اسمبلی کے تقاضے پارلیمانی انتخاب سے جدا ہوتے ہیں.. عبید اللہ

مایاوتی نے اکیلا چلو کی پالیسی اختیار کر کے ایک زبردست سیاسی داؤں بھی چلا ہے اور بہت بڑا خطرہ بھی مول لیا ہے۔

By عبیداللہ ناصر

تین ریاستوں چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان اسمبلی الیکشن کے لئے کانگریس سے کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کر کے بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے ایک طرح سے بی جے پی کے خلاف عظیم اتحاد یا مہاگٹھ بندھن کے امکانات ختم کر دے ہیں۔ انہوں نے چھتیس گڑھ میں باغی کانگریسی لیڈر اور ریاست کے سابق وزیر اعلی اجیت جوگی سے سمجھوتہ کر لیا ہے جبکہ مدھیہ پردیش کی سبھی سیٹوں پر اکیلے ہی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

مایاوتی نے کانگریس سے سمجھوتہ نہ ہونے کے لئے پارٹی کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ کو ذمہ دار قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی تو اتحاد چاہتے ہیں لیکن دگوجے سنگھ نے اتحاد نہیں ہونے دیا ، انھیں اس بات کی شکایت ہے کہ دگوجے سنگھ نے یہ بیان کیوں دیا کہ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ کے ڈر سے مایاوتی مودی حکومت کے دباؤ میں آ گئیں اور انہو ں نے کانگریس سے سمجھوتہ نہیں کیا، دگوجے سنگھ نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ میرے مذکورہ بیان سے کئی دن پہلے ہی مایاوتی نے اجیت جوگی سے سمجھوتہ کر لیا تھا لہذہ ان کا یہ الزام درست نہیں ہے۔

مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کمل ناتھ نے بھی وضاحت دی ہے کہ سمجھوتہ کے سلسلہ میں مایاوتی کےسیٹوں سے مطالق مطالبات غیر حقیقی تھے اس لئے سمجھوتہ نہیں ہو سکا ، مایاوتی نے ویسے تو دگوجے سنگھ کو سمجھوتہ نہ ہونے کے لئے ذمہ دار قرار دیا ہے لیکن کانگریس کو لے کر بھی ان کا بیان نہایت جارحانہ تھا اور انہوں نے وہ سبھی الزامات دہرائے جو وہ ہمیشہ کانگریس پر لگاتی رہی ہیں ، جس میں بابا صاحب امبیڈکر کو مناسب عزت و احترام نہ دینا ، الیکشن ہروا دینا وغیرہ شامل ہیں ۔ لیکن انہوں نے سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا۔ صدر کانگریس راہل گاندھی نے کہا ہے کہ مایاوتی جی کا یہ اعلان اسمبلی الیکشن کے لئے ہے انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ پارلیمانی الیکشن میں مایاوتی سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا ایک عظیم اتحاد حقیقی شکل اختیار کر لے گا۔

ملک کے موجودہ سماجی ، سیاسی اور معاشی حالات سے پریشان عوام کی خواہش ہے کہ بی جے پی کے خلاف سبھی سیاسی پارٹیوں کا ایک عظیم اتحاد تشکیل ہو جائے جو ایک کم از کم مشترکہ پروگرام کے تحت ہندستان کا نظام حکومت سنبھال سکے ، اپوزیشن کی زیادہ تر پارٹیاں بھی سمجھتی ہیں کہ وہ اکیلے دم پر بی جے پی کی دولت ،طاقت اور وسائل نیز عوام کے ایک بڑے طبقہ میں خاص کر وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں اس لئے انھیں ایک پلیٹ فارم پر آنا ہی ہوگا ، لیکن ساتھ ہی انھیں اپنے حلقہ اثر میں اپنے مفاد کی بھی فکر ہے اس لئے یہ اتحاد ابھی تک کوئی شکل نہیں لے سکا ہے ۔

حالانکہ پارلیمانی الیکشن میں ایک سال سے بھی کم کا وقفہ بچا ہے اور اپنی مقبولیت نیز وسائل کی فراوانی کے باوجود بی جے پی نے پوری طاقت سے انتخابی تیاری شروع کر دی ہے۔سنگھ کے پرچارک گاؤں گاؤں ،محلہ محلہ پھیل گئے ہیں اور روزانہ صبح اور شام کم سے کم دو گھنٹے ووٹروں سے رابطہ کرنے میں گزارتے ہیں۔

اتر پردیش میں حالات غیر یقینی ہیں ، پہلے تو یہ لگا تھا کہ مایاوتی -اکھلیش یادو اور اجیت سنگھ میں اتحاد یقینی ہے بس کانگریس کو لے کر کچھ تذبذب ضرور ظاہر کیا جا رہا تھا ۔ملائم سنگھ یادو نے کانگریس کے لئے مروتاً دو سیٹیں چھوڑنے کی بات کہہ کر یہ ڈور اور الجھا دی تھی ، جبکہ اکھلیش وسیع القلبی دکھانے کے موڈ میں تھے لیکن اچانک شیوپال یادو کی بغاوت سے اکھلیش کچھ کمزور پڑنے لگے تھے اسی لئے مایاوتی نے زیادہ سخت سودے بازی شروع کر دی تھی۔ لیکن اکھلیش یہی کہتے رہے کہ وہ دب کر بھی بی جے پی کے خلاف عظیم اتحاد کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

ادھر کانگریس نے بھی مایاوتی کے یکطرفہ اعلانات کے باوجود امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے ، پارٹی کے ریاستی صدرراج ببر نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ پارلیمانی الیکشن کے لئے اتر پردیش میں ایک وسیع سیاسی محاذ یا مہا گٹھ بندھن ضرور بنےگا کیونکہ یہ عوام کی خواہش ہے اور کوئی بھی پارٹی عوام کے جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکےگی ۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کانگریس کمیٹی آخری لمحات تک اتحاد کی امید نہیں چھوڑے گی، اگر اتحاد نہیں ہوتا ہے تو وہ سبھی سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے لئے تیار ہیں ۔

10 ستمبر کے بھارت بند کے دوران جس طرح ایک لمبے عرصہ کے بعد کانگریسی کارکنان سڑکوں پر اترے ، اس کے بعد 25ستمبر سے لے کر 2 اکتوبر گاندھی جینتی تقریبات کو لے کر ریاست بھر میں کانگریسی کارکنوں نے جس طرح پُرجوش مظاہرہ کیا وہ قابل دید تھا ۔2 اکتوبر کو لکھنؤ میں کانگریس کا مظاہرہ بہت زوردار تھا ہزاروں کانگریسی کارکن چلچلاتی دھوپ میں تاریخی جھنڈے والا پارک میں یکجا ہوئے اور پھر وہاں سے ریاستی صدر کانگریس راج ببر اور پارٹی کے سینئر لیڈر پرمود تیواری کی قیادت میں رام دھن گاتے ہوئے تقریباً تین کلو میٹر کا سفر پیدل طے کر کے حضرت گنج میں واقع مہاتما گاندھی کےمجسمہ پر اکٹھا ہوئے ، جہاں انھیں ملک میں امن اور بھائی چارہ قائم رکھنے کی کوششوں کی حلف دلائی گئی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے تن مردہ میں جان پڑ رہی ہے یہی نہیں پارٹی میں دانشوروں ، نوجوانوں ،طلبا اور خواتین کی شمولیت کا سلسلہ بھی بڑھا ہے جس کے بعد ریاستی کانگریس کا ایک بڑا طبقہ چاہتا ہے کہ اگر مہاگٹھ بندھن میں انھیں با عزت جگہ نہ ملے تو کانگریس اکیلے الیکشن لڑے۔

راقم کی کئی سیاسی مبصرین اور سینئر صحافیوں سے بھی بات ہوئی اور ان سب کا یہی خیال ہے کہ کانگریس اکیلے لڑ کر بھی 20 سے 25 سیٹیں جیت سکتی ہے۔

ظاہر ہے مایاوتی نے یہ فیصلہ اپنی پارٹی کے عظیم تر مفاد کو سامنے رکھ کر کیا ہے ، جس کا انہیں پورا حق ہے لیکن اپنے اس فیصلہ سے انہوں نے یہ تو ثابت ہی کر دیا کہ فرقہ پرست طاقتوں سے لڑنے کا ان کا دعوی کھوکھلا اور بکواس ہے، انھیں نہ ملک کے سماجی تانے بانے کی بربادی کا احساس ہے اور نہ ہی غریبوں کے منہ سے نوالہ چھین رہی مودی حکومت کی معاشی بد اعمالیوں سے کوئی پریشانی ، حالانکہ وہ جس طبقہ کی مسیحائی کا دعوی کرتی ہیں وہی طبقہ اس حکومت اور پارٹی کے نظریات کا سب سے بڑا شکار ہے ۔ جارح ہندوتو اکا سب سے بڑا شکار مسلمانوں کے بعد دلت ہی ہیں پھر بھی مایاوتی در پردہ سنگھ پریوار اور منو وادی طاقتوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں جس کی کئی وجوہات سیاسی مبصرین گنواتے ہیں۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق الہ باد ہائی کورٹ نے 14 ارب کے میموریل گھپلہ کی جانچ کی اسٹیٹس رپورٹ اترپردیش سرکار سے طلب کر لی ہے اور سخت ہدایت دی ہے کہ اس میں شامل کوئی ملزم بچنا نہیں چاہیے، لوک ایکت اور ویجلنس محکمہ نے یہ جانچ کی ہے ۔ یوگی حکومت شاید اسے اسی دن کے لئے دبائے بیٹھی تھی کہ وقت آنے پر اسے نکالا جائےگا اس کے علاوہ بدعنوانی کے کئی اور معاملات میں مایاوتی ، ان کے بھائی ، ان کے زمانے کے افسران اور وزرا ملوث ہیں ۔ کانگریس سے اتحاد نہ کرنے کے فوراً بعد اتر پردیش حکومت کا سی بی آئی سے ان معاملات کی جانچ نہ کرانے کا فیصلہ اس شک کو تقویت دیتا ہے کہ سارا کھیل بی جے پی کا ہی تھا جو عظیم اتحاد کو اپنے لئے زہر ہلاہل سمجھ رہی ہے۔

مایاوتی کایہ سیاسی کھیل دور اندیشی والا ہے وہ اتر پردیش سے باہر اپنی طاقت بڑھانا چاہتی ہیں انھیں اندازہ ہے کہ اگلی پارلیمنٹ معلق ہو سکتی ہے اور کوئی بھی دیوگوڑا کی طرح ایک دم سے منظر عام پر آکر وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ سکتا ہے ، ان کی ریاضی یہ لگتی کہ اگر وہ اتر پردیش اور دیگر ریاستوں سے پچاس سیٹیں لے آیئں تو ان کا دعوی کافی مضبوط ہو سکتا ہے حالانکہ انھیں یہ بھی ذہن نشیں رکھنا چاہیے کہ گنگا- جمنا اور گومتی میں بہت پانی بہہ چکا ہے اپنی ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی لا محدود خواہشوں اور سیاسی قلا بازیوں کی وہ بہت بڑ ی قیمت ادا کر چکی ہیں، اتر پردیش اسمبلی اور اس سے قبل پارلیمنٹ میں اکیلے چلنے کی پالیسی کی وہ بھاری سیاسی قیمت ادا کر چکی ہیں دلتوں کے درمیاں ہی ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرا ہے یہی حال مسلم ووٹوں کا بھی ہے ، مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان کو ووٹ دیتا رہا ہے لیکن اپنی سیاسی قلا بازیوں سے وہ مسلسل اس کا اعتماد کھوتی جا رہی ہیں اور اس اسمبلی اور مجوزہ پارلیمانی الیکشن میں اگر وہ مہا گٹھ بندھن سے دور رہیں تو رہا سہا اعتماد بھی کھو بیٹھیں گی ، دلتوں کی تمام ذیلی ذاتوں میں ان کا سب سے زیادہ اثر جاٹوؤں پر تھااور یہی سیاسی طور سے سب سے بیدار ذات ہے باقی پاسی ،کوری ،بالمیکی وغیرہ پر بی جے پی نے مضبوط گرفت بنائی ہوئی جو کہ کم و بیش ابھی برقرار ہے۔ جاٹوؤں میں اب چندر شیکھر اور جگنیش میوانی جیسے نوجوان لیڈر ابھر چکے ہیں جو مایاوتی کی قیادت کے لئے چیلنج ہیں ، مایاوتی کے سامنے ان ابھرتے نوجوانوں سے نپٹنے کا بھی چیلنج ہے اس لئے وہ دو محاذوں پر لڑ رہی ہیں ۔

اگر مجوزہ اسمبلی اور پھر پارلیمانی الیکشن میں وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ ایک طرف سیاسی طور سے مضبوط ہوں گی دوسری طرف دلت سیاست کا جو محور وہ بن چکی ہیں وہ بھی برقرار رہے گا۔ مایاوتی نے اکیلا چلو کی پالیسی اختیار کر کے ایک زبردست سیاسی داؤں بھی چلا ہے اور بہت بڑا خطرہ بھی مول لیا ہے۔