کورونا کے خلاف موثر ہے روایتی ’جاپانی ناشتہ‘، جانیں کیا ہے اس کی خوبی!

محققین نے اخذ کیا ہے کہ فمنٹیٹ سویابین کی غذا اکثر جاپان میں ناشتے کے میز پر موجود ہوتی ہے جو کہ کووڈ-19 کے سبب بننے والے وائرس ’سارس-کوو-2‘ کے خلاف اثرانداز ثابت ہو سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے پایا ہے کہ فمنٹیٹ سویابین پر مشتمل غذا اکثر جاپان میں ناشتے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جو کہ کووڈ-19 کے سبب بننے والے وائرس ’سارس-کوو-2‘ کے خلاف کافی اثرانداز ثابت ہو سکتا ہے۔ نٹّو سویابین کو بیسلس سبٹلس، پودوں اور مٹی میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے ساتھ فمنٹیٹ کر کے بنایا جاتا ہے۔

ٹوکیو یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی (ٹی یو اے ٹی) کے محققین نے پایا کہ چپچپے، تیز مہک والے نٹّو سے بنا عرق سارس-کوو-2 وائرس کی خلیات کو انفیکشن کرنے کی صلاحیت کو روک سکتا ہے۔ ٹی یو اے ٹی میں انفیکشن والے مرض وبا سائنس اور انسداد ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر تیتسویا مجوتانی نے کہا کہ ’’روایتی طور پر جاپانی لوگوں نے مانا ہے کہ نٹّو ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔‘‘


مجوتانی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’حال کے سالوں میں تحقیقی مطالعات نے اس اعتماد کے سائنسی ثبوتوں کا انکشاف کیا ہے۔ اس تحقیق میں ہم نے سارس-کوو-2 پر نٹّو کے اینٹی وائرل اثرات کی جانچ کی، جو وائرس کووڈ-19 کی وجہ بنتا ہے۔‘‘ ریزلٹ بایوکیمیکل اور بایوفزیکل ریسرچ کمیونکیشنز رسالہ میں شائع کیے گئے تھے۔

ٹیم نے کھانے سے دو نٹّو عرق، ایک گرمی کے ساتھ اور ایک گرمی کے بغیر تیار کیے۔ انھوں نے مویشیوں اور انسانوں سے تجربہ گاہ میں تیار خلیات کے سیٹوں کے عرق کو نافذ کیا۔ ایک سیٹ سارس-کوو-2 سے متاثر تھا، جب کہ دوسرا سیٹ بی ایچ وی-1 سے متاثر تھا۔ جب گرمی کے بغیر بنے ناٹو عرق کے ساتھ علاج کیا جاتا ہے تو سارس-کوو-2 اور وی ایچ وی-1 دونوں ہی خلیات کو متاثر کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ حالانکہ ہیڈ-ٹریٹیڈ ناٹو ایکسٹریکٹ سے کوئی بھی وائرس متاثر نہیں ہوا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔