بہار: نئے اتحاد کی خبریں پھیلانے میں مصروف جے ڈی یو

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی فائل تصویر

نتیش کمار نے لالو یادو کو فون کر کے بی جے پی کے ساتھ مول بھاؤ میں اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی اور جب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تو نتیش حامی میڈیا نے فوری طور پر نئے اتحاد کا فارمولہ پیش کر دیا۔

بہار کی بر سر اقتدار جماعت جنتا دل یونائٹڈ (جے ڈی یو) ایسی خبریں زور شور سے پھیلا رہی ہے کہ ریاست میں ایک نیا اتحاد وجود میں آنے والا ہے جس میں نتیش کمار وزیر اعلیٰ کا چہرہ ہوں گے اور جے ڈی یو، لوک جن شکتی پارٹی اور آر ایل ایس پی اس میں شامل ہوں گی۔

حالانکہ بہار کانگریس کے انچارج شکتی سنگھ گوہل صاف کہہ چکے ہیں کہ نتیش کمار کو مائل کرنے کے لئے کانگریس جے ڈی یو سے کسی قسم کی بات نہیں کر رہی لیکن علاقائی نیوز چینلوں اور اخباروں میں لگاتار ایسی خبریں نشر/ شائع کرائی جا رہی ہیں کہ اس سمت میں سنجیدہ مذاکرات چل رہی ہے۔

شکتی سنگھ گوہل صاف کہہ چکے ہیں کہ ’’ہمارا اتحاد لالو پرساد یادو کے آر جے ڈی اور سابق وزیر اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ہندوستانی عوام مورچہ سے ہے اور ہم اس پر قائم ہیں۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے فیصلے پارٹی کی مرکزی قیادت کی طرف سے اعلی سطح پر لئے جاتے ہیں لیکن بہار میں میڈیا چھوٹے موٹے رہنماؤں کے بیانات کی بنیاد پر دعوے کر رہی ہے کہ نیا اتحاد قائم ہو رہا ہے اور بہار کے نتیش سے بہتر وزیر اعلیٰ کا چہرہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

اس معاملہ میں بکسر سے کانگریس کے رکن اسمبلی سنجے کمار تیواری کا نام سر فہرست آتا ہے۔ دراصل تیواری اپنی ہی پارٹی کی تنقید اس وقت سے کر رہے ہیں جب سے بھبھوا ضمنی انتخاب میں پارٹی نے شمبھو پٹیل کو امیدوار بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس کو کرمی کے بجائے برہمن امیدوار میدان میں اتارنا چاہئے کیوں کہ حلقہ میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کے علاوہ بھی کچھ ارکان اسمبلی اسی طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ ایسے بیانات دینے والے ارکان اسمبلی بہار کانگریس کے سابق صدر اشوک چودھری کے نزدیکی ہیں۔ اتحادی حکومت میں وزیر تعلیم رہے چودھری اب جے ڈی یو میں شامل ہو چکے ہیں۔

یہ مدا اس وقت سے زیر بحث ہے جب سے نتیش کمار نے فون پر لالو کی مزاج پرسی کی تھی۔ اسی فون کال کے بعد سے چہ میگوئیوں کا دور شروع ہو گیا کہ نتیش کمار ایک اور یو ٹرن لینے کی تیار کر رہے ہیں۔ لیکن اس سے نتیش کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو سکا کیوں کہ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما اور لالو یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو نے فون کال پر ہی سوال اٹھا دیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد طویل مدت سے بیمار ہیں، تو نتیش نے اب کیوں فون کیا!

تیجسوی نے اس بات کو صاف کر دیا کہ اگر نتیش کمار کا ارادہ عظیم اتحاد میں واپسی کا ہے تو اس کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے۔ خاص طور پر تب، جب نتیش کمار پھر سے خود وزیر اعلیٰ بننے کے خواہشمند ہیں۔

بحث یہ بھی ہے کہ نتیش کمار نے لالو یادو کو فون کر کے بی جے پی کے ساتھ مول بھاؤ میں اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اگر بی جے پی سے بات کریں گے تو اپنی شرائط منوانے کی کوشش کریں گے۔ اس لئے بہار میں نتیش کمار کی حامی میڈیا نے فوری تور پر اتحاد کا فارمولہ بھی پیش کر دیا۔

اس تعلق سے آ رہی خبروں میں آر جے ڈی کے نائب سربراہ اور سینئر رہنما شیوانند تیواری نے کہا کہ اتحاد کے حوالہ سے کوئی بھی فیصلہ سونیا گاندھی، کانگریس صدر راہل گاندھی اور دوسرے مرکزی رہنما لیتے ہیں بہار کے چھوٹے موٹے رہنما نہیں۔

تو پھر آئے دن میڈیا میں ایسی خبریں کیوں آ رہی ہیں؟ اس پر سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کانگریس کرناٹک میں قربانی کی راہ اختیار کر کے ایچ ڈی کماراسوامی کو وزیر اعلیٰ بنا سکتی ہے تو پھر ہمیشہ کانگریس کے ساتھ رہے لالو یادو کو نظر انداز کس طرح کیا جا سکتا ہے، وہ بھی نتیش کمار جیسے شخص کے لئے جو کبھی بھی پلٹی مار سکتا ہے۔

ادھر کانگریس کے زیادہ تر رہنما بہار میں کانگریس اور نتیش کے کسی بھی اتحاد کے خلاف ہیں لیکن میڈیا ان کی باتوں کو سامنے ہی نہیں رکھ رہی۔ بہار کے سینئر کانگریس رہنما کشور کمار جھا نے کہا کہ کانگریس نتیش کمار کو کیسے عظیم اتحاد میں شامل کر سکتی ہے جبکہ وہ تو پالا بدل کر بی جے پی کے ساتھ مل چکے ہیں اور لگاتار سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ نتیش کمار تو بہار کانگریس میں دراڑ ڈالنے کی بھے کوشش میں ہیں۔

لوک سبھا چناؤ سر پر ہیں، ایسے حالات میں آر جے ڈی کو درکنار کر کے کسی بھی اتحاد کی بات کرنا بے معنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے ڈی یو صرف اس صورت حال میں دھیان بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے جس میں نتیش کمار خود پھنسے ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول