہی تھی۔ میں باورچی خانے میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ سروجنی نائیڈو پہلے سے ہی وہاں موجود تھیں اور دونوں ایک دوسرے سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھیں۔ میں نے رما اور نائیڈو کے درمیان کی محبت دیکھ کر یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکا یہ سب اسی دستور کا کرشمہ ہے جس کی تیاری میں ہم نے چار سال کا عرصہ لگا دیا تھا اور جس نے پورے دیش کو ایک کڑی میں پرو دیا تھا۔ ورنہ کہاں نائیڈو کا جنوبی ہند کا کلچر اور کہاں بیچاری رما ٹیٹھ مہاراشٹرین۔

میری پیاری بچیو! میرے سورگ واسی تمام دوست تمہاری تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے تھے کہ تم نے دیش کو وہ راہ دکھا دی ہے جس پر چل کر بڑے سے بڑے ظلم کو ہرایا جاسکتا ہے۔ یہ سب تمہاری ہمت وحوصلے کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں سنویدھان کو بچانے کے لیے سیکڑوں شاہین باغ بن چکے ہیں اور ان سب کا کریڈیٹ تمہیں ہی جاتا ہے۔ کٹرتا یعنی کہ سخت گیری کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔ ستیہ اور اہنسا ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کتھن کو تم نے سچ کر دکھایا ہے۔

ہمارے دیگر سورگ واسی دوستوں کا خیال تھا کہ میں نے جو دستور ترتیب دیا تھا، اب اس کے چل چلاؤ کا سمیے آگیا ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مولانا آزاد بھی یہی سوچتے تھے کہ اب سنویدھان نہیں بچے گا اور اگر بچا بھی تو کیول ایک کتاب کی شکل میں جس کی قسمیں تو کھائی جائیں گی لیکن اس پرعمل نہیں ہوگا۔ میں ان سے بار بار کہتا کہ ہمارے دیش کے سنویدھان کی بنیاد کسی ایک نظریے یا سوچ پر نہیں ہے کہ کوئی بھی اٹھے اور اسے ختم کر ڈالے۔ اس سنویدھان کی بنیاد بھارت کی مٹی میں بہت نیچے تک اتری ہوئی ہے۔ جب بھی اسے گرانے یا کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی، دیش، سنویدھان اور جمہوریت کے رکھوالے آگے آجائیں گے۔ جب سے تم لوگوں نے اپنی تحریک شروع کی ہے، مولانا آزاد کے ہاؤ بھاؤ سے خوشیاں پھوٹ رہی ہیں۔ پہلے وہ ذرا ذرا سی بات پر جنجھلا جاتے تھے، لیکن اب وہ قدم قدم پر تمہاری تعریفیں کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ ان کی خوشی کس بات پر ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ مولانا! اس تحریک کے بارے میں ایسا بالکل نہ سوچنا کہ اس میں ہماری مسلمان بچیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، بلکہ اس میں جو بھی شریک ہیں وہ پہلے میری بچیاں ہیں، بعد میں ہندو مسلمان ہیں۔

مجھے بہت خوشی ہے کہ ہمارے دیش کے نوجوانوں اور عورتوں نے سنویدھان اور جمہوریت کی گرتی عمارت کو اپنے کندھوں سے تھام لیا ہے۔ میں اب یہ بات دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اس ملک کے سنویدھان، جمہوریت اور یکجہتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اچھا میری بچیو! میں پھرکبھی فرصت میں تم سے بات کروں گا۔ ابھی میں ذرا تھوڑا وقت تمہارے اس 4 مہینے کے محمد جہان کے ساتھ بتانے جارہا ہوں۔ وہ جب سے آیا ہے تمہارے صبر وحوصلے کی ہی کہانی سناتا رہتا ہے۔ اس کے ساتھ وقت بتاکر مجھے بہت سکون ملتا ہے۔ اپنے تمام ساتھیوں کو میرا سلام کہنا کہ اور ہاں! ان سے یہ بھی کہنا کہ اپنی ہمت و حوصلہ برقرار رکھیں، جیت تمہاری ہی ہوگی۔ جے ہند۔

    Published: 9 Feb 2020, 8:11 PM