دہلی، گجرات، بہار اور مدھیہ پردیش سے 2000 کے نوٹ غائب!

گجرات، بہار اور مدھیہ پردیش میں عوام کو نقدی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان تینوں ریاستوں میں اے ٹی ایم خالی ہو رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی اس کو بڑی سازش قرار دے رہے ہیں۔

By قومی آوازبیورو

دہلی، گجرات، بہار اور مدھیہ پردیش میں نقدی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ خبروں میں ایک افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ریزرو بینک کی طرف سےنقدی کا بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے یہ حالات پید ہوئے ہیں اور اسے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ریاستی سرکاریں بھی آر بی آئی سے رابطہ میں ہیں لیکن مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے اس معاملے میں کسی بڑی سازش کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2000 کے نوٹ غائب ہو رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مرکز سے بات کی ہے اور وہ اس معاملہ کو سختی سے نمٹے گی۔

مدھیہ پردیش کے شاجاپور میں کسانوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے کہا ’’نوٹ بندی سے پہلے15 لاکھ کروڑ روپے کی نقدی چلن میں تھی۔ نوٹ بندی کے بعد یہ بڑھکر16.5 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی لیکن بازار سے 2000 کے نوٹ غائب ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’دو۔دو ہزار کے نوٹ کہاں جا رہے ہیں کون دبا کر رکھ رہا ہے، کون نقدی کی کمی پیدا کر رہا ہے۔ یہ ایک سازش ہے۔ ایسا اس لئے کیا جا رہا ہے تاکہ پریشانی پیدا ہو۔ حکومت اس سے سختی سے نمٹے گی‘‘۔

ادھر بہار میں بھی نقدی کا زبردست بحران ہے۔ ایک اخبار سے بات چیت میں کانگریس قانون ساز اسمبلی کے رہنما سدانند سنگھ نے نقدی کی کمی کے لئے مودی حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار اور جھارکھنڈ میں اسٹیٹ بینک کے 110 کرنسی چیسٹ ہیں جن کی صلاحیت 12 ہزار کروڑ روپے رکھنے کی ہے لیکن یہاں نقدی کی دستیابی محض ڈھائی ہزار کروڑ روپے کی ہے یعنی مطلوبہ صلاحیت سے80 فیصد کم نوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارچ 2018 میں کرنسی چیسٹوں کی بیلنس شیٹ کے مطابق بینکوں میں 2000 کے نوٹوں کی تعداد کل رقم کی اوسطاً 10 فیصد ہی رہ گئی ہے اور ان کی 50 فیصد حصہ داری ہے۔ اس درمیان بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نے بھی نقدی کی کمی کا مدا اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’بہار میں گزشتہ کئی روز سے اے ٹی ایم بالکل خالی ہیں۔ لوگوں کو بڑے بحران کا سامنا ہے۔ بینک لوگوں کو ان کی ضرورت کے حساب سے پیسہ واپس نہیں کر رہے ہیں۔ نوٹ بندی گھوٹالہ کا اثر اتنا وسیع ہے کہ بینکوں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے ہیں۔ نوٹ سرکیولیشن سے غائب ہیں‘‘۔

دہلی کے کئی علاقوں سے اسی طرح کی خبریں آ رہی ہیں کہ اے ٹی ایم میں کیش نہیں ہے اور کچھ اے ٹی ایم سے یہ میسج آ رہا ہے کہ چار ہزار سے زیادہ نہیں نکال سکتے۔

ادھر مودی جی کے گجرات سے خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں بھی نقدی کا بحران ہے۔ قریب دس روز قبل یہ پریشانی شمالی گجرات سے شروع ہوئی لیکن اب پوری ریاست میں اس کا اثر نظر آ رہا ہے۔ یہاں تک کہ بینکوں نے نقدی نکالنے کی حد طے کر دی ہے۔ زیادہ تر اے ٹی ایم میں پیسہ نہیں ہے۔ شادی اور کسانوں کو فصل کی ادائیگی کا وقت ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔