دعا زہرہ کے بھاگ کر شادی کرنے پر پاکستان میں کیوں برپا ہے ہنگامہ؟

سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ معاملے میں ایک تحریری حکم گزشتہ دنوں صادر کیا تھا جس میں کہا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پتہ چلے کہ لڑکی کو اغوا کیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
سندھ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پاکستان میں ان دنوں دعا زہرہ نامی خاتون موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے گھر سے بھاگ کر شادی کی، اور اب ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اس کے والد زمین کے لالچ میں کسی دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے جو اسے منظور نہیں تھا۔ اب زہرہ اپنے شوہر ظہیر احمد کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرنا چاہتی ہے، اور دوسری طرف زہرہ کے والد قانونی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

دراصل گزشتہ 16 اپریل کو دعا زہرہ کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ زہرہ کے والد نے اپنی بیٹی کے اغوا کا الزام عائد کیا تھا اور پولیس میں اس کی اطلاع دی تھی۔ پولیس نے دعا زہرہ کو جون ماہ میں ڈھونڈ نکالا۔ اب زہرہ پہلی بار لوگوں سے مخاطب ہوئی ہے۔ دعا زہرہ کا ایک انٹرویو منظر عام پر آیا ہے جس میں اس نے کہا کہ ’’میرا اغوا نہیں ہوا تھا بلکہ میں نکاح کرنے کے لیے اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی تھی۔‘‘ دعا زہرہ نے انکشاف کیا کہ وہ 21 سالہ ظہیر احمد سے محبت کرتی ہے اور ظہیر سے شادی کرنے کے لیے وہ گھر سے بھاگی تھی۔


انٹرویو کے دوران دعا زہرہ نے کئی ایسی باتیں کہیں جس نے لوگوں کو حیران کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’ظہیر کے ساتھ میری شادی اسلامی قانون کے تحت ہوئی ہے اور اگر اب بھی گھر والے سمجھتے ہیں کہ میں نے غلطی کی ہے تو مجھے افسوس ہے۔‘‘ زہرہ گزارش بھی کرتی ہے کہ لوگ اسے اور ظہیر کو بڑا دل دکھاتے ہوئے اپنا لیں۔ اس انٹرویو کا ایک اہم حصہ وہ ہے جب زہرہ نے بتایا کہ اس کے والد نے زمین کے لالچ میں اپنے بھائی کے بیٹے سے شادی کرانے کا ارادہ کیا تھا۔

دعا زہرہ کی عمر کو لے کر بھی کئی طرح کی باتیں کہی جا رہی ہیں۔ دعا کے والد شروع سے ہی کہتے آ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے اور اس کی عمر صرف 14 سال ہے۔ دوسری طرف زہرہ کا کہنا ہے کہ وہ 18 سال کی ہو چکی ہیں اور بالغ ہیں۔


اس انٹرویو کے سامنے آنے کے بعد زہرہ کے والد نے انٹرویو لینے والی خاتون اینکر پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ قانونی کارروائی کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور انٹرویو لینے والی خاتون کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے۔ زہرہ کے والد کا کہنا ہے کہ انٹرویو میں جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے وہ غلط ہے کیونکہ بیٹی ان لوگوں کے قبضے میں ہے۔ یعنی وہ لوگ جو چاہتے ہیں وہ بیٹی زہرہ سے کہلوا رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ معاملے میں ایک تحریری حکم گزشتہ دنوں صادر کیا تھا جس میں کہا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے پتہ چلے کہ لڑکی کو اغوا کیا گیا تھا۔ زہرہ نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ کسی نے اسے اغوا نہیں کیا اور وہ اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ جانا چاہتی ہے۔ زہرہ کی گزارش پر سندھ ہائی کورٹ نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ وہ بالغ ہے اور اپنی مرضی سے کسی کے بھی ساتھ رہ سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔