یروشلم کا فلسطینی گورنر اٹھارہ ماہ میں ساتویں مرتبہ گرفتار

اسرائیلی حکام نے خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے نامزد کردہ یروشلم کے گورنر عدنان غیث کو پھر گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصے میں یہ ساتواں موقع ہے کہ غیث کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

ڈی. ڈبلیو

یروشلم میں اسرائیلی پولیس کے ترجمان مِکی روزن فَیلڈ نے بتایا کہ عدنان غیث کو ایسی مبینہ 'غیر قانونی سرگرمیوں‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جن کا تعلق کورونا وائرس کی وبا سے تھا۔ انہیں گزشتہ سال بھی اسرائیلی پولیس نے کم از کم چھ مرتبہ گرفتار کر لیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو گردش کرنے لگی، جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کسی طرح پولیس عدنان غیث کو مشرقی یروشلم میں ان کے گھر سے گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے جا رہی تھی اور انہوں نے اپنے ہاتھوں پر ربر کے حفاظتی دستانے پہن رکھے تھے۔

گرفتاری کے بعد عدنان غیث کے وکیل رامی عثمان نے بتایا کہ پولیس پوچھ گچھ کے لیے غیث کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی ہے اور ان کے حراست میں لیے جانے کی بنیادی وجہ ان کی کورونا وائرس کی وبا سے متعلق سرگرمیاں بنیں۔

'محافظہ القدس‘ کے گورنر

اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیلی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد اس نے شہر کے اس مقبوضہ حصے کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کرنے کا وہ حکومتی فیصلہ بھی کر لیا تھا، جسے بین الاقوامی برادری نے آج تک تسلیم نہیں کیا۔

فلسطینی خود مختار انتظامیہ یروشلم کے اس مقبوضہ مشرقی حصے کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتی ہے۔ اسی لیے اس نے شہرکے اس حصے کو 'محافظہ القدس‘ کا نام دے کر عدنان غیث کو وہاں اپنا گورنر نامزد کر رکھا ہے۔

لیکن دوسری طرف اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس نے اس پورے شہر میں فلسطینی خود مختار انتظامیہ کی طر ف سے ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر قانوناﹰ پابندی بھی لگا رکھی ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کی کابینہ میں یروشلم سے متعلقہ امور کا ایک باقاعدہ وزیر بھی ہوتا ہے جبکہ یروشلم کے فلسطینی گورنر کا دفتر الرام میں واقع ہے، جو اس دیوار کے دوسری طرف ایک مقام کا نام ہے، جو یروشلم کے تاریخی شہر اور مقبوضہ مغربی کنارے کو علیحدہ کرتی ہے۔