آسام: اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی لیباریٹری

آسام میں این آر سی اسکیم کے تحت جو صورت حال پیدا ہو گئی ہے وہ سنگین ہے۔ خبروں کے مطابق آسام میں 40 لاکھ افراد ہندوستانی شہریت سے محروم کر دیے گئے ہیں جوایک انتہائی خطرناک صورت حال ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی وہ تنظیم ہے جو ملک میں کوئی نہ کوئی خرافات کرتے رہنے میں یقین رکھتی ہے۔ کبھی خود تو کبھی سنگھ کی کھڑی کی ہوئی تنظیموں کے ذریعہ ملک کی فضا کو خراب بنائے رکھنے کا کام چوبیس گھنٹے چلتا رہتا ہے۔ کبھی لنچنگ تو کبھی قصاب خانوں پر پابندی جیسی حرکتیں پچھلے چار سالوں میں آئے دن ہوتی رہیں۔ اب جیسے جیسے سنہ 2019 لوک سبھا انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے ملک کو ہندو-مسلم کے نام پر بانٹنے کا کام شدت سے تیز ہوتا جا رہا ہے۔ بلکہ چناؤ جتنے قریب آتے جائیں گے بی جے پی کی نفرت کی سیاست اتنی ہی تیز ہوتی چلی جائے گی۔ اس کی تازہ ترین مثال آسام ہے جہاں بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کی آڑ میں ہندو-مسلم نفاق کو ہوا دی جا رہی ہے۔

آسام میں بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک پرانا مسئلہ تھا۔ اس سلسلے میں راجیو گاندھی اور منموہن سنگھ حکومت نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے راستے تلاش کیے تھے۔ پھر سپریم کورٹ کی نگرانی میں منموہن سنگھ حکومت نے باقاعدہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے گائیڈ لائن بنائی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ معاملے کو حل کیا جائے نہ کہ معاملے کو اور الجھا کر اس کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جائے۔ لیکن بی جے پی آخر بی جے پی ہے، کانگریس اور تمام دوسری لبرل جماعتوں کو مسلم حامی ووٹ بینک کی سیاست کرنے کا الزام لگانے والی بی جے پی ہر وقت خود ہندو ووٹ بینک بنانے کی سیاست میں مصروف رہتی ہے۔ اپنی اسی حکمت عملی کے تحت بی جے پی نے اپنے صدر امت شاہ کی قیادت میں آسام کے بنگلہ دیشی ایشو کو ہندو ووٹ بینک بنانے کی ایک سازش رچ ڈالی جو اب ملک کے سامنے ایک سنگین مسئلہ بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔

آسام میں این آر سی اسکیم کے تحت جو صورت حال پیدا ہو گئی ہے وہ سنگین ہے۔ خبروں کے مطابق آسام میں 40 لاکھ افراد ہندوستانی شہریت سے محروم کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورت حال ہے بلکہ یہ ایک سازش ہے جس کے ذریعہ سنگھ اور بی جے پی دوہری چال چل رہی ہے۔ پہلے تو اس کا مقصد خود کو بنگلہ دیشی خطرے کے نام پر ہندو خواہ ثابت کرنے کی اسکیم ہے۔ پھر جس طرح امت شاہ نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن پر ’ووٹ بینک‘ سیاست کرنے کا الزام لگایا کہ وہ اس طرح پوری اپوزیشن کو مسلم حامی یعنی ہندو دشمن ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس کمپین کو چناؤ تک روز بہ روز تیز کر پورے ملک کو بنگلہ دیشی خطرے یعنی مسلم خطرے کے نام پر مسلم منافرت کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ پھر اس نفرت کے ماحول میں مودی جی خود ’ہندو انگ رکشک‘ کا سہرا پہن کر ہندوو ووٹ بینک بنا کر اگلی بار پھر وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

یہ تو سنگھ اور بی جے پی کی چناوی حکمت عملی ہے۔ لیکن اس سازش کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ سنگھ کا دیرینہ خواب یہ رہا ہے کہ اس ملک کی اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے۔ آزادی کے بعد جواہر لال نہرو اور بابا صاحب امبیڈکر کی قیادت میں اس ملک میں جو آئین بنا اس نے ملک کے ہر شہری کو بلاتفریق مذہب، ذات اور صنف کے برابری کے شہری حقوق عطا کیے۔ سنگھ ہمیشہ سے اس ملک پر ہندوؤں کی افضلیت میں یقین رکھتی ہے۔ اور اس کا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ مسلم جیسی اقلیتوں کو اس ملک میں دوسرے درجے کی شہریت ملنی چاہیے۔ لیکن آزادی کے فوراً بعد آر ایس ایس اس قدر طاقتور تنظیم نہیں تھی کہ وہ گاندھی، نہرو اور امبیڈکر جیسے قدآور لیڈر کی کھل کر مخالفت کرتی۔ لیکن اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا اس کا خواب کبھی ٹوٹا نہیں۔ مودی کی قیادت میں اب سنگھ ہر وہ خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہ رہا ہے جو ابھی تک ادھورا رہ گیا تھا۔ موب لنچنگ اور قصاب خانوں پر پابندی جیسے اقدامات کے ذریعہ اقلیتوں کو ڈرانے کا کام کر ان کو سماجی سطح پر دوسرے درجے کا شہری ہونے کا احساس دلایا گیا۔ ایسے اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ اقلیت کو یہ احساس دلایا جائے کہ تمھاری جان (موب لنچنگ) و مال (قصاب خانوں جیسی تجارت پر پابندی) ہمارے رحم و کرم پر ہے۔ لیکن قانونی سطح پر اقلیتوں اور بالخصوص مسلم اقلیت کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کا کام باقی بچا تھا۔ جب کسی شہری کے حق ووٹ دہندگی کو ختم کر دیا جائے گا یا وہ بنگلہ دیشی کے نام پر اس کی شہریت ہی ختم کر دی جائے گی تو پھر وہ دوسرے درجے کا شہری بن کر ہی رہ جائے گا۔

گجرات سنگھ کی پہلی لیباریٹری تھی جہاں مودی کے ہاتھوں صوبہ میں ہندو راشٹر کے خد و خال بنائے گئے۔ آسام کو سنگھ اقلیتوں کو باقاعدہ قانونی اور آئینی سطح پر دوسرے درجے کا شہری بنانے کی لیباریٹری کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ لیکن یہ سازش محض آسام تک محدود نہیں رہے گی۔ ابھی کم از کم پانچ چھ ریاستوں کے بی جے پی صدور یہ مانگ کر رہے ہیں کہ ان کے صوبوں میں جو بنگلہ دیشی مہاجر موجود ہیں ان کو باہر کیا جائے۔ جب آسام میں بنگلہ دیشی کے نام پر ہندو حق شہریت سے محروم ہو سکتے ہیں تو پھر اتر پردیش اور بہاری مسلمان منٹوں میں بنگلہ دیشی بن سکتا ہے۔

افسوس کہ آسام میں جو ہو رہا ہے وہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔ یہاں یہ یاد دلا دوں کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہی گری تھی۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

سب سے زیادہ مقبول