گجرات سے ہجرت: دوسروں کو قصوروار ٹھہرا کر ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی گجرات حکومت

تاریخ خود کو الگ الگ طریقے سے دہراتی ہے۔ مرکز اور گجرات دونوں بی جے پی حکومتوں کے لیے یہ پیغام ہے۔ وہ صرف حریف سیاسی پارٹیوں یا اشخاص کو قصوروار ٹھہرا کر ذمہ داری سے نہیں آزاد ہو سکتی۔

انھیں پاکستان یا بنگلہ دیش نہیں بھیجا جا سکتا ہے تو ریاستی حکومت نے انھیں ان کے گھروں کو لوٹنے کے لیے مجبور کر دیا ہے۔ یہ کہانی ہے بہار اور اتر پردیش کے ان ہزاروں مزدوروں و کاروباریوں کی جنھیں گجرات سے کھدیڑا جا رہا ہے۔ یہ سارے لوگ ایک بہاری مزدور کے مبینہ جرم کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ لیکن یہ کوئی شاید پہلا موقع نہیں ہوگا جب بہاری مزدوروں نے گجرات میں کوئی جرم کیا ہو۔ ہو سکتا ہے پہلے بھی ایسا ہوا ہو، لیکن اب ان مزدوروں کے خلاف اتنی نفرت اور غصہ کیسے بھڑک اٹھا ہے، وہ بھی گجرات کے خاص علاقوں میں!

اس سوال کا جواب ملے گا اس کلچر میں جس میں لوگوں کو ان کے مذہب، ملک، ریاست، ذات وغیرہ کی بنیاد پر پہچان دی جا رہی ہے اور انھیں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔ اس قسم کے کچھ چھوٹے موٹے واقعات سامنے آتے ہیں تو اسے کسی چھوٹے موٹے گروہ یا لوگوں کا ہاتھ بتا کر ٹال دیا جاتا ہے۔ لیکن جب تشدد اور حملوں کا دائرہ بڑا ہو تو اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ سب کچھ منظم اور منصوبہ بند طور پر ایک خاص طبقے کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے اور زیادہ تر معاملوں میں تو ایسے لوگوں اور گروپوں کو اقتدار کا تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً گجرات کی پڑوسی ریاست مہاراشٹر میں شیو سینا اور اس سے الگ ہوا گروپ مہاراشٹر نو نرمان سینا یہی ہتھکنڈا اپناتی رہی ہے۔

گجرات میں 14 مہینے کی بچی سے مبینہ عصمت دری معاملہ حال کے تشدد کا سبب مانا جا رہا ہے۔ لیکن کیا یہی دلیل اس تشدد کے پیچھے ہے۔ یا پھر باہری مزدوروں کے خلاف غصہ پہلے سے پنپ رہا تھا جو اس واقعہ سے پھٹ پڑا ہے! ایسے تشدد اور حملوں میں امیر کبھی سامنے نہیں آتے، وہ پیچھے سے ہی اس سب کو ہوا دیتے ہیں۔ افسوسناک یہ ہے کہ جب بھی ایسا ہوتا ہے تو غریبوں اور بے روزگاروں کو ہی غریبوں سے لڑوایا جاتا ہے۔ جو لوگ دفتروں کی ملازمت کرتے ہیں وہ کسی اور قسم سے نشانے پر آتے ہیں۔

مارواڑی تو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن گجراتیوں اور مہاراشٹر کے لوگوں کی تعداد شمالی ہندوستان میں بہت کم ہے۔ ایسے میں اس بات کا اندیشہ نہ کے برابر ہے کہ وہ بھی ایسے تشدد کا بہار یا اتر پردیش میں سامنا کریں گے۔ گجرات میں نوٹ بندی کے بعد پٹیل طبقہ ناراض ہوا ہے۔ یہی ناراضگی معیشت کے دھیمے پن اور کام دھندے بند ہونے سے دوگنا ہو گیا ہے۔ اگست 2015 میں ہی گجرات بھر میں بڑے پیمانے پر تشدد ہوا تھا اور سامنے آیا تھا کہ تقریباً 50 ہزار چھوٹے، درمیانے صنعت و کاروبار بند ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے 15 مہینے بعد نومبر 2016 میں نوٹ بندی کا اعلان ہوا تو حالات مزید بگڑ گئے۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ بہار اور گجرات میں کچھ یکسانیت ہے۔ اگر گجراتی مہاتما گاندھی نے 101 سال پہلے اپنی تحریک کے لیے بہار کو منتخب کیا تھا تو گجرات اور بہار دونوں ریاست 70 کی دہائی میں طلبا تحریک کے گواہ رہے۔ دسمبر 1973 میں گجرات میں تحریک شروع ہوا تھا تو مارچ 1974 میں بہار میں۔

دھیان رہے کہ طلبا کا غصہ اس لیے تھا کیونکہ 1973 میں عرب-اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی قیمت میں چار گنا اضافہ کے سبب ملک کی معیشت ڈانواڈول ہو گئی تھی اور اس وقت کی حکومت کے خلاف لوگوں کا ناراضگی بھڑک اٹھی تھی۔ تاریخ پھر خود کو دوہرا رہی ہے۔ اب پیغام موجودہ مرکزی اور گجرات حکومت کے لیے ہے۔ وہ صرف حریف سیاسی پارٹیوں یا اشخاص کو قصوروار ٹھہرا کر ذمہ داری سے آزاد نہیں ہو سکتی۔ ان کی دلیلوں سے بہار، یو پی یا پھر گجرات میں بھی کوئی متفق نہیں ہوگا۔ اور پھر بھیڑ کے ذریعہ تشدد برپا کرنے میں کس کو مہارت حاصل ہے، یہ تو سب کو معلوم ہے۔

سب سے زیادہ مقبول