جموں و کشمیر پر یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان فرقہ پرست ذہنیت کی عکاس: نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کو جہالت پر مبنی قرار دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کشمیر میں ہندو بادشاہوں کے دور میں ہی سکھ اور ہندو محفوظ تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر : جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے اُس بیان کو یکسر مسترد کیاہے جس میں موصوف نے کہا ہے کہ کشمیر میں ہندو بادشاہوں کے دور میں ہی سکھ اور ہندو محفوظ تھے اور آج اقلیتیں یہاں محفوظ نہیں۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ یوگی ادتیہ ناتھ کے بیان سے فرقہ پرستی کی بو آتی ہے اور ایسے ریمارکس کی ہر سطح پر مذمت اور ملامت ہونی چاہئے۔یوگی کا یہ بیان ایک حقیر انتخابی حربہ ہے کیونکہ بھاجپا کے پاس اب فرقہ پرستی کی بنیاد پر الیکشن لڑنے کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا ہے کیونکہ مودی سرکار ہر سطح پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اجلاس میں صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران محمد شفیع اوڑی، محمد اکبر لون، پیر آفاق احمد، شوکت احمد میر، عمران نبی ڈار، ایڈوکیٹ سید عبدالرشید کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔

یو پی وزیر اعلیٰ کے بیان کو جہالت پر مبنی قرار دیتے ہوئے جنرل سکریٹری نے کہا کہ کشمیر کے عوام نے 1947میں اُس وقت آپسی بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کی شمع کو فروزاں رکھا جب پورے خطے میں فرقہ وارانہ تشدد ،قتل و غارت اور خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ اُس وقت مہاتما گاندھی کو صرف کشمیر میں روشنی کی کرن دکھائی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے پنڈتوں کی ہجرت ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ، کشمیری پنڈتوں کو یہاں سے نکالنے کے پیچھے ایک بہت بڑا منصوبہ کار فرما تھا جس کے تحت ریاست کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنا تھا۔

نیشنل کانفرنس نے نہ صرف کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کے لئے ہمیشہ کوششیں کی بلکہ ان کی زندگیاں بہتر بنانے کے لئے راحت کاری کے کئی اقدامات کئے۔علی محمد ساگر نے کہاکہ یوگی کے یہ الزامات اصل مدعے سے عوامی توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے کیونکہ بھاجپا کی طرف سے 2014میں عوامی کے ساتھ کئے گئے وعدوں میں سے ایک بھی ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے، نیز مودی سرکار تمام شعبوں میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھاجپا کو اپنے حقیر سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کشمیر پر گندی سیاست کرنا بند کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی بنیادوں پر لوگوں کو تقسیم کرکے ووٹ حاصل کرنے کے حربہ مزید چلنے والے نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر ایک گلدستے کی مانند ہے جس میں مختلف مذاہب کے لوگ بود بادش کررہے ہیں اور ہم کسی کو بھی اس گلدستے کو بکھیرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اس سے قبل جنرل سکریٹری علی محمد ساگر (ایم ایل اے خانیار) نے کولی پورہ خانیار میں مختلف سہولیات سے لیس زیر تعمیر کمیونٹی ہال کے کام کا جائزہ لیا۔

اس پروجیکٹ پر 16کروڑ روپے صرف کئے جارہے ہیں ، جس سے آس پاس کی آبادی کو مختلف نوعیت کی سہولیات بشمول جم اور علاج و معالجہ بھی فراہم ہوگا۔ اس موقعے پر ساگر نے مقامی آبادی کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کہا کہ دورِ جدید میں کمیونٹی ہال مختلف نوعیت کی سہولیات سے لیس ہونا چاہئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو مختلف نوعیت کی ضروریات ایک ہی چھت کے نیچے میسر ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ اپنی نوعیت کاپہلا اور سب سے بڑا کمیونٹی ہال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ حلقہ انتخاب خانیارمیں مزید 5بڑے پروجیکٹوں کو ہری جھنڈی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آستان عالیہ دستگیر صاحب کی وسعت اور باغ دلاور خان میں شیر کشمیر کالج کی تعمیر کے پروجیکٹ بھی زیر تعمیرہیں۔

next