وزیراعظم مودی کے لیے شاہینوں کو تحفہ دینے کا دن... نواب علی اختر

عالمی یومِ نسواں کے دن ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم خواتین کے سماجی و معاشی میدان تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اپنے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

دنیا بھر میں خواتین کا استحصال کوئی نئی بات نہیں ہے، صنفی امتیاز، گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، عصمت دری اور معاشرے میں قدامت پسند روایات کے باعث عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ معاشرہ صرف مرد کا ہے اور گھر سے لے کر آفس یا کام کی جگہ تک اور شادی جیسے زندگی کے اہم فیصلے سے لے کر دیگر امور تک ہر جگہ مرد کی مرضی ہی چلے گی، مگر اس وقت دنیا بھر میں چلنے والی خواتین کی تحریکوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صدیوں پرانا فرسودہ نظام اب زیادہ دن نہیں چل سکے گا۔

آج کی عورت تعلیم یافتہ ہے اور وہ جان چکی ہے کہ اس کے جائز حقوق کون سے ہیں اور وہ ان کے حصول کے لیے آواز اٹھانے کی ہمت بھی رکھتی ہے۔ دنیا بھر میں ظلم، زیادتی اور استحصال کا شکار خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور ان میں اس حوالے سے شعور و آگاہی بیدار کرنے کے لیے بہت سی تنظیمیں سر گرم ہیں جو خواتین کی حالت بہتر بنانے کے لیے انہیں روزگار اور مالی مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان تنظیموں کی رضاکار خواتین ایسی فعال تحریکوں کا حصہ ہیں جنہیں اپنی بہترین کاوشوں کی بدولت عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔

عالمی یوم خواتین کے موقع پرآج ہم ایک بار پھر ملک کی ان تمام ماؤں اور بہنوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لیے کئی ماہ سے شدید سردی، بارش اور ژالہ باری کے باوجود 24 گھنٹے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھی ہوئی ہیں اور جمہوری طریقے سے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھ رہی ہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ملک کے وزیراعظم نریندر مودی اپنے پیشہ ورانہ انداز میں ترغیب دینے والی خواتین کی تلاش کرتے نظر آتے ہیں تاکہ ان کے بہانے سرخیاں بٹورنے کا ایک اور موقع پاسکیں، لیکن انہیں کی ناک کے نیچے شاہین باغ، لکھنؤ اور ملک کے دیگرحصوں میں باشعور، باہمت اور مجاہد خواتین جو اقوام عالم کو ترغیب دے رہی ہیں مگر وزیراعظم کو نظر نہیں آرہی ہیں۔ ایک طرف وطن عزیز کی یہ خواتین دنیا کے لیے مثال بن چکی ہیں مگر خواتین کو با اختیار بنانے کا نعرہ لگانے والی بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت اور اس کے اتحادی تحریک کار خواتین کواعزاز سے نوازنے کی بجائے انہیں بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔

وزیراعظم مودی کے لیے آج بہترین موقع تھا جب ہٹ دھرمی کو ترک کرکے ملک کی شاہینوں کو بھی اپنی ماں بہن کہتے اور ان کے مطالبات تسلیم کرکے انہیں باوقار زندگی جینے کے لیے نیک خواہشات پیش کر کے خواتین کے عالمی دن کا تحفہ دیتے۔ مگرحکومت کے رویے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ’ماں بہنوں‘ میں شاہینوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ یہ نام نہاد ’راشٹر بھگت‘ نہیں بلکہ حقیقی محب وطن ہیں۔ موجودہ حکومت کے قول وفعل میں کیا فرق ہے اس کا اندازہ ملک کی شاہینوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی دیگر خواتین کو لے کر بھی حکومت کی ہٹ دھرمی کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔

ہندوستان وسیع آبادی والا ایک ایسا ملک ہے جہاں دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں آزاد اور خود مختار خواتین نظر آئیں گی تو وہیں کچھ ریاستوں اور دیہی علاقوں میں ایسی خواتین بھی ملیں گی جو غربت کی حد سے نیچے رہنے کے علاوہ جانوروں کی طرح ایک جنسی آلے کے طور پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جن کی زندگی کا واحد مقصد اپنے گھر کے مردوں کی خدمت اور بچے پیدا کرنا ہے۔

2014 کے بعد اچانک وطن عزیز میں ذات پات کی تفریق اور ہر سطح پر مذہبی منافرت جو فضا قائم ہوئی ہے اس سے عالمی سطح پر ہندوستان کے سیکولر وقار کو چوٹ پہنچی ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی رد عمل کو خاطرمیں نہ لا کر بی جے پی حکومت کی صرف ’میں‘ کی وجہ سے آج ہندوستان میں ایسا ماحول تیار کر دیا گیا جہاں لوگ مرنے مارنے پر اتر آئے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف امور کے سلسلے میں ”دن“ منانے کی روایت خاصی پرانی ہے۔ سماج کے بہت سے مشغلوں کے سلسلے میں یہ بھی ایک مشغلہ ہے لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ نششتند گفتند و برخاستند یعنی لوگ جمع ہوئے، باتیں کیں اور پھر اٹھ کر چل دیئے۔ کیا اس طرح کوئی مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

8 مارچ عورتوں کا بین الاقوامی دن ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعظم نے بھی اپنا نرالا ارادہ ظاہر کردیا ہے لیکن سماج اس قسم کی تقریبات سے کس حد تک متاثر ہوتا ہے۔؟ ایک بڑا المیہ دوسری عورتوں کی طرح اس معاملہ میں بھی ہے کہ جو لوگ بڑھ چڑھ کر دعوے اور وعدے کرتے ہیں وہ خلوص کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ جب خواتین کے عالمی دن پرحکومت کو’عوت نواز‘ ثابت کرنے کی کوششیں چل رہی تھیں عین اسی وقت ایک 8 سالہ بچی نے وزیراعظم کو آئینہ دکھاتے ہوئے صاف طور پر کہہ دیا کہ محترم وزیر اعظم! برائے کرم آپ میرے لئے اعزاز کی بات نہ کریں، جب کہ آپ میری بات نہیں سن رہے۔ منی پور سے تعلق رکھنے والی لسیپریا کنگوجم ماحولیات کے میدان میں کافی سرگرم ہیں۔ انہیں سال 2019 میں بین الاقوامی اطفال امن انعام سے نوازا گیا تھا۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کنگوجم مزید لکھتی ہے کہ آپ کا شکریہ کہ ملک کی قابل ترغیب خواتین کی فہرست میں مجھے بھی شامل کیا۔ بچی نے لکھا کہ ’پیارے نریندر مودی جی! اگر آپ میری آواز نہیں سنیں گے تو براہ مہربانی مجھے سلیبریٹ مت کیجیے۔ کئی بار سوچنے کے بعد میں نے یہ اعزاز ٹھکرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے ہند!‘۔

کنگوجم نے آگے لکھا کہ پیارے رہنماؤں اور سیاسی پارٹیوں، مجھے اس کے لئے تعریف نہیں چاہیے۔ اس کے بجائے اپنے ممبران پارلیمنٹ سے کہیے کہ موجودہ پارلیمنٹ سیشن میں میری آواز اٹھائیں، مجھے اپنے سیاسی مقاصد اور پروپیگنڈہ کے لئے کبھی استعمال مت کیجیے گا، میں آپ کے حق میں نہیں ہوں۔ کنگوجم نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ آپ (وزیراعظم) کے ایم پی نہ صرف گونگے بلکہ بہرے اور اندھے بھی ہیں، یہ پوری ناکامی ہے، ابھی کارروائی کیجیے۔ بچی وزیر اعظم مودی اورممبران پارلیمنٹ سے موسمیاتی تبدیلی قانون بنائے جانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔عالمی یومِ نسواں کے دن ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم خواتین کے سماجی و معاشی میدان تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے اپنے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ آئندہ نسلوں کو سماجی و اقتصادی طور پر ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل نصیب ہو۔