دیگر ممالک

نیوزی لینڈ: نمازِ جمعہ کے وقت دو مسجدوں میں اندھا دھند فائرنگ

میڈیا ذرائع کے مطابق جب گولی باری کا واقعہ پیش آیا اس وقت بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہو رہی تھی۔ اچانک ہوئی گولی باری کو دیکھتے ہوئے کسی طرح وہ واپس ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں میں نامعلوم حملہ آوروں کے ذریعہ اندھا دھند فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں درجنوں افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ایک ویب سائٹ نے اموات کی تعداد کے تعلق سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حملہ میں کم از کم 27 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق مسجدوں میں یہ حملہ جمعہ کی دوپہر ہوا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حملہ نمازِ جمعہ کے وقت کیا گیا جب مسجدوں میں مسلمان کثیر تعداد میں موجود رہتے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے ایف نے نیوزی لینڈ پولس کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملہ آور اب بھی سرگرم ہیں اور دوبارہ وہ گولی باری کر سکتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسے نیوزی لینڈ کے سیاہ دنوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ انھوں نے مسجد پر حملہ کو تشدد کا شرمناک واقعہ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ پولس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے لیکن فی الحال کوئی تفصیلی جانکاری نہیں ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جن دو مسجدوں کو حملہ آوروں نے نشانہ بنایا ہے وہ کرائسٹ چرچ شہر میں ہیں۔ مقامی پولس نے سنٹرل کرائسٹ چرچ میں لوگوں سے گھر کے اندر رہنے کی گزارش کی ہے تاکہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ اے ایف پی نے بتایا کہ گولی باری کا واقعہ جب ہوا اس وقت بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی مسجد میں داخل ہو رہی تھی۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ترجمان جلال یونس نے کہا کہ ٹیم کے زیادہ تر لوگ مسجد میں گئے تھے اور جب یہ واقعہ سرزد ہوا تو وہ اندر داخل ہونے ہی والے تھے۔ انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹیم کے رکن محفوظ ہیں لیکن ذہنی طور پر بہت پریشان ہیں۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ایک عینی شاہد لین پینیہا نے اس حملہ آور کے تعلق سے بتایا کہ وہ سیاہ کپڑے پہنے ہوئے تھا اور میں نے اس کو مسجد النور میں داخل ہوتے دیکھا۔ اس کے بعد درجنوں گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ گولی باری ہوتے ہی مسجد میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ لین نے یہ بھی کہا کہ وہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے مسجد کے اندر بھی گیا لیکن اس نے وہاں کئی لاشوں کو دیکھا اور کئی زخمی حالت میں تھے۔

سوشل میڈیا پر اس حادثہ کے متعلق ایک ویڈیو بھی ڈالا گیا ہے جس میں مسجد کے اندر کئی لوگ گرے ہوئے ہیں۔ ان پر ایک شخص گولی چلاتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق حملہ آور نے اپنے فیس بک صفحہ پر اس واقعہ کا لائیو اسٹریمنگ بھی چلایا ہے۔ بہر حال، اس وقت مقامی پولس جائے وقوع پر مستعد نظر آ رہی ہے اور وہ حملہ آور کے کسی دیگر کارروائی کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

Published: 15 Mar 2019, 9:09 AM