بی جے پی مہاراشٹر کو مدھیہ پردیش نہ سمجھے… اعظم شہاب

مہاراشٹر میں شیوسینا، این سی پی و کانگریس کے آپسی تال میل سے جو لوگ واقف ہیں وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ یہاں ان تینوں کے درمیان اختلاف پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہاں کی حکومت ان کے لیے ایک بونس کے مانند ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ حکومت پر بی جے پی کی کامیاب شب خون نے اگرچہ مہاراشٹر میں بھی بی جے پی کے حوصلے بلند کردیئے ہیں، لیکن جو لوگ اس ریاست کے سیاسی مزاج سے واقف ہیں، انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ بی جے پی کا وہ داؤ جو اس نے مدھیہ پردیش میں چلا ہے، وہ یہاں کبھی کامیاب نہیں ہونے والا ہے۔ اور اگر اس نے ایسی کوئی کوشش کی بھی تو اسے کچھ اس طرح منھ کی کھانی پڑسکتی ہے، کہ اس کے ہی ممبران ہی اس کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ریاستی بی جے پی کے لیڈران جہاں مدھیہ پردیش میں پارٹی کی کامیابی پرشادیانے بجا رہے ہیں، وہیں ابھی تک کسی نے بھی اس کے مہاراشٹر میں دہرائے جانے کی بات نہیں کی ہے۔

راجستھان، مدھیہ پردیش و چھتیس گڑھ میں جب کانگریس کی حکومت بنی تھی تو اسی وقت سے مدھیہ پردیش حکومت کی کمزوری عیاں ہوگئی تھی اور وہ کمزوری جیوترآدتیہ سندھیا کی تھی۔ گوکہ اس وقت پارٹی کے سربراہ راہل گاندھی نے اسے دبانے کی کامیابی حاصل کرلی تھی، مگر نمبر ایک بننے کی ہوس نے سندھیا مہاراج کو بے چین کیے رکھا اور موقع ملتے ہی ان کی اس بے چینی نے بغاوت کی شکل اختیار کرلی۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت گرانے میں بی جے پی کے ماسٹر اسٹروک سے زیادہ سندھیا کی موقع پرستی اثر انداز رہی ہے۔ اب چونکہ دہلی الیکشن میں منہ کی کھانے کے بعد چانکیہ جی اپنا زخم چاٹے ہی جارہے تھے، اس لیے ان کا غم غلط کرنے کے لیے مدھیہ پردیش میں اقتدار کی تبدیلی کا سہرا ان کے سر باندھا جارہا ہے۔

جولوگ مہاراشٹر میں شیوسینا، این سی پی وکانگریس کے آپسی تال میل سے واقف ہیں وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہاں ان تینوں پارٹیوں کے درمیان اختلاف پیدا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہاں کی حکومت ان تینوں پارٹیوں کے لیے ایک طرح سے بونس کے مانند ہے۔ شیوسینا اگر بی جے پی سے علیحدگی اختیار نہیں کرتی تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ریاست میں اس کی پارٹی کا کبھی وزیراعلیٰ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح کانگریس و این سی پی بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں تھیں۔ شیوسینا کا ساتھ ملنے کے بعد ان تینوں پارٹیوں کو غیر متوقع فائدہ ہوا۔ شیوسینا کا وزیراعلیٰ بن گیا، این سی پی کا نائب وزیراعلیٰ بن گیا اور کانگریس کو کچھ نہایت اہم وزارتیں مل گئیں۔ اور خاص بات یہ ہے کہ یہ تینوں پارٹیاں آپسی تال میل سے نہایت کامیابی کے ساتھ حکومت چلا رہی ہیں۔ ایسے میں بھلا کون عقل کا مارا ہوگا جس پر بی جے پی کا داؤ چلے گا؟

اس ریاست میں کرناٹک و ایم پی کی روایت اسی صورت میں دہرائی جاسکتی ہے کہ ان تینوں پارٹیوں میں سے کوئی ایک بڑا دھڑا ٹوٹ کر بی جے پی کے ساتھ شامل ہوجائے۔ لیکن اس کا امکان اس لیے بھی کم ہے کہ کیونکہ اس سے قبل اس کا تجربہ بھی ہوچکا ہے جو بری طرح ناکام رہا ہے۔ حکومت سازی کے ابتدائی دنوں میں این سی پی کے اجیت پوار اپنے کچھ حامیوں کے ساتھ بی جے پی کے ساتھ چلے گئے تھے، جس کا انجام نہایت شرمناک ہوا۔ اجیت پوار کو دو دنوں کے اندر استعفیٰ دینا پڑا تھا جبکہ ان کے حامیوں نے علی الاعلان بی جے پی پر انہیں یرغمال بنانے اور شردپوار سے اپنی وفاداری کی بات کہی۔ اجیت پوار کی بغاوت کے بعد بھی این سی پی میں کوئی انتشار نہیں ہوا اور جو لوگ پارٹی چھوڑ کر اجیت پوار کے ساتھ گئے تھے وہ سب محض دو دونوں میں واپس آگئے تھے۔

مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت گرا کر بی جے پی بھلے ہی شادیانے بجا رہی ہو، لیکن سچائی یہ ہے کہ ابھی تک اس کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جن 22 لوگوں کو کانگریس حکومت سے باغی بناکر بنگلورو لے جایا گیا ہے، پھر انہیں بی جے پی میں شامل کیے جانے کے باجود آزاد نہیں چھوڑا گیا ہے۔ ان کے استعفے منظور ہوچکنے کے بعد بھی بی جے پی کو یہ خوف لاحق ہے کہ یہ باغی ممبران اسے دھوکہ دے سکتے ہیں۔ یہ خوف واجب بھی ہے۔ کیونکہ جب لالچ وحرص کسی فیصلے کی بنیاد بنے تووہ زیادہ مستحکم نہیں رہتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ زعفرانی طوق گلے میں ڈالنے کے باوجود ان باغیوں کی حرکات وسکنات پر بی جے پی کی جانب سے پہرہ لگا ہوا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی بھلے ہی حکومت سازی میں کامیاب ہوگئی ہو، لیکن سچائی یہ ہے کہ اس کا خوف پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جن ممبرانِ اسمبلی نے کانگریس سے بغاوت کی ہے ظاہر ہے کہ انہیں اپنا عہدہ حاصل کرنے کے لیے دوبارہ انتخاب لڑکر کامیاب ہونا ضروری ہے۔ دیگر صورت میں بی جے پی کی حکومت گر جائے گی۔