'پاکستان او آئی سی کے ذریعے افغانستان کی صورتحال پر توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے'

پکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی فورم غیر ملکی نمائندوں کو طالبان کے ساتھ مواصلاتی خلاء کو پر کرنے اور ان کی بات سننے کا موقع فراہم کرے گا۔

شاہ محمود قریشی، تصویر آئی اے این ایس
شاہ محمود قریشی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے ذریعے افغانستان کی صورتحال کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہے۔ شاہ قریشی نے بدھ کے روز کہا کہ پاکستان 19 دسمبر کو ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس کے ذریعے لوگوں کی توجہ افغانستان کی صورتحال کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں شاہ قریشی نے کہا کہ افغانستان کے ذخائر زر مستحکم ہو گئے ہیں۔ ملک میں دو سال کی خشک سالی، کووڈ- 19 کی منتقلی اور سرکاری ملازمین کے لیے تنخواہوں کی عدم دستیابی نے افغانستان کے لوگوں کے لیے مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں کے موسم میں افغانستان میں انسانی بحران بڑھ سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان میں انسانی بحران انارکی کو جنم دے سکتا ہے اور انارکی دہشت گرد تنظیموں کو تقویت دے گی۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی فورم غیر ملکی نمائندوں کو طالبان کے ساتھ مواصلاتی خلاء کو پر کرنے اور ان کی بات سننے کا موقع فراہم کرے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔