میرٹھ میں دلتوں کا خون اُبال پر، کبھی بھی ہو سکتا ہے وبال

دلتوں پر ہو رہے لگاتار مظالم سے دلت طبقہ میں مایوسی کا عالم ہے اور انھیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے دہلی میں بیٹھی مودی حکومت اور لکھنؤ میں بیٹھی یوگی حکومت کو ان پر ہو رہے ظلم کی کوئی پروا نہیں۔

میرٹھ: اتر پردیش کے مغرب واقع سب سے اہم کہے جانے والے میرٹھ میں دلتوں میں ناراضگی لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ دلتوں پر مظالم کے یکے بعد دیگرے پیش آتے واقعات سے یہاں کے حالات دھماکہ خیز بن گئے ہیں۔ جو ماحول بن رہا ہے اس میں میرٹھ دوسرا سہارنپور بنتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ اگر جلد ہی کوئی مثبت قدم نہ اٹھایا گیا تو یہاں کبھی بھی ٹھاکر بنام دلت تشدد پیدا ہو سکتا ہے۔

تازہ معاملہ میرٹھ کے جی ٹی روڈ واقع اُلدے پور نامی گاؤں کا ہے جہاں ٹھاکروں نے دلتوں پر حملہ کر کے ایک دلت نوجوان کا قتل کر دیا۔ مہلوک نوجوان روہت بی اے کا طالب علم تھا۔ اس کی ایک دن پہلے ٹھاکر لڑکوں نے پٹائی کی تھی جس کی شکایت لے کر مہلوک کے والد ونود گاؤں کے پردھان نریندر کو ساتھ لے کر مار پیٹ کرنے والے نوجوانوں کے والد سے شکایت کرنے پہنچے تھے۔ اس کے بعد وہ مزید ناراض ہو گئے اور روہت و اس کے والد پر لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ اس کے بعد روہت کو بری طرح پیٹا گیا جس سے اس کی موت ہو گئی۔ ٹھاکر نوجوانوں سے روہت کا تنازعہ کانوڑ یاترا میں جھانکی دیکھنے سے متعلق ہوا تھا۔ واقعہ جمعرات کو ہوا۔ اس کے بعد گاؤں کو چھاؤنی بنا دیا گیا۔ گاؤں میں نصف سے زیادہ آبادی دلتوں کی ہے۔دلت نوجوان کے اس قتل کے بعد سے علاقے میں زبردست کشیدگی ہے۔

میرٹھ میں لگاتار دلتوں پر تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ ان واقعات میں میئر انتخاب کے بعد بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ غور طلب ہے کہ میرٹھ میونسپل کارپوریشن انتخاب میں بی ایس پی کے سابق رکن اسمبلی یوگیش ورما کی بیوی سنیتا ورما نے بی جے پی کی کانتا کردم کو زبردست شکست دی تھی۔ اب کانتا کردم راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ بنا دی گئی ہیں۔ ماہرین مانتے ہیں کہ اس ایک انتخاب کے بعد سے دلتوں اور اپوزیشن میں دوریاں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ میئر سنیتا ورما کے شوہر یوگیش ورما فی الحال جیل میں ہیں اور ان پر راسوکا لگا ہوا ہے۔ حال ہی میں پیشی پر آئے یوگیش ورما بدلا لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ زور آور لیڈر یوگیش ورما ہستنا پور سے رکن اسمبلی رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی میرٹھ کے ہی ایک گاؤں پریکشت گڑھ میں ایک دلت نوجوان کے ساتھ مار پیٹ کر جبراً بھیم راؤ امبیڈکر کو گالی دلوانے کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد سے وہاں کشیدگی ہے۔ حالانکہ پولس نے اس کے بعد تینوں ملزم نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ اس گرفتاری کے بعد یہاں سیاست گرما گئی تھی اور دہلی سے کانگریس نمائندہ وفد بھی یہاں پہنچا۔ ابھی یہ معاملہ مدھم بھی نہیں پڑا تھا کہ مزید ایک سنگین واقعہ رونما ہوا۔ 7 اگست کو میرٹھ میں ہو رہی دلت مخالف واقعات کو لے کر کانگریس نمائندہ وفد نے یہاں دورہ کیا تھا۔

کانگریس کے ایس سی/ایس ٹی چیئرمین نتن راؤت بتاتے ہیں کہ ’’بی جے پی حکومت بنیادی طور پر دلت مخالف ہے اور اتر پردیش کی یوگی حکومت میں دلتوں پر مظالم کے واقعات میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے۔ میرٹھ کو دوسرا سہارنپور بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔ ’بھارت بند‘ کے معاملے پر یہاں سینکڑوں دلت نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جو اب بھی جیل میں بند ہیں۔ دلت لیڈروں پر غلط طریقے سے راسوکا لگایا گیا ہے۔ پولس کے اہم عہدوں پر ایک خاص ذات کے لوگ ہیں جو دلتوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ واضح ہو کہ اُلدے پور وہی گاؤں ہے جہاں ’بھارت بند‘ کے دوران دلتوں اور ٹھاکروں میں پہلے بھی تصادم ہو چکا ہے اور اس وقت یہاں امبیڈکر کے مجسمہ کے معاملہ پر ماحول خراب ہوا تھا۔

میرٹھ کے ہی ایک دوسرے تھانہ حلقہ موانا خرد میں بھی اپریل میں امبیڈکر کے مجسمہ کو توڑ دیا گیا تھا۔ 2 اپریل کو ہوئے ’بھارت بند‘ کے دوران سب سے زیادہ تشدد بھی یہیں ہوا تھا۔ مقامی صحافی رضوان میواتی کہتے ہیں کہ ’’دلتوں کے اندر اُبال ہے اور بھیم آرمی یہاں زیادہ سرگرم ہو گئی ہے۔ یقینی طور پر یہ نظامِ قانون کے لیے فکر کا سوال ہے۔ اُلدے پور میں دلت نوجوان کے قتل کے بعد بھیم آرمی میں سرگرم ہوئی تھی تو آر پی ایف کو محاذ سنبھالنا پڑا۔‘‘

اُلدے پور، موانا میرٹھ کے شمال میں، پریکشت گڑھ مغرب میں اور شوبھا پور مشرق میں ہے۔ ان تینوں سمتوں میں دلتوں میں ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ شوبھا پور سے درجنوں دلت نوجوان ہجرت کر چکے ہیں۔ یہاں ’بھارت بند‘ کے فوراً بعد ایک نوجوان دلت لیڈر کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس وقت دلت نوجوانوں کے نام والی ایک لسٹ بہت مشہور ہوئی تھی۔

دلت لیڈر دھن پرکاش جاٹو کے مطابق یہاں دلتوں کے استحصال کا عمل چل رہا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جمہوری طریقے سے عوام نے ووٹ دے کر سنیتا ورما کو اپنا میئر منتخب کیا ہے لیکن میونسپل کے افسران انھیں بیٹھنے کے لیے کرسی نہیں دیتے، ان کے فون ریسیو نہیں کرتے۔ وہ ہر جگہ شکایت کر چکی ہیں۔ کیا ایسا صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ وہ دلت ہیں! ویڈیو میں ان کے شوہر لوگوں کو سمجھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں لیکنپولس نے انھیں راسوکا میں بند کر دیا ہے! کیا یہی انصاف ہے!

میرٹھ کے سردھنا، کھرکھودا اور پھلاودا میں بھی دلتوں پر مظالم کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ میرٹھ، سہارنپور جیسے حالات بن رہے ہیں۔ میرٹھ کے آئی جی راج کمار کا کہنا ہے کہ ’’پولس نے ہر معاملے میں سخت کارروائی کی ہے اور پولس آگے بھی سخت کارروائی کرے گی۔ دلت کسی بھی طرح سے خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔‘‘ لیکن دلتوں پر جس طرح سے مظالم ہو رہے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے اس طبقہ کے لوگوں کا خون اُبال پر ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی پربھو دیال والمیکی کا کہنا ہے کہ دلت سماج میں زبردست مایوسی کا ماحول ہے۔ دلتوں کو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے دہلی اور لکھنؤ دونوں جگہ موجود حکومتوں نے ان پر ہو رہے ظلم سے آنکھیں موند لی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول