خبریں

اعلیٰ ذاتوں کو ریزرویشن سے متعلق ’آئینی ترمیمی بل‘ منظور، لوک سبھا غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتوں نے اس بل کو حمایت دی، حالانکہ اے آئی اے ڈی ایم کے نے اس بل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

8 Jan 2019, 10:05 PM

اعلیٰ ذاتوں کو ریزرویشن سے متعلق ’آئینی ترمیمی بل‘ لوک سبھا سے منظور، اے آئی اے ڈی ایم کے کا واک آؤٹ

اقتصادی طور سے کمزور اعلیٰ ذاتوں سے وابستہ لوگوں کو 10 فیصد ریزرویشن سے متعلق آئین کا 124 واں ترمیمی بل آج لوک سبھا سے منظور کر لیا گیا۔ لوک سبھا سے منظوری کے بعد اس اس بل کو کل راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا، جس کے لئے سرمائی اجلاس میں ایک دن کی توسیع کی گئی ہے۔ قبل ازیں اپوزیشن کی تقریباً تمام جماعتوں نے اس بل کو حمایت دی، حالانکہ اے آئی اے ڈی ایم کے نے اس بل کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

بل کے لئے ہوئی ووٹنگ کے دوران 232 ووٹ بل کے حق میں جبکہ 3 ووٹ اس بل کے خلاف پڑے۔ اس بل کی منظوری کے بعد لوک سبھا کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔

8 Jan 2019, 9:17 PM

سیاسی فائدے کے لیے حکومت نے پیش کیا ریزرویشن بل :اپوزیشن

نئی دہلی: اپوزیشن پارٹیوں نے آج الزام لگایا ہے کہ حکومت اقتصادی طورپر کمزور طبقے کے لوگوں کو ریزرویشن کا فائدہ پہنچانے والا بل جلدبازی میں پیش کیا ہے اور اس کے ذریعہ اس کا مقصد عام انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

اقتصادی طورپر کمزور لوگوں کو سرکاری ملازمتوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لیے 10 فیصدریزرویشن دینے والے ’124ویں آئینی ترمیمی بل 2019‘ پر لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے رکن کے وی تھامس نے الزام لگایاکہ حکومت نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مقصدسے یہ قدم اٹھایاہے۔ انھوں نےکہاکہ حکومت اس طرح کا بل لاکر ایک طرح سے پارلیمنٹ پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسکی یہ کوشش جمہوریت پر ظلم ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ حکومت پارلیمنٹ کو مناسب عزت نہیں دے رہی ہے۔ وہ جلدبازی میں اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کےلیے یہ بل لائی ہے۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس بل کے خلاف نہیں ہے لیکن اسے جوانئٹ پارلیمنٹری کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے اور ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں بحث کے لیے لایا جانا چاہئے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کہاکہ یہ بل کانگریس کا امتحان لینے والا ہے ۔کانگریس نے اپنے منشور میں کہاہے کہ وہ اقتصادی طورپر کمزور طبقے کے لوگوں کو ریزرویشن دینے کے حق میں ہے اس لیے اب اسے اس بل کو منظور کرانے میں مددکرنی چاہئے ۔انھوں نے کہاکہ یہ بل غریبوں کے مفاد میں ہے اس لیے کاگریس ہی نہیں ،سبھی پارٹیوں کے ارکان کو غریبوں کی مددکے لیے آگے آکر اسے منظور کرانا چاہئے ۔انکا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاملہ پر کسی بھی پارٹی کو صرف اعلان تک محدود نہیں رہنا چاہئے ۔یہ سماج کے سبھی طبقوں کو یکساں مواقع دینے اور سب کی ترقی کے بنیادی اصول پر مبنی ہے۔

اے آئی اے ڈی ایم کے کے تھمبی دورائی نے کہاکہ ریزرویشن صرف سماجی طور پر پسماندہ لوگوں کو ہی دیاجانا چاہئے۔تمل ناڈو میں 90فیصد لوگ سماجی اعتبار سے پسماندہ ہیں ۔انکا تعلق خود چوتھے ورن سے ہے ۔اس برادری کے لوگوں کو ہزاروں سال سے دباکر رکھا گیا،اس لیے انھیں سماجی حقوق ملنے چاہیئیں ۔انھیں ریزرویشن کا فائدہ پہنچا کر اقتصادی طورپر مضبوط بنانا ضروری ہے اس لیے سماجی اعتبار سے پسماندہ طبقے کے لوگوں کے لیے ریزرویشن کی حد بڑھائی جانی چاہئے۔

ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے نے کہاکہ حکومت سیاسی اغراض کی بناکر یہ بل لیکر آئی ہے ۔انھوں نے کہاکہ اس وقت ملک کے دیگر مسائل پر بحث ہونی چاہیے تھی ،لیکن عام انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے حکومت اس بل کو سیاسی آلہ کار کے طورپر استعمال کررہی ہے۔

(یو این آئی)

8 Jan 2019, 9:12 PM

ریزرویشن پر بحث: صرف ریزرویشن دینے سے نوکری نہیں ملتی، کشواہا

حال ہی میں این ڈی سے علیحدہ ہونے والی آر ایل ایس پی کے صدر اوپیندر کشواہا نے بھی بل کی حمایت کی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ریزرویشن دینے بھر سے ہی نوکری نہیں ملتی اور نہ ہی ریزرویشن سے اقتصادی طور پر خوشحالی آتی ہے۔

انہوں نے حکومت سے اعلیٰ ذاتوں کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کا جواز بھی پوچھتے ہوئے کہا کہ اب پرائیویٹ نوکری میں بھی ریزرویشن دینے پر غور کرنا چاہئے۔

8 Jan 2019, 8:29 PM

ریزرویشن پر بحث: مودی حکومت کا یہ وعدہ بھی کہیں جملہ ہی نہ ہو، دپیندر ہڈا

لوک سبھا میں اقتصادی طور سے کمزور طبقات کے لوگوں کو 10 فیصد ریزرویشن سے متعلق آئین کا 124 واں ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش ہو چکا ہے۔ بل پر لوک سبھا میں بحث جاری ہے۔ لوک سبھا سے منظوری کے بعد اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا، جس کے لئے سرمائی اجلاس میں ایک دن کی توسیع کی گئی ہے۔

بل پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دپیندر ہڈا نے کہا کہ ہم بل کی حمایت کر رہے ہیں لیکن حکومت کی نیت پر شک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنا اہم بل حکومت اجلاس کے آخری دن کیوں لے کر آ رہی ہے، اس حکومت میں کسی کو بھی اس بل کا فائدہ نہیں ملنے والا۔ ہڈا نے کہا کہ ہریانہ میں کانگریس کی حکومت جنرل کٹیگری کو ریزرویشن دینے کا کام پہلے کر چکی ہے اور یہ ملک میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بی جے پی کے لوگ ریزرویشن دینے کی مخالفت کر رہے تھے۔

8 Jan 2019, 4:09 PM

این آر سی بل: لوک سبھا سے کانگریس اور ترنمول کانگریس نے واک آؤٹ کیا

بی جے پی کے ذریعہ لوک سبھا میں این آر سی بل پیش کیے جانے کے خلاف کانگریس کے ساتھ ساتھ ترنمول کانگریس کے اراکین نے بھی واک آؤٹ کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے شہریت ترمیمی بل سے متعلق اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ابھی مزید خامیاں ہیں اس لیے دوبارہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ آئینی معاملہ ہے اور اس پر ٹھیک طرح غور و خوض کیا جانا ضروری ہے۔

دوسری طرف ترنمول کانگریس لیڈر سوگت رائے نے مودی حکومت کے ذریعہ این آر سی بل پیش کیے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں بیٹھ کر راج ناتھ سنگھ کو یہ پتہ نہیں کہ بل سے پورے شمال مشرق میں آگ لگ جائے گی۔ سوگت رائے نے مزید کہا کہ ہم اس این آر سی بل کے خلاف ہیں کیونکہ یہ بل بنٹوارا کرنے والی ہے۔

8 Jan 2019, 3:09 PM

مظفر پور: مقامی عدالت نے انوپم کھیر کے خلاف ایف آر درج کرنے کا حکم صادر کیا

بہار کے مظفر پور میں مقامی عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ انوپم کھیر اور دیگر 13 کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جائے۔ یہ حکم ایڈووکیٹ سدھیر اوجھا کی فائل کردہ عرضی کے پیش نظر سنایا گیا ہے جو کہ فلم ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ کے خلاف داخل کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ’دی ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر‘ آئندہ 11 جنوری کو ریلیز ہونے والا ہے اور اس سے پہلے ہی کافی متنازعہ ہو چکا ہے۔ اس فلم کے تعلق سے 9 جنوری کو دہلی ہائی کورٹ میں بھی ایک سماعت ہونی ہے۔

8 Jan 2019, 2:09 PM

جموں و کشمیر: زبردست برف باری سے سردی کی شدت بڑھی

وادی کشمیر میں بھاری برف باری کے بعد سردی کی شدت تھمنے کا نام ہی نہیں لےرہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں سردی کی شدت منگل کے روز بھی برابر جاری رہی اور اگلے 24گھنٹوں کے دوران سردی کی شدت میں کمی کی کوئی توقع نہیں ہے۔ برف پوش پہاڑوں سے اٹھ رہی سرد ترین لہروں کے باعث وادی کی تمام چھوٹی بڑی آبگاہیں منجمد پائی گئی اور گھروں کے اندر وباہر نصب نل بھی جم گئے ہیں۔

ادھر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے رہنے کی وجہ سے سڑکوں پر کہرا لگا رہتا ہے جس کے نتیجے میں صبح کے وقت گاڑیوں کو چلنے پھرنے میں گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دریں اثنا متعلقہ محکمہ کے مطا بق ریاست کی گرمائی راجدھانی سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا جبکہ وادی کے مشہور دہر سیاحتی مقامات پہلگام اور گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی 4.9 ڈگری سینٹی گریڈ اور منفی3.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا۔ لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا جبکہ کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی15.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا۔

ریاست کی سرمائی راجدھا نی جموں میں کم سے کم درجہ حرارت7.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا جبکہ کٹرہ میں کم سے کم درجہ حرارت 7.4 ڈگری سینٹی گریڈ، بٹوٹ میں 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ، بانہال میں 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ اور بھدرواہ میں 0.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڑ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 11 جنوری سے وادی میں مزید درمیانی درجے یا بھاری بارشوں یا برف باری کی توقع ہے۔

8 Jan 2019, 1:09 PM

شہریت ترمیمی بل کے خلاف ٹی ایم سی اراکین پارلیمنٹ کا دلچسپ احتجاجی مظاہرہ

مودی حکومت کے ذریعہ شہریت ترمیمی بل 2016 پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے خلاف ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ نے آج پارلیمنٹ احاطہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ کافی دلچسپ انداز کا تھا کیونکہ ایک ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ نے چہرے پر پی ایم نریندر مودی کا ماسک پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں ڈنڈا لے کر بقیہ اراکین پارلیمنٹ کی پٹائی کر رہے تھے۔ جن اراکین پارلیمنٹ کی پٹائی ہو رہی تھی وہ اپنے ہاتھ میں پلے کارڈ لیے ہوئے تھے جس میں لکھا تھا ’’مجھے میرے دیش سے مت نکالو۔‘‘ یہ بالکل ایک ڈرامے کی طرح تھا جس میں ٹی ایم سی اراکین پارلیمنٹ خاموشی کے ساتھ مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے اور شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کر رہے تھے۔

8 Jan 2019, 12:09 PM

سی بی آئی معاملہ: سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو دیا ’زور کا جھٹکا‘، آلوک ورما کو راحت

سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو جھٹکا دیتے ہوئے آلوک ورما کو بڑی راحت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی حکومت کا آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے کا فیصلہ غلط تھا۔ عدالت عظمیٰ کے ذریعہ مرکز کے فیصلے کو منسوخ کیے جانے کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ آلوک ورما ایک بار پھر سی بی آئی چیف بنے رہیں گے۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ حکومت کو سی بی آئی چیف آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے کا اختیار نہیں ہے، صرف سلیکٹ کمیٹی کے پاس ہی یہ اختیار موجود ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال آلوک ورما پالیسی پر مبنی کوئی بڑا فیصلہ نہیں لے سکیں گے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’یہ پورا معاملہ وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور چیف جسٹس آف انڈیا کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس جائے گا اور وہی آگے کا فیصلہ کرے گی۔‘‘ عدالت کے مطابق آلوک ورما کے خلاف سی وی سی کی رپورٹ کو کمیٹی دیکھے گئے اور ایک ہفتے کے اندر طے کرے گی کہ آلوک ورما کو عہدہ سے ہٹایا جائے یا نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آلوک ورما نے مودی حکومت کے ذریعہ ان کے اختیارات چھیننے اور جبراً چھٹی پر بھیجنے کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ حکومت نے آلوک ورما اور سی بی آئی کے خصوصی ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے درمیان تنازعہ برسرعام ہونے کے بعد یہ کارروائی کی تھی۔ حالانکہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی آج چھٹی پر تھے اور ان کی غیر موجودگی میں جسٹس سنجے کشن کول نے فیصلہ پڑھا۔

8 Jan 2019, 11:09 AM

کیرالہ: ذاتی املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے آرڈیننس لانے پر غور

تروواننت پورم: کیرالہ حکومت ہڑتال، بند اور فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ذاتی املاک کو نقصان سے بچانے کے لئے ایک آرڈیننس لانے پر غور و خوض کررہی ہے۔ حکومت نے احتجاجی مظاہروں کے دوران نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں پر پابندی لگانے کےپیش نظر ’’ذاتی ملکیت کے نقصان کی روک تھام اور معاوضہ آرڈیننس 2019‘‘ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلی پنارائی وجين نے پیر کی شام کہا کہ کابینہ نے گورنر جسٹس (ریٹائرڈ) پی سداشیوم سے آرڈیننس لانے کی سفارش کی ہے۔ اس آرڈیننس میں پانچ سال قید اور جرمانہ کی سزا ہے۔ اگر نقصان دھماکہ یا آگ زنی کی وجہ سے ہوتا ہے تو ملزم کو دس سال قید یا عمرقید کی سزا ہوسکتی ہے۔ ایسے معاملوںمیں ملزم کو استغاثہ کی سماعت اور نقصان کی تلافی کے لئے 50 فیصد کی بینک گارنٹی دینے کے بعد ہی ضمانت دی جائے گی۔یہ آرڈیننس حکومت کی ان لوگوں سے معاوضہ لینے کے لئے قانونی کارروائی شروع کرنے میں مدد کرے گا جو عوامی املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

8 Jan 2019, 9:08 AM

ٹریڈ یونین کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال شروع

ٹریڈ یونین کے 48 گھنٹے کے بلائے گئے ہڑتال کے پیش نظر کئی مقامات پر سیکورٹی انتظامات سخت ہیں۔ سی پی ایم نے ٹریڈ یونین کی اس ہڑتال کو حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے اور کولکاتا سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق مقامی پولس نے کئی سی پی ایم کارکنان کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔ مودی حکومت سے ناراض ٹریڈ یونین کارکنان نے اپنے مطالبات کے پیش نظر 8 اور 9 جنوری کو اس ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور کچھ دیگر تنظیمیں بھی اس کی حمایت میں اتر آئی ہیں۔ اس ہڑتال کا اثر بینک سیکٹر پر بری طرح پڑتال ہوا نظر آ رہا ہے، حالانکہ ایس بی آئی ذرائع کے مطابق ہڑتال کا اس بینک کے کام کاج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔