ڈاکٹر موت کا اعلان کسی بھی وقت کر سکتے تھے، بورس جانسن

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی علالت کے بعد دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بیماری کی شدت کو بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق کووڈ انیس کے علاج کے دوران کچھ بھی ممکن تھا۔

ڈاکٹر موت کا اعلان کر سکتے تھے، بورس جانسن
ڈاکٹر موت کا اعلان کر سکتے تھے، بورس جانسن
user

ڈی. ڈبلیو

اخبار 'سن آن سنڈے‘ کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ جب کووڈ انیس کے شدید ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تو ان کی کیفیت کے تناظر میں معالجین ان کی موت کا اعلان کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو گئے تھے۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے جانسن میں بیماری کی شدت دیکھتے ہوئے انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کر دیا تھا۔ وہ اس وارڈ میں تین دن رکھے گئے تھے۔

کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ بورس جانسن نے اپنی علالت کے حوالے سے تفصیلاً اپنے احساسات اور بیماری کے دوران کی کیفیت کو بیان کیا۔ اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے پاس اسٹالن کی رحلت کے بعد کی صورت حال جیسی حکمت عملی موجود تھی۔ اسٹالن سابقہ کمیونسٹ طاقت سوویت یونین (موجودہ روس یا رشیئن فیڈریشن) کے تیس برس سے زائد تک سپریم لیڈر رہے تھے۔


انٹرویو میں جانسن کا کہنا تھا کہ وہ اس سے انکار نہیں کرتے کہ بیماری کے یہ ایام ان کی زندگی کے سب سے مشکل دن تھے اور ایسے میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹروں نے ان کی طبیعت بگڑنے اور قابو سے باہر ہونے کی صورت میں تمام انتظامات مکمل کر رکھے تھے۔

پچپن سالہ برطانوی وزیر اعظم رواں برس ستائیس مارچ کو کووڈ انیس نامی وبائی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے اس مرض کو سنجیدہ نہیں لیا اور معمول کے امور خود کو آئسولیشن میں رکھ کر نمٹاتے رہے۔ لیکن ایک ہفتے کے بعد ان کی بیماری نے شدت اختیار کر لی اور انہیں پانچ اپریل کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ہسپتال پہنچانے کے چوبیس گھنٹوں کے بعد ان کی بیماری نے مزید زور پکڑ لیا اور سینیئر معالجین نے انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں منتقل کر دیا۔


بورس جانسن کو انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں مسلسل آکسیجن بھی فراہم کی گئی تھی۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں بارہ اپریل کو ہسپتال سے جانے کی اجازت دی گئی۔ اُس وقت بھی انہوں نے کہا تھا کہ ہسپتال میں زندگی اِدھر سے اُدھر ہو سکتی تھی۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ علالت کے دوران انہیں کسی بھی وقت احساس نہیں ہوا کہ وہ بیماری کے ہاتھوں مر بھی سکتے ہیں۔ ہسپتال سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ پہنچنے کے بعد کچھ دن آرام کر کے اب وہ دوبارہ منصب وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔

اخبار 'سن آن سنڈے‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بورس جانسن نے جذباتی انداز میں بیماری کے دوران کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل علیل رہنے کی وجہ سے بیزار ہونے لگے تھے۔ برطانوی وزیر اعظم نے صحت یابی کے بعد ملکی نیشنل ہیلتھ سروس سے منسلک ڈاکٹروں کو پرزور الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت ہزاروں افراد کو بیماری سے نجات ملی ہے۔


بورس جانسن کی صحت یابی اور ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک ہی دن بعد ان کی بتیس سالہ پارٹنر کیری سائمنڈ کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی۔ جانسن اور سائمنڈ نے اپنے بیٹے کا نام 'وِلفریڈ لاری نکولس جانسن‘ رکھا ہے۔ یہ نام ہسپتال کے ان دو ڈاکٹروں کے نام پر ہے جنہوں نے وزیر اعظم کا علاج کیا تھا۔ ان دونوں ڈاکٹروں کے نام نِک پرائس اور نِک ہارٹ ہیں اور یہ متعدی امراض کے مشہور معالجین ہیں۔ مغربی دنیا میں نِک اصل میں نکولس کا مخفف ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔