گجرات بی جے پی کے نائب صدر پر عصمت دری کا الزام

گجرات بی جے پی کے نائب صدر اور سابق رکن اسمبلی جینتی بھانوشالی نے عصمت دری کا الزام عائد ہونے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

خواتین کے تحفظ پر جملہ بازی کرنے والی بی جے پی کے ایک بڑے رہنما پر عصمت دری کا سنگین الزام لگایا گیا ہے۔ بی جے پی کے نائب صدر جینتی بھانو شالی پر سورت کی ایک لڑکی نے یہ الزام عائد کیا ہے۔ الزام عائد ہونے کے بعد بھانوشالی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ پولس نے معاملہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔

سورت کی رہائشی 21 سالہ لڑکی نے سورت کے پولس کمشنر کو تحریری شکایت پیش کر کے گجرات بی جے پی کے نائب صدر جینتی بھانوشالی پر عصمت دری کا الزام عائد کیا ہے۔

انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے مطابق چار صفحات پر مشتمل شکایت کو کپودرا پولس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ آگے کی جانچ کی جا سکے۔ شکایت کے مطابق متاثرہ لڑکی 2017 میں بھانوشالی کے رابطہ میں آئی تھی۔ اس وقت وہ 12 ویں کلاس پاس کرنے کے بعد ایک فیشن ڈیزائنگ کورس کرنے کی خواہشمند تھی اور کسی اچھے کالج میں داخلہ لینے کی کوشش کررہی تھی۔ لڑکی کا دعوی ہے کہ بھانوشالی نے اسے یقین دہانی کرائی تھی کہ اسے احمد آباد کے کسی کالج میں داخلہ دلوا دیں گے۔ شکایت کے مطابق، گذشتہ سال نومبر میں بھانوشالی نے اسے احمدآباد بلایا اور کار سے گھاندھی نگر لے کرگئے۔ شکایت دہندہ کا الزام ہے کہ راستے میں کار ایک سنسان مقام پر لے گئے اور اس کی ساتھ عصمت دری کی۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ بی جے پی رہنما نے متاثرہ سے کہا کہ وہ مخالفت نہ کرے کیوں کہ داخلہ لینے کے لئے نہ جانے کتنی لڑکیاں ایسا کرتی ہیں۔ لڑکی کے مطابق بھانوشالی کے پاس ایک چاقو بھی تھا۔ وہیں بی جے پی رہنما کے مسلح محافظ اور ڈرائیور نے اس کی ویڈیو بنا لی۔ لڑکی کا الزام ہے کہ واقعہ کے بعد بھانوشالی نے بلیک میل کر کے کئی بار اس کا ریپ کیا۔ متاثرہ کے مطابق اس سال مارچ میں بھونو شالی نے پھر اسے احمدآباد بلایا، وہ وہاں سے دہلی چلے گئے اورجانے سے قبل ڈرائیور سےکہا کہ متاثرہ کو ایک ہوٹل میں چھوڑ دے۔ متاثرہ کے مطابق ہوٹل میں بھانوشالی کے ڈرائیور نے بھی اس کا ریپ کیا۔

ادھر بھانوشالی نے اپنا استعفی گجرات بی جے پی کے صدر جیتو واگھانی کو سونپ دیا ہے۔ انہوں نے خود پر عائد الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر بی جے پی کے ترجمان بھرت پنڈیا نے کہا کہ حقائق کی بنیاد پر قانون اپنا کا م کرے گا۔

انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں سورت کے پولس کمشنر ستیش شرما نے کہا ’’متاثرہ پولس اسٹیشن نہیں آئی ہے، بلکہ اس نے مرکز میں شکایت دی ہے۔ ابھی اس معاملہ میں ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ ‘‘ پولس کمشنر کے مطابق پہلے متاثرہ سے رابطہ کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ جو الزامات اس نے عائد کیے ہیں ان پر قائم ہے یا نہیں، تصدیق کرنے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

سب سے زیادہ مقبول