پورے اترپردیش میں ایک مسلم خاتون نہیں ملی یو پی خاتون کمیشن کے لئے

نوتشکیل یوپی خاتون کمیشن میں نہ ہی مسلم طبقہ سے کسی خاتون کو شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی دلت طبقہ سے۔ یوگی حکومت کے اس قدم سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم اور دلت خواتین کے تئیں بی جے پی کی ہمدردی محض دکھاواہے۔

گزشتہ چار سالوں سے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی بڑی بڑی باتیں ہوتی رہی ہیں لیکن زمین پر اس کی کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔ اتر پردیش میں یوگی حکومت کے ڈیڑھ سال سے زیادہ گزر جانے کے بعد اب جا کر ریاستی خاتون کمیشن تشکیل دیا گیا ہے ۔ نوئیڈا کی سابق رکن اسمبلی وملا باتھم کو اس کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چلڈرن کمیشن بھی تشکیل دی گئی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ عہدہ وملا باتھم کے لئے کانٹوں کے تاج سے کم نہیں ہے ۔کیونکہ یہ ایک ایسا وقت ہے جب اتر پردیش کی یوگی حکومت میں خواتین کے تئیں مظالم لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔ دیوریا، پرتاپ گڑھ اور ہردوئی میں وومن شیلٹر ہوم میں سے خواتین غائب ہوئی ہیں جس سے ایک ہنگامہ برپا ہے۔ علاوہ ازیں ریاست میں ایک اندازے کے مطابق عصمت دری کے روزانہ 52 واقعات رونما ہو رہے ہیں اور خود برسراقتدار پارٹی کے لوگ سوالوں کے گھیرے میں ہے۔

لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے ۔ کمیشن کی سابق رکن رولی تیواری مشرا نے تو حکومت کی غیر جانبداری کی منشا پر ہی سوال اٹھا دئیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو لکھے ایک خط میں رولی نے کہا ہے کہ ’’ایک طرف تو حکومت تین طلاق اور حلالہ جیسے ایشوز پر مسلم خواتین کی ہمدردی بٹورنے میں مصروف ہے جب کہ دوسری طرف ریاستی خاتون کمیشن میں ایک بھی مسلم خاتون کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ کیا 4 کروڑ کی آبادی والے اترپردیش میں انھیں ایک بھی قابل مسلم خواتین نہیں ملی۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ کمیشن میں کل اراکین کی تعداد 25 ہے جب کہ سربراہ اور دو نائب سربراہ بھی ہیں۔

رولی تیواری کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لوگ مسلم خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے کی فرضی بات کرتے ہیں۔ اب خاتون کمیشن کی تشکیل میں ان کا اصلی چہرہ ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ غور طلب ہے کہ اتر پردیش میں 16 مہینے بعد خاتون کمیشن کی تشکیل ہوئی ہے۔ رولی کے مطابق اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت خواتین کے تئیں کتنی زیادہ حساس ہے۔

کمیشن کی ایک دیگر سابق رکن ناہید لاری خان کہتی ہیں کہ ’’انھیں اس بات پر بالکل حیرانی نہیں ہے کہ کمیشن میں ایک بھی رکن مسلمان نہیں ہے۔ یہی بی جے پی کی ہندوتوا پالیٹکس ہے، بی جے پی نے کسی مسلمان کو ٹکٹ بھی نہیں دیا تھا۔ ویسے ان سے مسلم خواتین کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرنا بے معنی ہے۔ یہ تو خود ہندو بچیوں کے ساتھ ہوئے مظالم پر بھی نہیں بول پا رہے ہیں۔‘‘

اسی طرح کے کئی سوالات کمیشن میں دلت خواتین کی نمائندگی سے متعلق بھی اٹھ رہے ہیں۔ کمیشن کی نومنتخب سربراہ وملا باتھم مانتی ہیں کہ خواتین پر مظالم کے واقعہ میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے متعلق اقدام کیے جائیں گے۔ مسلم خواتین کی نمائندگی سے متعلق وہ کہتی ہیں کہ مسلم اراکین نہ ہونے سے کمیشن کے کام پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

کمیشن کی سابق سربراہ زرینہ عثمانی سے جب اس سلسلے میں ’قومی آواز‘ نے رائے جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے کہا کہ ’’ویسے تو کمیشن کے کاموں پر ذات اور فرقہ وارانہ اسباب سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن مسلم معاملوں کا ایک ماہر ضرور ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلاق و حلالہ جیسے معاملوں پر حکومت دلچسپی لے رہی ہے اور اس سے منسلک معاملوں کی شکایتیں بھی آ رہی ہیں۔ جو خواتین طلاق اور حلالہ سے ناواقف ہیں وہ اس سے متعلق سماعت کیسے کر پائیں گی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ویسے بھی کمیشن میں دلت اور مسلم خواتین کی شکایت سب سے زیادہ آتی ہیں اس لیے اگر ان کے اپنے سماج سے کوئی ہوتا ہے تو سمجھوتہ کرانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

دیوریا کے ’ماں وندھیاواسنی آشرے استھل‘ میں ہوئے شرمناک واقعہ کے بعد پرتاپ گڑھ اور ہردوئی میں بھی شیلٹر ہوم سے خواتین کے غائب ہونے کی اطلاع ہے۔ وملا باتھم کے مطابق اس کے لیے انھوں نے ایک ٹیم بنا دی ہے جو ہر ایک شیلٹر ہوم کی جانچ کرے گی۔

غور طلب ہے کہ فروری میں کمیشن کی سابق سربراہ زرینہ عثمانی کی مدت کار ختم ہو گئی تھی اور اس وقت سے خاتون کمیشن کے کام کی رفتار مدھم پڑ گئی تھی۔ ایڈیشنل چیف سکریٹری رینوکا کمار نے جمعرات کو خاتون کمیشن کے نئے سربراہ اور رکن کی تقرری کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ وہی رینوکا کمار ہیں جو دیوریا واقعہ میں جانچ افسر بنائی گئی ہیں جب کہ ان کے طریقہ کار پر بھی لگاتار سوال کھڑے کیے جاتے رہے ہیں۔

نئے خاتون کمیشن میں رشمی جیسوال، ششی بالا بھارتی، منورما شکلا، کمد شریواستو، سنیتا بنسل، اوشا رانی ، انیتا سچان، انامیکا چودھری، نرملا دیکشت، رام سکھی کٹھیریا، مینا چوبے، پونم کپور، نرملا دویدی، سنگیتا تیواری، ششی موریہ، سمن سنگھ، اونی سنگھ، راکھی تیاگی، مینا کماری، کنچن جیسوال، پربھا گپتا کو شامل کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پریامدا تومر، انیتا سنگھ، سمن چترویدی، اندرواس سنگھ کی مدت کار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کمیشن میں اراکین کی تعداد دو نائب سربراہ سمیت اب 27 ہو گئی ہے۔

خاتون دلت لیڈر سنتوش دیوی کہتی ہیں کہ خاتون کمیشن میں شامل ناموں کو پڑھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کن لوگوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دلتوں کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ کمیشن کی تشکیل میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں ہے کہ اس میں سبھی طبقات کو نمائندگی دی جائے، لیکن خاتون کمیشن میں سب سے زیادہ شکایتیں دلت اور مسلم خواتین کی پہنچتی ہیں اور اگر ان کےد رمیان سے نمائندگی ہوتی ہے تو مسائل کا حل نکالنا آسان ہوتا ہے۔

کمیشن کی نئی سربراہ وملا باتھم نوئیڈا سے رکن اسمبلی رہی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ ’’دلت اور مسلم خواتین بھی ہمارے ہی سماج کا حصہ ہیں۔ ہم ان کے مسائل کا حل ضرور نکالیں گے۔‘‘

سب سے زیادہ مقبول